خود فریبی سی خود فریبی ہے ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

ایک وقت آتا ہے جب انسان بالکل کنفیوز ہو کر یہ سوچتا ہے کہ  کیا حقیقت ہے ؟اور کیا فریب ؟۔ دراصل تقلید نے ہمیں اس سارے دھوکہ میں ڈبویا ، اندھی تقلید ، مادہ پرستی اور کیا کیا ۔ اب معاملہ اتنا بڑھ گیا ہے اور پیچیدہ نظر آ رہا ہے کہ  کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ  سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ ہر طرف پریشانی ہی پریشانی ، دُکھ ہی دُکھ، ہر صبح اندھیری اور ہر ہی شام غمگین ۔
۲۰۰۶ میں یہاں امریکہ میں نیل برگر نامی ایک شخص نے the illusionist نامی ایک فلم بنائی  ۔ یہ فلم دراصل کسی حد تک ایک لکھاری اسٹیون ملہیزر کی شارٹ اسٹوری ؛
Eisenheim the illusionistپر مبنی ہے ۔ فلم کا نام بھی اسی لیے ایسا ہی رکھا گیا ہے ۔ یہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ بہت ہی خوبصورت انیسویں صدی کا ویانا اور کیا زبردست عشق کیا حسین نظارے ۔اس فلم میں مرکزی کردار ایک جادوگر کا دکھایا جاتا ہے جو اپنا بچپن کا عشق جس لڑکی سے کرتا ہے وہ ڈچیس بن جاتی ہے ویانا کے ولی عہد کی بیوی ۔ اور ایم بی ایس کی طرح وہ بھی اسے مار کر قاتل ولی عہد مشہور ہو جاتا ہے ۔
ایزنہیم جادوگری میں کمال کے کرتب دکھاتا ہے ۔ پہلے تو وہ کہتا ہے کہ  اس نے وقت پر قابو پا لیا ہے اور وہ اب اسے کنٹرول کرتا ہے ۔ اسٹیج پر ایک بیج سے گملے میں ایک کینو کا پودا اگاتا ہے اور سب کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے اسے کینو لگتے ہیں اور وہ تماشیوں میں بانٹتا ہے ۔ اسی ہی اسٹیج پر جب وہ ڈچیس کو ایک انوکھے تجربے کے لیے بلاتا ہے تو اسے پتہ لگتا ہے کے وہ تو وہی لڑکی ہوتی ہے جس سے وہ بچپن میں عشق کرتا تھا ۔


اسی دوران ایزنہیم اپنے کرتبوں میں مزید ترقی کرتے کرتے مرے ہوئے لوگوں کی روحیں اسٹیج پر بلانا شروع کر دیتا ہے ۔ اسی دوران ایک تو ولی عہد کو اینزہیم کے ملکہ کے ساتھ عشق کا علم پڑتا ہے اور دوسرا ولی عہد کو ایزنیہم کو بے نقاب کرنے کا شوق چڑھتا ہے ۔ ولی عہد اسے ایک بہت بڑا دھوکہ باز اور فراڈ گردانتا ہے ۔ ولی عہد اس کے اپنے ہی لگائے ہوئے ویانا کے پولیس چیف کو اس کے پیچھے لگا دیتا ہے ۔ ایزنہیم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ اس کے مداح تماشائی  پولیس دفتر کا گھیراؤ کر لیتے ہیں اور اوپر کھڑکی سے ایزنہیم ان سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ  اس کے پاس کوئی  سُپر نیچرل پاورز نہیں ۔ وہ ایک عام آدمی ہے اور محض کرتب کرتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس مرے ہوئے لوگوں کی روحوں کو بلانے کی طاقت ہے اور نہ کوئی  اور خاص فنکاری ۔ اس بات پر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ کاش نواز شریف بھی کوٹ لکھپت جیل کی دیوار پر چڑھ کر ۲۳ مارچ کو اپنے رہا کروانے والوں کو اسی طرح کا پیغام دے ۔ ان کو خطاب میں کہے کہ  جی اس نے پاکستان کو اربوں کھربوں کا کرپشن کا ٹیکہ لگایا جس پاداش میں وہ جیل میں وہ مشقتی کا کام کر رہا ہے ۔
ایزنہیم جیل سے نکلنے کے بعد پہلے کی طرح ملکہ سے تعلقات برقرار رکھتا ہے بلکہ دونوں کا عشق اتنا پروان چڑھتا ہے کہ  دونوں اکٹھے فرار کا راستہ تلاش کرتے ہیں ۔ جب ولی عہد کو اس کی بھنک پڑتی ہے تو وہ ملکہ سے اس بابت پوچھ گچھ کرتا ہے ۔ جس پر ملکہ مزید برہم ہوتی ہے اور اسے چھوڑنے کا عندیہ دیتی ہے ۔ جب وہ محل سے باہر دوڑتی ہے تو ولی عہد اس کا تعاقب کرتا ہے اور اس کو قتل کر دیتا ہے ۔
ملکہ کے قتل کے بعد ایزنہیم جو شو کرتا ہے اس میں ملکہ کی روح کو طلب کرتا ہے ۔ ملکہ کو سب کے سامنے لاتا ہے اور تماشائی  اس سے جب قاتل کا پوچھتے ہیں تو وہ ولی عہد کا نام بتاتی ہے جو اس وقت ادھر موجود ہوتا ہے ۔ جب باوجود پولیس چیف کے روکنے سے وہ پھر اپنے اگلے شو میں ملکہ کو بلاتا ہے تو ہال میں ہنگامہ ہو جاتا ہے ۔ اور اس دفعہ جب اسے گرفتار کرنے پولیس اسٹیج پر پہنچتی ہے تو وہ بھی ہوا میں محلول ہو جا تا ہے ۔ اس سب کچھ سے پولیس چیف کا بھی ولی عہد پر اعتبار متزلزل ہو جاتا ہے اور وہ بھی آخر کار ایک شہادت ڈھونڈ لیتا ہے جس سے ولی عہد کا ڈچیس کو قتل کرنا ثابت ہو جاتا ہے ۔ پولیس چیف جب ولی عہد کو گرفتار کرنے جاتا ہے تو ولی عہد پولیس چیف کے سامنے کنپٹی پر پستول چلا کر خودکشی کر لیتا ہے ۔
میں اکثر سب لوگوں کو کہتا ہوں کہ  ہم دراصل ایک بہت بڑے illusion میں رہ رہے ہیں ، جس کا واحد حل اپنے آپ کو قدرت کے بہاؤ یا flow میں چھوڑنا ہے ، خدارا نہ باندھیے کسی قسم کے پُل اس کے سامنے ۔ مکمل سرینڈر کر دیں اپنے آپ کو اس بہاؤ میں ، ایکہارٹ ٹالے کے now میں زندگیاں گزارنا سیکھیں ۔ سب کچھ سچ ہے اور سب کچھ جھوٹ ہے ، آپ کا اپنا معاملات کو دیکھنے کا perception یہ فیصلہ کرتا ہے ۔ جب آپ سرخ رنگ کی عینک لگا کر دنیا دیکھتے ہیں تو پوری دنیا سُرخ نظر آتی ہے ، جب سبز تو سب کچھ ہی سبز دکھائی  دیتا ہے ۔ عمران خان جو عینک لگا کر ایم بی ایس کو دیکھتا ہے اس میں وہ معصوم ہے ، دنیا جس عینک سے دیکھتی ہے اُس سے وہ جمال خشگوچگی کا قاتل ہے ۔
میں اکثر لوگوں کو کہتا ہوں کہ  میرے پاس کوئی  خاص علم نہیں ۔ ہم سب روحانی ہیں ۔ البتہ میں قدرت کے زیادہ قریب رہنے کی جستجو میں مگن رہتا ہوں جس سے مجھے چیزیں زیادہ بہتر دکھائی  دیتی ہیں اور آپ سب سے  ذرا مختلف ۔ ایزنہیم کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو اس نے بھی یہی کہا تھا کہ  وہ ایک عام آدمی ہے بس باقیوں سے تھوڑا مختلف ۔ یہ اختلاف نہیں بالکل  ایک قدرتی دین اور حُسن ہے ، اشرف المخلوقات کے لیے رب تعالی کی خاص عنایت ۔ صرف کنٹرول ، طاقت اور تقلید نے ساری نفرتیں اور سارے ہی بگاڑ اس دنیا میں پیدا کیے ۔ ایزنہیم کہتا تھا کہ  اس کے اس کھیل کو fun سمجھ کر انجوائے کیا جائے ۔ یہ جاننے کی نہ کوشش کی جائے کہ  وہ ایسا کیسے اور کیونکر کرتا ہے ؟ عین ممکن ہے کہ  ہم بھی وہ سب کچھ کر سکتے ہوں جو ایزنہیم کرتا تھا ۔
میں روز دن کو ایک کتاب پڑھتا ہوں اور رات کو سونے سے پہلے ایک فلم دیکھتا ہوں ۔ میرے علم کا سورس یہ ساری کہانیاں ہیں جو میں کتابوں اور فلموں سے لیتا ہوں اور ان کا ہمیشہ حوالہ بھی دیتا ہوں ۔ ان کو میں اپنی سمجھ کے مطابق اپنی کہانی اور مشاہدے کے ساتھ جوڑتا ہوں ۔ ہم سب کی کہانیاں بہت دلچسپ ہو سکتی ہیں اگر ہم ان میں تخلیق کے رنگ بھر دیں ۔ اگر وہ کہانیاں ہر قسم کی تقلید سے پاک ہو جائیں تو قدرت کی صورتیں بن کر پانیوں پر تیرتی نظر آئیں گئیں ۔ لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے کہ  آپ آزاد ہو جائیں اور قدرت کے قریب ترین منتقل ہو جائیں ۔ ایک بات طے ہے اور وہی حقئقت ہے کہ  یہ سب ہے بڑی خود فریبی ہے ۔ جیسے ثبات صرف اک تغیر کو ہے زمانے میں ۔ کہانیاں بدلتی رہیں گی  پہلی کہانیوں کو سچا جھوٹا گردانتی رہیں گی  ، اور ہم ہمیشہ ہمیشہ خود فریبی کے نشہ میں زندگیاں گزارتے رہیں گے ۔ شاعر باقی صدیقی صاحب نے ٹھیک ہی تو فرمایا ؛
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

بہت خوش رہیں ۔ صدا آباد رہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *