• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بک ریویو / طلسم مٹی کا (غزلیں)۔۔۔ فیروز ناطق خسرو/تبصرہ ،محمد فیاض حسرت

بک ریویو / طلسم مٹی کا (غزلیں)۔۔۔ فیروز ناطق خسرو/تبصرہ ،محمد فیاض حسرت

شاعری ، یعنی خیالات ، احساسات و جذبات کو اِس انداز سے لفظوں کی صورت دے دینا جو قاری پڑھتا جائے اور ہر ہر لفظ اُس پہ اثر کرتا جائے ۔اگر احساسات و جذبات درد و غم کی نمائندگی کر رہے ہوں تو قاری کی زباں سے بے اختیار آہ نکلے اور اگر کسی مسرت یا خوشی کی نمائندگی کر رہے ہوں تو زباں سے بے اختیار واہ نکلے ۔یہ ” آہ ” اور “واہ” کا ربط نا صرف  قاری کے ساتھ   بلکہ اُن لفظوں کے ساتھ جڑا ہو جنہیں آپ نے بیان کیا ۔ یعنی، قاری کی زباں سے ” آہ ” اور “واہ” نکلنے کے بعد اُسے معلوم پڑے کہ اُس کی زبان سے کیا ادا ہوا۔

یہ بات کہنا اور سننا تو بہت آسان معلوم ہوتی ہے پر اِس پر پورا اترنا اور اس انداز سے کہ کوئی ذرہ  برابر بھی فرق نہ ہو ، انتہائی مشکل امر ہے ۔ میرے استاذ مجھے کہتے ہیں ۔ فرض کیجیے  آپ مصور ہیں اور ایک خوبصورت مقام کی تصویر بناتے ہیں ۔ تصویر بنا کر آپ یہ دعویٰ  کر گزرتے ہیں کہ یہ تصویر عالی شان ہے جسکی مثال  یہ تصویر  خود  ہے ۔ اگر دیکھنے  والا وہ تصویر دیکھے اور وہ کوئی دلکش ، حسیں کیفیت محسوس نہ کرے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کی مصوری میں کمی ہے ۔ آپ جس مقصد کو سامنے رکھے تصویر بناتے ہیں اور آپ کے دیکھنے پر وہ مقصد خوب واضح نظر آتا ہے ۔تو یہی مقصد کسی اور کے دیکھنے پر بھی واضح نظر آئے بلکہ آپ سے بڑھ کر اُسے واضح نظر آئے ۔

یہ  سب باتیں پہلے اِس لیے بیان کیں  کہ ” طلسم مٹی کا ” مطالعہ کرتے ہوئے کئی بار میری زباں سے بے اختیار آہ نکلی اور کئی بار واہ۔ ۔اور بات بیاں کرنے کا مقصد مجھ پہ بھرپور واضح ہوتا  رہا ۔
شاعری ،اور پھر اِس کی صنف ” غزل” جو سخنوروں کو  اور مجھے عزیز    ہے ۔کتاب ” طلسم مٹی کا ” غزلوں  پر  مشتمل ہے۔اِ ن غزلوں سے چند اشعار پیشِ خدمت کیے جاتے ہیں ۔یقین جانیے اس کتاب سے اشعار منتخب کرتے سمے میں بڑے امتحان سے گزرا ہوں کیونکہ 70 سے زائد اشعار میں نے منتخب کیے اور پھر تحریر کی طوالت کو دیکھتے ہوئے ان میں سے صرف 19اشعار منتخب کیے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میں اس امتحان میں کامیاب ہوا ہوں یا نہیں ؟ اِس کا فیصلہ مصنف اور قاری حضرات کے ہاتھ میں ہے ۔

کچھ تو ہی بتا، نامِ خدا یاد سے تیری
غافل کبھی اے یارِ طرحدار ہوا میں

میں یوسفِ ثانی نہ زلیخا نہ وہ دربار
کیاسوچ کے رسوا سرِ بازار ہوا میں

خود اپنا بوجھ آپ اٹھائے ہوئے پھروں
ہو گی کبھی تو گردشِ چرخ ِ کہن تمام

حریصِ خاکِ کفِ پائے بو تراب ہوں میں
جبیں پہ نقش ہے خسرو یہ اسم مٹی کا

ساحل پہ کھڑا ہے وہ اسی سوچ میں ڈوبا
کیوں مجھ سے گلے آ کے سمند ر نہیں ملتا

شہر میں لوگ روز مرتے ہیں
اس قدر کیوں ہے شور جنگل میں

وہ کم سخن ہے نگاہوں سے بات کرتی ہے
سو چھوڑ آئے ہم اُس کے اُطاق میں آنکھیں

بس ایک دیدہِ عبرت بریدہ سر دیوار
نہ کوئی در، نہ دریچہ، نہ ہے مکان کی چھت

مجھ کو خود بھی نہیں سبب معلوم
الجھا الجھا سا ہوں میں بس الجھا
10۔
سارے جہاں کی رونقیں کر دے اُسے عطا
مجھ کو مرے وجود کی تنہائی بخش دے
11۔
میں ڈھونڈتا رہتا ہوں سورج کو اندھیروں میں
ہیں لفظ مرے روشن ، تختی مری کالی ہے
12۔
گزرتا وقت دکھاتا ہے سینکڑوں شکلیں
رکھیں تو کیسے رکھیں یاد آپ کا چہرہ
13۔
ظلم کے باب میں خاموش نہیں رہ سکتا
میں نہ بولوں تو رگوں میں یہ لہو بولتا ہے ۔
14۔
بنالے اور بھی کاغذ کی کشتیاں، بیٹی !
ابھی تو ہوں گے کئی حادثات ، دریاہ ہے
15۔
خود اپنے بارے میں مجھکو سچ پوچھو تو علم نہیں
کیا بتلاؤں تم کو یارو ،کون ہوں، کیا ہوں، کیسا ہوں
16۔ٍ
ہے جہانِ آب و گِل بے رنگ و بو خسرو بہت
حفظ کر دیوانِ غالب، کلیاتِ میر پڑھ
17۔
غم کا سورج مری دہلیز پہ آ کر ٹھہرا
میرا سایہ مری باہوں میں سمٹ کر رویا
18۔
تجھے یہ غم کہ دروبام لے گیا سیلاب
وہ لوگ بھی ہیں یہاں جن کا گھر سمندر ہے
19۔
میں اپنے آج کو کل پر نہیں رکھتا کبھی خسرو
میں اپنے کل کو اپنے آج سے تعبیر کرتا ہوں

مجھے اِس کتاب سے بہت  کچھ حاصل ہوا ۔ مجھ پہ لازم ہے کہ میں مصنف کا شکریہ ادا کروں ۔ خدا خسرو صاحب کو لمبی عمر، صحت و تندرستی و خوشیوں کے ساتھ سلامت رکھے ۔ آمین

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *