مکالمہ۔ایک تعلق۔۔ مریم مجید

تقریبا سال بھر پہلے، جب لکھنے کے شوق نے سوشل میڈیا سٹیٹس یا گروپ پوسٹس سے ایک قدم آگے بڑھنے کے لئیے اکسایا تو خیال آیا کہ کیوں نہ کسی باقاعدہ ادارے میں اپنی تحاریر بھیجی جائیں تا کہ معلوم تو ہو سکے کہ آیا جو دو چار الفاظ گھڑنے کا اعجاز قدرت نے بخشا ہے ، یہ کسی معیار پر پورا بھی اترتا ہے یا نہیں؟۔
پیپر پرنٹ اخبارات و رسائل تک رسائی نہ تھی اور خواتین کے پرچوں میں بھیجنے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا کہ اگر گھر میں کسی کو خبر ہو گئی تو سال بھر کے لئیے اپنی ہنسی اڑوانے اور مذاق بنوانے کی جرات کون دکھائے؟
ایک دوست کے توسط سے کچھ آن لائن بلاگنگ سائٹس کا علم ہوا جو ای میگزینز کی طرز پہ کام کرتے ہیں۔ انہیں میں ایک ایڈریس مکالمہ کا بھی تھا۔
سچ کہوں تو اس سے قبل مجھے مکالمہ کی تحاریر پڑھنے کا کوئی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ البتہ لالٹین، دلیل وغیرہ کے بلاگز کبھی کبھار پڑھ لیا کرتی تھی۔
مکالمہ کی پالیسی پڑھی، مضامین دیکھے اور اسے سب سے غیر متعصب سائٹ پا کر فیصلہ کیا کہ یہیں قسمت آزمائی جائے تو بہتر رہے گا۔
جناب چیف ایڈیٹر محترم انعام رانا صاحب کو فیس بک پر ڈھونڈا(اور انہیں ڈھونڈنا ہرگز بھی مشکل نہیں، خاصی مشہور ہستی ہیں) اور تحریر بھیجنے کے سلسلے میں ضروری رہنمائی لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھ لیا کہ بے باک موضوع پر لکھی گئی تحریر قبول ہو سکتی ہے یا نہیں؟
دل میں خیال تھا کہ بھئی بعد میں مسترد ہونے کی شرمندگی اٹھانے سے بھلا ہے کہ پہلے ہی معلوم ہو جائے۔
انہوں نے مجھے اپنا ای میل ایڈریس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بھیج دیجئے۔ اور اپنا پہلا افسانہ انہیں بھیجتے ہوئے مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک ایسے تعلق کا ابتدائیہ ہے جو مجھے عزت ، احترام ، اور پہچان دینے کے ساتھ ساتھ ایسے دوست اور ساتھی بھی دے گا جن کی محبت ، خلوص اور دوستی پر بجا طور پہ فخر کیا جا سکتا ہے۔
تحریر تو بھیج دی، مگر کوئی خاص خوش امیدی نہیں تھی کہ اسے جگہ مل سکے گی یا نہیں ، مگر دوسرے ہی دن میرا افسانہ مکالمہ پہ موجود تھا اور مدید اعلی نے خصوصا اسے اپنی وال پر شئیر کر کے حوصلہ افزائی بھی کی۔اور یہ انہیں کے دئیے ہوئے حوصلے کا نتیجہ تھا کہ پھر یہ سفر رکا نہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکالمہ میرے لئیے ایک فیملی بن گیا اور تمام ٹیم ممبرز بہترین دوست ہو گئے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب چیف ایڈیٹر صاحب نے مجھے کہا کہ “ہر وقت فیس بک پہ چپکی ہوتی ہو، تم کو ایڈیٹر بنا دیتا ہوں، کسی کام تو لگو گی” ۔ خوشی تو بہت ہوئی مگر کیونکہ ایسے کسی کام کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا تو ڈر تھا کہ مدیر موصوف بعد میں اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہی نہ رہیں کہ بندر کے ہاتھ ماچس تھما بیٹھا ہوں۔
ڈرتے ڈرتے کہا کہ “بنا دیجئے مگر یہ ذہن میں رکھیے گا کہ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ ” اور ان کی اعلی ظرفی اور وسیع قلبی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا تھا کہ انہوں نے اپنے نام، اپنی شہرت اور پہچان میں حصہ دار بنایا، نو آموز کو آزمانے کا رسک لیا۔ غلطیوں کے باوجود تحمل اور بردباری سے کام لیا تو پھر میرا بھی فرض تھا کہ ان کے فیصلے کو غلط ثابت نہ کروں۔
آج مجھے خوشی ہے کہ میں صرف مکالمہ کی لکھاری اور ایڈیٹر ہی نہیں، بلکہ ایسے انسانوں کی دوست ہوں جو الزام سازی، کردار کشی اور دشنام طرازی کے اس دور میں مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش پر یقین رکھتے ہیں۔
مجھے فخر ہے کہ میرا نام ان لوگوں کی فہرست میں کہیں موجود ہے جنہوں نے مسلکی، مذہبی، نسلی اور لسانی فرقہ واریت کی گندگی سے پاک ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جہاں سب کی بات سنی جاتی ہے۔ سب کو غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنی بات کہنے، سننے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور صرف اور صرف مکالمہ کی ، بات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
الحمدللہ! آج مکالمہ اپنے سفر کا دوسرا سال مکمل کر رہا پے اور مجھے خوشی ہے کہ اس بار میں اس کا ایک حصہ ہوں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرے اور ایک روز ہم معاشرے میں یہ ثابت کر سکیں کہ ہر مسلئے کا حل مکالمہ سے نکالا جا سکتا ہے۔ اللہ مکالمہ کو دن دوگنی، رات چوگنی ترقی سے نوازے اور اسے وہ مقام عطا کرے جس کے خواب ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں۔
جناب چیف ایڈیٹر محترم انعام رانا صاحب کو خصوصا مبارک کہ آپ کا لگایا ہوا ننھا پودا اب ماشااللہ قد آور پیڑ کا روپ دھارنے کو ہے۔
مکالمہ ٹیم کا بہت شکریہ ، کہ آپ سب کے خلوص، محنت، محبت اور رفاقت کے بغیر یہ مراحل یقیننا دشوار ہوتے۔
مکالمہ کے سب لکھاریوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ! کہ آپ نے اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لئیے ہمارا پلیٹ فارم منتخب کر کے ہمیں عزت بخشی۔
مکالمہ کے قارئین کا شکریہ! کہ آپ کی تعریف و تنقید، بے لاگ تبصرے اور آراء نے ہمیں مزید سے مزید اچھا کام کرنے اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر انہیں نہ دہرانے کا عزم دیا۔
امید ہے کہ آپ سب کے ساتھ یہ سفر یہ کاوش یونہی جاری رہے گی اور ہم ایک ساتھ مل کر عدم برداشت کا شکار معاشرے کو یقیننا اس بات پہ قائل کر لیں گے کہ مکالمہ ہر مسلے کا بہترین حل ہے۔
سالگرہ مبارک مکالمہ!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مکالمہ۔ایک تعلق۔۔ مریم مجید

  1. مکالمہ کو دوسری سالگرہ مبارک ہو ۔۔ اور آپکو بھی ایک بار پھر مبارک اس کا باقاعدہ حصہ بننا ۔۔۔جیتی رہو خوش رہو۔ مکالمہ کے لیے نیک تمنائیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *