دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کُھلا۔۔۔۔اظہر سید

gکہتے ہیں آئین پر چلیں گے ،قانون کی پاسداری ہو گی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ،ہمیں اعتبار نہیں کیوں کریں ہم یقین جو کچھ پہلے ہوتا تھا وہی کچھ تو ہو رہا ہے کچھ نیا ہوتا تو شائد مان لیتے ،جنرل ایوب تھا چیف آف آرمی سٹاف تھا پھر وزیر دفاع بھی بن گیا جس صدر سکندر  مرزا نے وزیر دفاع بنایا تھا اس کو فارغ کر دیا اور صدر مملکت بن گیا بونس میں فیلڈ مارشل ،بلا کا چالاک تھا غیر آئینی اقتدار کی امریکی اور عالمی توثیق کیلئے بڈ بیر کا اڈہ دے دیا کہ کرو روسیوں کی جاسوسی مجھے اقتدار میں رہنے دو اور انہوں نے اقتدار میں رہنے دیا بدلہ میں تین دریا بھارت کو فروخت کرا دئیے ،چین بھارت جنگ میں چینی کہتے رہے کہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا کشمیر کی طرف جب مغرب نے چین سے مقابلہ کیلئے بھارتی اسلحہ خانوں کو جدید ترین اسلحہ سے بھر دیا اور بھارت چین سے فارغ ہو گیا تو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے  آپریشن شروع کر دیا اور 1965 کی جنگ بھگت کر مرد مجاہد بھی بن گیا اور جب یحیی خان نے فارغ کیا اسد عمر اور زبیر عمر کے ابو جنرل عمر کے ساتھ مل کر تو اس نئے صدر نے بھی ساتھ ہی آئین کو بھی لپیٹ  دیا ۔
جنرل ضیا کمال کا کایاں اور بلا کاعقلمند تھا ،بھٹو کو فارغ کیا تو پوری قوم کے ساتھ خدا کو گواہ بنا کر وعدہ کیا کہ تین ماہ کے اندر الیکشن کرواوں گا اور اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپ دوں گا ،مکر گیا، بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر بھی چین نہیں آیا بینظر کے پیچھے پوری ریاستی مشنری لے کر چل پڑا ،اقتدار کی امریکی اور عالمی توثیق کیلئے پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں دھکیل دیا اور پورا خطہ آج تک اس جنگ میں جل رہا ہے ،آج روس کو سی پیک کے تحت گرم پانیوں تک رسائی دی جا رہی ہے تو کیا اس وقت نہیں دی جا سکتی تھی افغانستان بھی بچ جاتا اور پاکستان بھی اور پھر اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا اللہ تعالی کے پاس بھیجنے میں  کچھ اپنے قریبی ساتھیوں نے بھی مدد کی آج جنت کے نہ جانے کونسے مقام پر ہے۔
جنرل مشرف ؛ پوری قوم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وردی اتار دوں گا پھر مکر گیا کہ وہ تو محض ایک بات تھی ۔اپنے اقتدار کی امریکی اور عالمی توثیق کیلئے امریکیوں کو افغانستان پر حملہ کی اجازت دی اور قوم کو دھوکہ دیا کہ امریکی ہمیں پتھر کے دور میں پھینک دیں گے ، جبکہ امریکیوں نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنے کیلئے ڈیلٹا فورس بگرام افغانستان میں تعینات کردی اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر خوفناک پاکستانی طالبان مسلط کر دیے اور ہم بھگت رہے ہیں ،پوری قوم بھگت رہی ہے ۔
آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں ، بینظر اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کیا تو نئی سیاسی جماعت کھڑی کر دی اور نیا لیڈر بھی بنا دیا ،سی پیک پر دستخط کیلئے چینی صدر نے پاکستان آنا تھا عظیم دھرنہ شروع ہو گیا اور تشدد سے منتشر کرنے سے منع کر دیا اور آج سی پیک کو کوئی نقصان نہ پہنچنے دینے کے دعوے۔۔ واہ بھئی واہ ،دو ارب روپیہ کی 30 سال پرانی کرپشن کے نام پر حصص بازار میں 50 ارب ڈالر ڈبو دیے اور اب بھولے سے بھی کوئی حصص بازار میں آنے کا نام نہیں لیتا ۔ کیا بات ہے آئین اور قانون کی ۔ فیض آباد دھرنے میں پولیس کاروائی کی کامیابی کیلئے کردار ادا نہیں کیا اپنے لوگ کہہ کر ہزار ہزار روپیہ کے لفافے دیے ، معاہدہ کی ضمانت دی اور جن بوتل سے نکال دیا ۔آج یہ جن بوتل سے نکل آیا ہے اور آسیہ بی بی کی عدالتی بے گناہی پر فوج کو اپنے سربراہ کے خلاف بغاوت کے احکامات دے رہا ہے ۔بوتل سے نکلا جن فیصلہ دینے والے ججوں کے قتل کا حکم بھی جاری کر رہا ہے ۔
اس ملک میں صرف ایک ادارہ باقی بچا ہے جو ملکی سالمیت کے تحفظ کی ضمانت ہے ۔پاک فوج کو روائتی جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں ملک دشمن قوتیں غیر روائتی جنگ لڑ رہی ہیں اور ادارہ کے بعض بقراط اپنی ناقص حکمت عملیوں سے ملک دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔پاکستان کی مسلح افواج ملکی سالمیت کی ضمانت ہیں لیکن ادارے کے بقراط اس فوج کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں متنازعہ بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔مولوی خادم حسین کا ملک گیر دھرنہ بظاہر آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلہ کے خلاف تھا لیکن اس کا نشانہ فوج اور عدالتیں بنی ہیں اور خوفناک بات یہ ہے اس دھرنے کا مرکز پنجاب تھا جو فوج کی طاقت کا بھی مرکز ہے ۔نواز شریف  آپریشن کامیاب ہو گیا لیکن پنجاب کے بعض شہروں میں فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف سرعام نعرے بھی لگ گئے تھے ۔جس احمد شاہ رنگیلا کو وزارت عظمی کے منصب سے سرفراز کیا ہے اس نے قوم کے نام خطاب میں پوری دنیا کو جتلا دیا کہ دھرنے والے مجھے نہیں بلکہ فوج اور عدالتوں کو قصور وار سمجھ رہے ہیں ۔
فیصلہ کریں اور جلد کریں اس ملک کو ہجوم اور مذہبی جذبات کے ذریعے چلانا ہے یا ریاست کی رٹ برقرار رکھنا ہے اور اپنے شہریوں کو تحفظ دینا ہے ۔ سڑکوں پر گاڑیاں جلائی جاتی ہیں ۔آٹو انڈسٹری نان فائلر کو گاڑیاں فروخت کرنے کی پابندی سے ڈوب رہی ہے ۔حصص بازار ڈوب چکا ہے ۔رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سناٹا چھا گیا ہے اور رنگیلا بادشاہ سعودی عرب اور چین میں سرمایہ کاری کانفرنسوں میں چلاتا پھرتا ہے میرے ملک میں کرپشن ہے ،میرے ملک میں منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور تقریروں کے آخر میں کہتا ہے میرے ملک میں سرمایہ کاری کرو ۔جن لوگوں نے اس بادشاہ کو مسلط کیا ہے کیا وہ اسے ایک تقریر نویس نہیں دے سکتے ۔ظلم کی انتہا یہ ہے کرپشن کا ملک کے اندر اور باہر چورن بیچنے والا اپنی سگی بہن کی اربوں روپیہ کی دوبئی پراپرٹی کا بھولے سے بھی جواب نہیں دیتا ۔
رنگیلا بادشاہ ماضی کے احمد شاہ رنگیلا کی طرح اپنی فوج کو رسوا کر رہا ہے اور کسی نادر شاہ کو موقع دے رہا ہے ۔نادر شاہ نے جب ہندوستان پر حملہ کیا برصغیر کے بڑے حصہ پر ٹھگ پیدا ہو چکے تھے قافلے غیر محفوظ ہو چکے تھے موجودہ بادشاہ کی حکومت میں بھی مسافر غیر محفوظ ہو چکے ہیں ۔انہیں سڑکوں پر مار دیا جاتا ہے لوٹ لیا جاتا ہے ۔بنارسی ٹھگ توانا پاکستان پروگرام میں بچوں کے دودھ اور بسکٹ پی جانے والی ملزمہ کو ماضی کی لوٹ مار پر کچھ نہیں کہتے بلکہ وفاقی وزیر بنا دیتے ہیں  ۔الیکشن کمیشن میں چار سال سے اپنے غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے سے بھاگ رہے ہیں ۔اپنے ناجائز گھر کی قانونی تاویلات دیتا ہے اپنی اے ٹی ایم مشینوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا لیکن دن رات کرپشن اور منی لانڈرنگ کے نعرے لگاتا ہے ۔
اس شہر اسلام آباد میں بڑے بڑے رپورٹر پیدا ہوئے ہیں کیا سب سو چکے ہیں ؟کوئی جائے وزارت پیٹرولیم کے کسی  متعلقہ افسر کو کھانا کھلائے ،کسی اسٹنٹ یا کلرک کے چند مالی مسائل حل کرے یا کوئی مخبر پیدا کرے اور پوری قوم کو بتائے کتنے بڑے چور مسلط ہو گئے ہیں ۔کس مہارت اور ہنر مندی سے کم قیمت ایل این جی کی درآمد کم کر دی گئی ہے اور مہنگے فرنس آئل کی درآمد بڑھا دی گئی ہے ۔اب ایل این جی کے نو روپیہ یونٹ کی بجائے 14 روپیہ یونٹ بجلی بنے گی اور چوروں کے پیٹ پھر بھی نہیں بھریں گے ۔شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی عباسی کا خطاب دے کر چپکے چپکے ڈاکہ مارا جا رہا ہے کوئی قوم کو بتائے اس موسم سرما میں گھروں میں چولہے نہیں جلیں گے اور ماضی کی طرح لکڑیاں جلانا پڑیں گی یا پھر گیس سلنڈر ۔جن شعبوں کو کم قیمت ایل این جی دی جاتی تھی انہیں اب ملکی گیس دینا پڑے گی یا پھر فرنس آئل ۔ٹیکسٹائل والوں نے تو چیخ و پکار شروع بھی کر دی ہے کہ انہیں وعدہ کردہ قیمت پر گیس فراہم نہیں کی جا رہی اور دوگنا بل بھیج دیے گئے ہیں ۔روپیہ کی قیمت میں کمی سے برآمدات بڑھنے کی جو امید تھی وہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مہنگی گیس کی فراہمی سے ختم ہو چکی ہے لیکن تمام چیتے رپورٹر اور اینکرز سو چکے ہیں انہیں اپنی نوکریوں کی فکر لاحق ہو چکی ہے کون سچ بتائے گا کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ۔
اس ملک پر رحم کریں ۔رنگیلے بادشاہ کو کہیں تمام سیاسی قوتوں کے  ساتھ مل کر میثاق معیشت کرے ۔ریاست کی رٹ بحال کرنے کیلئے قومی اتفاق رائے قائم کریں ۔ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں ۔تمام سیاسی جماعتیں رنگیلے بادشاہ سے درخواست کریں تم پانچ سال حکومت کرو اور آئینی ترامیم کرو تاکہ کوئی ادارہ تمہیں بلیک میل نہ کر سکے ہم تمہاری حکومت گرانے میں کسی کی مدد نہیں  کریں گے ۔جو سلسلہ چل رہا ہے چلتا رہا تو خدا اس ملک پر رحم کرے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *