ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے۔۔۔۔زاہد آرائیں /قسط5

زمین۔۔ Earth ۔۔دوسرا حصّہ۔۔

زمین کے کرۂ ہوائی  کی بنیادی پرتیں۔
کرۂ متغیرہ
کرۂ متغیرہ (Troposphere)، کرۂ ہوا کی سب سے نچلی پرت ہے۔ یہ زمین کی قریب ترین فضائی پرت ہے۔ یہ پرت یا کرہ زمینی سطح سے شروع ہوتی ہے اور شمالی و جنوبی قطبین سے تقریباً 9 کلومیٹر (30،000 فٹ) کی بلندی تک جبکہ خط استوا سے 17 کلومیٹر (56،000 فٹ) کی بلندی تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ زمین کی سطح سے منتقل ہونے والی توانائی سے گرم رہتی ہے اور نیچے سے اوپر جاتے ہوئے یہاں درجہ حرارت میں بھی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ نیچے سے اوپر تک درجہ حرارت میں 17 ڈگری سینٹیگریڈ سے لیکر 52– ڈگری سینٹیگریڈ تک کی کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اِس پرت کا کمیتی وزن کُل کرۂ ہوا کا 80 فیصدی کمیتی وزن ہوتا ہے یعنی گیسوں کی اکثریت اِسی پرت میں پائی جاتی ہے۔ اِس کرہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اِس میں موسمی تبدیلیاں خُوب واضح ہوتی ہیں اور اِسلئے اِسے موسمی پرت بھی کہتے ہیں۔ بادل، بارش اور ہوا – اِن سب کا تعلق اِسی پرت سے ہے۔
کرۂ قائمہ
کرۂ قائمہ ( Stratosphere)، کرۂ ہوا کی دوسری پرت ہے۔ اس کی بالائی فضاء میں اوزون ایک چھَلنی کے طور پر کام کرتی ہے جو نقصاندہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ زمین کی سطح سے تقریباً 19 کلو میٹر اوپر اور 48 کلو میٹر کی بلندی تک موجود اوزون کی اس تہ میں سورج سے آتی ہوئی بالائے بنفشی شعاعیں آکسیجن کے ساتھ نورکیمیائی عمل (photochemical reaction) کر کے اوزون بناتی ہیں۔ اگر یہ بالائے بنفشی شعاعیں اس طرح یہاں خرچ نہ ہو جائیں تو یہ نیچے زمین پر پہنچ کر جانداروں میں سرطان اور نباتات کی تباہی کا باعث بنیں گی۔ اگر نباتات کو قابل قدر نقصان پہنچ جائے تو ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے لگے گی اور اثر گرین ہاؤس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔
کرہ ہوائی کی آکسیجن جب سورج سے آتی ہوئی 185 نینومیٹر طول موج والی الٹرا وائیلٹ C جذب کرتی ہے تواوزون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اوزون جب سورج کی 255 نینومیٹر طول موج والی الٹراوائیلٹ (Hartley bands) جذب کرتی ہے توٹوٹ کر دوبارہ آکسیجن بناتی ہے۔
کرۂ میانی
کرۂ میانی (Mesosphere)، کرۂ ہوا کی تیسری اور درمیانی پرت ہے۔
کرۂ حراری
کرۂ حراری (انگریزی: Thermosphere)، کرۂ ہوا کی چوتھی پرت ہے۔ مختلف پرتوں کے برعکس اس کرہ میں نیچے سے اوپر جاتے ہوئے درجہِ حرارت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِسے کرۂ حراری کہا جاتا ہے۔ اِس اُلٹ رُجحان کی وجہ دیگر گیسوں کے سالمات کی ادنا اور کم درجہ کی کثافت ہے۔ اِس پرت کا درجہِ حرارت 1،500 ڈگری سینٹگریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ اس کرہ میں گیسوں کے سالمات میں کافی فاصلہ ہوتا ہے، درجہِ حرارت حسبِ معمول کام نہیں کرتا۔
کرۂ روانیہ
کرۂ روانیہ اور کرۂ حراری کے بیچ ہوا کا ایک اور غلاف بھی ہوتا ہے جسے کرۂ روانیہ یا (Ionosphere) کہا جاتا ہے۔ اس کرہ میں آئونی مادہ شمسی اشعاع کی وجہ سے حرکت کرتا ہے۔ اس کا پھیلاؤ زمین سے 500 تا 1،000 کلومیٹر (160،000 تا 3،300،000 فٹ) کی بلندی پر ہے۔بین الاقوامی خلائی مرکز بھی اسی کرہ میں واقعہ ہے۔ اس کے کچھ حصّے کرۂ بیرونی کی سرحد سے بھی متجاوز کر بیٹھتے ہیں۔ یہ کرہ اہمیت کا حامل اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ برقناطیسی امواج، خاص طور پر مشعوی امواج، کی نشریات میں بیشمار مدد دیتا ہے۔ اس پرت میں قطبی اشفاق بھی دیکھتے ہیں۔
کرۂ بیرونی
کرۂ بیرونی (Exosphere)، کرۂ ہوا کی آخری پرت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *