ٹوائلٹ ۔۔۔۔ ایک تبدیلی کتھا

سن 1992 ء میں میرا ملک ورلڈ کپ جیتنے کی اور میرے گھر والے میری پیدائش کی خوشیاں منا رہے تھے۔ جب آنکھ کھلی تب تو کوئی ہوش نہ تھا لیکن جب ہوش سنبھالا تو یہ جانا کہ میری پیدائش   ایک ایسے گاؤں میں ہوئی ہے کہ جس کی طرف کوئی پکی سڑک نہیں جاتی۔ گیس کی تو بس شکایت ہی ہوتی تھی البتہ جلانے والی گیس کے بارے صرف سن رکھا تھا۔ گھروں میں گوبر کے اپلے بطور ایندھن استعمال کیے جاتے تھے۔ کیا ہی اچھا زمانہ تھا کہ اس وقت اپلے ایک روپے کے چار مل جاتے تھے لیکن آج تو پانچ روپے کا بھی ایک نہیں ملتا۔ بجلی آ چکی تھی۔ گھر بھی کچی پکی اینٹوں کے بنے ہوئے تھے۔ کچی پکی اینٹوں کے گھر بنے ہونے کے باوجود گاؤں کے تقریبا ًًً پچاس فیصد گھروں میں ٹوائلٹس بنے ہوئے تھے۔ جن کے گھروں میں ٹوائلٹ نہیں بنے تھے وہ لوگ یا تو باہر کھیتوں کو جاتے تھے یا مسجد کو۔ لیکن ساتھ وہ بھی جاتے تھے جن کے گھروں میں ٹوائلٹ بنے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیٹرین میں بیٹھنے سے ان کا پیٹ اچھی طرح ہلکا نہیں ہوتا اس لیے باہر کو آنا ہی پڑتا ہے۔

ہمارا گھر بھی ان بقیہ پچاس فیصد والوں میں سے تھا جن کے گھر لیٹرین نہیں بنی تھی۔ صبح اٹھتے ہی زیادہ تر لوگ مسجد کا رخ کرتے تھے اور ہم باہر کھیتوں کا کیونکہ مسجد میں صرف دو ہی ٹوائلٹس تھے اور ان کے باہر بھی لمبی لائن لگی ہوتی تھی۔ ٹوائلٹ بھی ایسے تھے کہ جیسے آج کل کے سروس اسٹیشن ہیں۔ اس کو بھی دروازہ تو کوئی لگا نہیں ہوتا تھا بس ایک ہی تین فٹ کا تختہ ہوتا تھا جس کو اٹھا کر دروازے کی جگہ پہ رکھا جاتا اور باہر نکلتے وقت وہی تختہ پھر اٹھا کر سائیڈ پہ کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ جیسا بھی تھا لیکن رہی سہی عزت بچانے کو کافی ہوتا تھا لیکن بعض اوقات دروازہ وزنی ہونے اور جلدی کے سبب گاؤں کے بزرگوں کی عزت سرعام نیلام ہو ہی جایا کرتی تھی۔ اگر کوئی پیٹ کا مریض زیادہ وقت لگاتا تو اس کو باہر سے آوازیں دی جاتیں یا اس کو دروازے کے اوپر سے جھانک کر مخاطب کر کے کہا جاتا کہ بھائی آ جاؤ باہر۔ نماز کا وقت گزر رہا ہے۔ دل سے کوئی نمازی تھا یا نہیں لیکن لیٹرین ہونے کی وجہ سے مسجد میں نمازیوں کی تعداد صبح اور شام کو کچھ زیادہ ہی ہوتی تھی۔

کھیتوں میں جانے والوں کا حال بھی اتنا اچھا نہ ہوتا تھا۔ حالانکہ انسانوں کے دم نہیں لگی ہوتی لیکن سب ہمیشہ دم دبا کر ہی کھیتوں کی طرف دوڑتے تھے۔ اور جب کھیت میں داخل ہوتے تو پورے کھیت سے نامعلوم افراد کے کھانسنے کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی تھیں۔ یوں کبھی کبھار ہمیں جگہ مل جاتی اور بعض اوقات گھر سے مار بھی کھانا پڑ جاتی تھی۔ ہمارے گاؤں کے باہر مغرب کی جانب سڑک پہ تین چھوٹی پلیاں بنی ہوئی ہیں جس کو ہم بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پلی (چھوٹا پل) کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ تینوں پلیاں سیلاب کی ممکنہ آمد کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھیں۔ کھیتوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے جیسے چھوٹے بچے پلی کے نیچے ہی ہلکا ہونے چلے جایا کرتے تھے۔ سال بعد سیلاب آتا اور فصلوں کی تباہی کے ساتھ ایک اچھا کام یہ کرتا کہ ان پلیوں کے نیچے لگے ڈھیڑوں کو ساتھ بہا لے جاتا۔

سن 2000 ء میں جب ہم کوئی دوسری کلاس میں تھے۔ تب سکول میں طوطا مینا کے پمفلٹ بمع تصویروں کے بانٹے گئے۔ جس میں بچوں کو صفائی ستھرائی اپنانے اور گھر میں لیٹرین بنانے کی ترغیب دلائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی پہ طوطا مینا کی کہانی کارٹونز کی صورت میں دکھائی جانے لگی۔ حکومت پنجاب کی لوکل گورنمنٹ کی اتنی کاوش سے ہمارے گاؤں کے بقیہ پچاس فیصد لوگوں نے بھی گھروں میں ٹوائلٹس بنا لیے تھے۔ اس کے علاوہ خباقاعدہ صفائی ستھرائی کی مہم بھی شروع ہوئی جو کہ سرکاری افسروں کی عدم توجہی کے باعث بہت جلد کھڈے لائن لگ گئی تھی۔

ہمارا گاؤں جو کہ ضلع سیالکوٹ کا تقریباً  آخری گاؤں ہے۔ جہاں پہ سال پہلے کوئی سڑک بھی صحیح نہیں بنی ہوئی تھی۔ وہاں پہ یہ عالم ہے کہ سن 2000 ء میں ہر گھر میں ٹوائلٹ تھا اور اب ہر گھر میں تقریباًًً  دو یا تین ٹوائلٹس بنے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیروں اور فٹبال سنٹرز پہ بنے ہوئے ٹوائلٹس بطور پبلک ٹوائلٹ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ان کی صفائی ستھرائی کے لئے ایک بندہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ گاؤں میں سیاسی عدم استحکام ہوتے ہوئے بھی گاؤں کی ساری گلیاں اور نالیاں پکی ہیں۔ جو کہ گاوں والوں نے لوکل گورنمنٹ کی مدد سے بنائی ہیں۔ ابھی حال ہی میں پچھلی حکومت نے ڈمپنگ سائٹس بھی بنائی ہیں۔ جو کہ نون لیگ حکومت نے اپنے آخری ایام میں بنائی تھیں۔

جب ایک ایسے گاؤں میں ٹوائلٹ کی کمی نہیں، گلیاں اور نالیاں پکی ہیں اور ڈمپنگ سائٹس بنی ہوئی ہیں تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر کونسا مشیر عمران خان صاحب کو دیگر مسائل سے الجھا کر یہ بات بتا رہا ہے کہ ہمارے ملک میں ٹوائلٹس کی کمی ہے۔ ہمارے ملک میں صفائی ستھرائی کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ کسی جگہ پہ ایسا مسئلہ ابھی زیر غور ہے تو یہ کام لوکل گورنمنٹ کے کرنے کا ہے نہ کہ پرائم منسٹرز کا۔

سیالکوٹ شہر کی بات کریں تو یہاں کوڑا کرکٹ تو ہو سکتا ہے لیکن ٹوائلٹس کی کمی یہاں بھی نہیں ہے۔ ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تو یہاں پٹرول پمپ ہیں اور تقریبا ًًً ہر پٹرول پمپ پہ ایک دو ٹوائلٹ ضرور بنے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ بنے ہوٹلوں میں بھی ٹوائلٹ بنے ہوئے  ہیں جو کہ پبلک ٹوائلٹس کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔ سیالکوٹ جناح سٹیڈیم کے راستے پہ دو سرکاری ٹوائلٹس بنے ہیں جس پہ میاں برادران کی تصویریں ہر وقت پہرہ دیتی ہیں۔ کوڑاکرکٹ بھی اتنا نہیں ہوتا جو جمع ہوتا ہے وہ ٹی ایم اے والے لوگوں کے صبح اٹھنے سے پہلے ہی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔

ڈالر آج 137 روپے کا ہو گیا ہے لیکن ہمارے پرائم منسٹر صاحب کو اپنے لوٹوں کی فکر لاحق ہے۔ ملکی معیشت دن بدن نیچے جا رہی ہے، بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھا دی ہیں لیکن پھر بھی لوگوں سے دس دس روپے مانگنے پہ لگے ہوئے ہیں۔ پچھلے دو دن سے سیالکوٹ میں ڈکیتی کی تقریبا ًًً  دس وارداتیں ہو چکی ہیں اور پورے ملک میں نا جانے کتنی ہو گئی ہیں۔ لیکن کسی کو کوئی پرواہ تک نہیں۔ پچھلی حکومت میں کم ازکم وارداتوں پہ تو کنٹرول ہو ہی گیا تھا۔ تبدیلی کے نام پہ ہم نے ووٹ تو ڈال دیا تھا لیکن کیا پتا تھا کہ تبدیلی کے اس کور کے اندر بھی وہی لالی پاپ ہے جوکہ پچھلی حکومتیں عوام کو دیتی آئی ہیں۔

سیٹھ وسیم طارق
ھڈ حرام ، ویلا مصروف، خودغرض و خوددار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *