سیاست میں بوٹوں کی چاپ!

پاکستان کے سیاسی حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا تو فضول کام ہے کیوں کہ پاکستانی سیاست کتے کی وہ دم ہے جو 69 سال نلی میں رکھنے کے باوجود کبھی سیدھی نہ ہو سکی اور امید واثق بھی یہی ہے کہ کبھی سیدھی نہ ہو گی لیکن پھر بھی ۔۔۔پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔ پانامہ لیکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن حکومتی نا اہلی اور اپوزیشن کی غلط چالیں ان دونوں کو کھیل کے میدان سے باہر کر سکتی ہیں اور کسی تیسرے کی آمد کا شاخسانہ بننے کے حالات پیدا کرتی جا رہی ہیں ۔کچھ زیرک سیاستدانوں اور تجزیہ نگاروں کو بوٹوں کی چاپیں قبل از وقت ہی سنائی دینے لگ جاتی ہے جوکہ اچھی بھلی سوئی ہوئی قوم کی نیند میں اویں ہی خلل ڈالنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ان کی انہی حرکتوں نے قوم کا اعتماد سیاستدانوں اور میڈیا دانشوروں سے اٹھا دیا ہے، قوم کو اب اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ سب الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے یہاں کچھ نہیں ہونے والا لیکن میری رائے میں سیاسی حالات جس قدر بھی کشیدہ ہو جائیں یا اگلے الیکشن کا نقارہ قبل از وقت بجا بھی دیا جائے اور ان کے بعد بھی اہلیان سیاست کسی نتیجہ پر نہ بھی پہنچ پائیں تب بھی مجھے بوٹوں کی یہ چاپ سنائی نہیں دیتی جس کی وجہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہوا عالمی منظر نامہ ہے ۔ یہ تو مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی سول ملٹری بیوروکریسی ہو یا سیاستدانوں کا چھتہ ان سب میں عالمی کھلاڑیوں کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہوتا اور یقینا یہ کھلاڑی اب بھی تمام حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں گے ۔ پاک چائینہ اکنامک کاریڈور بلاشبہ پاکستانی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن چین کے لیے بھی یہ منصوبہ دنیا کی چودھراہٹ والے خواب کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے دوسری طرف امریکہ کی افغانستان میں ہونیوالی چھترول سے نجات کے لیے پاکستان میں جمہوریت کا ہونا لازم و ملزوم ہے ۔ یہ بات بھی کسی حقیقت سے کم نہیں کہ پاکستان اپنا قبلہ مرشد سمیت تبدیل کر چکا ہے اور اب کی بار ہماری قومی تقدیر کے فیصلے واشنگٹن کی بجائے بیجنگ میں ہی ہوا کریں گے۔
افواج پاکستان بھی چین کے شانہ بشانہ اس تاریخی منصوبہ کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے کمر بستہ نظر آتی ہے اسکے ساتھ ہی افغان پالیسی میں جس تیزی کے ساتھ تبدیلی واقع ہوئی ہے اور اس سے خطے میں پاکستان کو درپیش چیلنجز سے بھی پوری طرح آگاہ ہے ۔دوسری طرف پاکستان کے اندرونی حالات دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن اور غیرملکی دوستوں کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں ثواب کا کام سمجھتے ہوئے مداخلت نے فوج کی ذاتی مصروفیات کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ انکے پاس سر کجھانے کے لیے ذرا بھی وقت نہیں رہا ۔ اس ساری صورتحال کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد کہ پاکستانی افواج سیاست کے اس کیچڑ میں اس دفعہ نا تو چھلانگ لگائیں گے اور نہ گرد و نواح میں اس قسم کی بیوقوفی کرنے کے لیے حالات سازگار ہیں اور رہی بات عالمی مرشدوں کی طرف سے اسطرح کی اجازت دی جائے گی کہ ایک دفعہ پھر خطہ میں پاکستانی قوم کے خون سے انقلاب برپا کیا جائے بلکہ سیاسی حالات کو دھمکی آمیز فون کالز سے سدھارنے کی کوشش کی جائے گی ۔

Avatar
مبشر ایاز
مکینکل انجینر ،بلاگر،صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *