ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر۔۔۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

جب ہم اپنی کائنات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں پرفیکلٹی کام کرتے ہوئے نظر آتی ہے ستاروں کا بننا گلیکسز کی فارمیشن بلیک ہولز اور مادے کی ہر صورت اس کائنات میں ایک مقصد کہ تحت کام کر رہی ہے مادے کہ علاوہ اس کائنات میں موجود چار بنیادی قوتیں گریویٹی کی فورس ، الیکٹرومیگنیٹک فورس، سٹرنگ نیوکلئیر فورسز، ویک نیوکلئیر فورسز بھی اپنا کردار باخوبی نبھا رہی ہیں

مگر ہماری کائنات کے  اس وجود میں صرف یہ ظاہری چیزیں ہی نہیں موجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے ہم واقف نہیں، مگر ہماری اُن سے واقفیت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ اس کائنات پر اثر انداز ہی نہیں ہورہیں، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان غیر معلوم چیزوں کی وجہ سے ہی یہ کائنات اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے ،جتنی کائنات ابھی تک ڈسکور کی گئی ہے اُس میں موجود تمام مادہ کی مقدار اس کہ صرف 5% ہے ( جس میں مادہ اور ہائیڈورجن گیس بھی شامل ہے جو اس کائنات میں خلاء بکھری ہوئی ہے) جب کہ باقی 95% حصہ وہ ہے جسے ہم روزمرہ میں مشاہدہ نہیں کر پاتے جن کہ بارے میں ہم بہت کم جان پائے ہیں۔

عام مادہ کو ہم کافی حد تک سمجھنے میں کامیاب ہوچُکے ہیں کہ وہ کیسے کام کرتا ہے اور کن قوانین کو فالو کرتا ہے جبکہ 95% نامعلوم حصے کہ بارے میں ہم بہت کم جان پائے ہیں یہ حصہ دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک ڈارک میٹر اور دوسرا ڈارک انرجی

ڈارک انرجی اس کائنات کے  69% حصے پر قابض ہے اور 26% ڈارک میٹر موجود ہے۔

ڈارک میٹر کے  بارے میں ہمیں اس بات سے اندازہ کیا گیا کہ اسٹرونومر Vera Rubin نے ایک ٹیکنیک ڈویلیپ کی جس کی مدد سے Spiral galaxies میں موجود ستاروں کی روٹیشنل ولاسٹی کیلکولیٹ کی  جاسکتی تھی اس کیلئے اُن نے ایک گلیکسی میں موجود تمام مادہ، گیس، دھول اور ستاروں کی مدد سے کیلکولیٹ کیا تو گلیکسی کہ بیرونی حصے میں موجود ستاروں کی ولاسٹی دوری کہ اعتبار سے کم ہوتی جانی چاہیے مرکز سے فاصلہ ذیادہ ہونے پر رفتار میں کمی آنی چاہیے تھی مگر مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان گلیکسیز میں ستاروں کا فاصلہ مرکز سے بڑھنے پر ولاسٹی بڑھتی جارہی ہے اور ٹیکنیک کے  مطابق تو تمام تر میٹر کی موجودگی کے  باوجود یہ ممکن نہیں تھا اور اس مظہر کیلئے مادہ کی یہ مقدار انتہائی کم تھی اسی بات سے اندازہ ہوا کہ یقیناً وہاں عام مادہ کے  علاوہ بھی کچھ ایسا مادہ موجود ہے جو ماس کا تو حامل ہے مگر ہم اُسے الیکٹرومیگنیٹک سپکٹرم سے ڈیٹیکٹ کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے اُسے دیکھ پانا ناممکن ہے اور اسی وجہ سے اسے ڈارک میٹر کا نام دیا گیا اور یہی ڈارک میٹر یہ مظہر کرنے میں مدد گار ثابت ہورہا ہے

ڈارک میٹر کہ موجودگی کا علم ہمیں اُن کی گریویٹی کہ ساتھ انٹریکشن سے بھی ہوتا ہے gravitational lensingکی مدد سے گلیکسیز کو دیکھنے پر معلوم ہوا کہ گلیکسیز میں مادہ کہ نظر آنے والی مقدار اُن کی  گریویٹی کے  مقابلے میں کم ہے۔

ڈارک میٹر کسی چیز پر مشتمیل ہوتا ہے؟

ایسا مانا جاتا ہے کہ ڈارک میٹر non baryonic پارٹیکلز ہوسکتے ہیں ماسوائے گریویٹی کے  کسی چیز کہ ساتھ ری ایکٹ نہ کرتے ہوں .. یہ نیوٹرینو ہوسکتے ہیں یاپھر گریویٹی اتنے بڑے پیمانے پر ایسا برتاؤ کرتی ہے اس کے  متعلق ابھی تک یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا –

اس کے  بعد آتے ہیں ڈارک انرجی کی طرف ڈارک انرجی بھی ڈارک میٹر کی طرح ایک معمہ ہے اس کے  متعلق ہمیں اس چیز سے اندازہ ہوا کہ کائنات کے  بگ بینگ کے  بعد سے مسلسل روشنی کی رفتار سے پھیلتی جارہی ہے اور وقت کے  ساتھ ساتھ رفتار کو کم ہوجانا چاہیے کیونکہ گریویٹی کی وجہ سے مادہ ایک دوسرے کو اٹریکٹ کرتاہے مگر 1998 میں دو آزادانہ ریسرچرز کی ٹیمز نے اس چیز کو غلط ثابت کیا کہ کائنات کے  پھیلاؤ کی رفتار بجائے کم ہونے کے  مزید بڑھ رہی ہے اور اس چیز کا Supernovae کی مدد سے معلوم کیا گیا اس phenomenon کو Redshift بھی کہاجاتا ہے جس کہ مطابق دور جاتی ہوئی روشنی والے اجسام سے نکلنے والی روشنی کی شعاعوں کی wavelength بڑھنے کی وجہ سے وہ Red shift شو کرتے ہیں اسی طرح مختلف اوقات میں ایک سپر ناوا کا مشاہدہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ کائنات پھیل رہی ہے اور اُس کے  پھیلنے کی رفتار بڑھتی جارہی ہے ڈارک میٹر کی طرح ڈارک انرجی بھی نارمل میٹر کے  ساتھ انٹریکٹ نہیں کرتی اس لئے اُس کو بھی ڈیٹیکٹ کرنا مشکل ہے تجربات اور مشاہدات سے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ کائنات کا 69% حصہ ڈارک انرجی پر مشتمیل ہے دیکھا جائے ڈارک انرجی کا کردار صرف کائنات کے  پھیلاؤ کی رفتار بڑھنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکنے کی وجہ سے ہے.

ایسا کہا جاسکتا ہے کہ امکان ہے کچھ ایسی قوت موجود ہو جو یہ پھیلاؤ کی رفتار بڑھنے کا سبب بن رہی ہو مگر ایسا ہونا ایک اندازہ ہی حقیقت سے ہم ابھی تک مکمل طور پر واقف نہیں ہوسکے۔

ڈارک انرجی اورڈارک میٹر کے  وجود کے  بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہم ابھی تک ان دونوں کہ تجرباتی شواہد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ ڈارک میٹر کی کمپوزیشن کیا ہے ڈارک انرجی کیسے کام کرتی ہے اس متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے شاید کہ مستقبل میں ہم انہیں بہتر طریقے سے سمجھ سکیں فی الحال تو یہ دونوں ایک معمہ ہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *