• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زما لویا گناہ دہ دہ چہ پختون یم (میرا عظیم گناہ پشتون ہونا ہے)۔ بلال محمود

زما لویا گناہ دہ دہ چہ پختون یم (میرا عظیم گناہ پشتون ہونا ہے)۔ بلال محمود

.

سوچا تھا قومیت پہ کبھی بات نہیں کرونگا لیکن حالات ایسے ہیں کہ میرے جیسا نیوٹرل بندہ بھی کب تک  چپ بیٹھ سکتا ہے۔؟ آخر وہ بات کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ رات ہونے والے سانحے کی اطلاع پہ دل سے ایک آہ نکلی۔اور رات ہی سے اس سوچ میں ہوں کہ تاریخ میں سب سے ذیادہ خون پشتون کا ہی بہا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ ایک آدمی کئی خون کی بوتلیں رکھے ہوئے تھا  بیچنے کے لیئے اور ان میں سب سے سستا خون پٹھان کا تھا اور وہ اسی لیئے بہہ رہا ہے۔

اے این پی کا میں سیاسی کردار کے لحاظ سے مخالف ہوں لیکن  اس لحاظ سے میں ان کے ساتھ ہوں کہ وہ پشتون کی آواز ہے ۔ رات والے واقعہ سے تو یہی لگ رہا ہے کہ پشتون کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ کیا ہم اس ملک کے شہری  نہیں؟ یا  ہمیں اپنے حق کے لئیے بولنے پر موت کی نیند سلایا جاتا ہے گا؟ ایسے تو پشتون کی خون کی کوئی قیمت نہیں بچے گی اور نہ انکی آواز اٹھانے والا کوئی بچے گا۔اور قصور ہمارا یہی ہے کہ ہم  جزباتی ہیں، ہم غلط بات  برداشت  نہیں کرتے۔ کیا ہمارا جرم یہ ہے  کہ ہم آپ کے ساتھ بندوق اٹھا لیتے ہیں خواہ وہ جنگ باڈر پہ ہی کیوں نہ ہو ؟ یا ہمارا قصور صرف یہی ہے کہ ہم پشتون ہیں؟ایک لیڈر مارنے سے آپ کیا سمجھتے ہیں ہم دب جائینگے؟ نہیں صاحب !ہم اٹھیں گے اور پہلے سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ لڑیں گے۔

ہم لڑے ہیں اس ملک کے لیئے اور لڑیں گے اسی ملک کے لیئے چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔پشتونوں کا قتل عام بند کرو کیونکہ پشتون نہیں رہے تو یہ ملک نہیں رہے گا۔ہمیں اپنے ہی ملک سے دربدر کرنے کی کوشش تو کیا سوچنا بھی  غلط ہے۔ یہ خطہ ہمارا ہے یہ ملک ہمارا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لو ہم نے اس ملک کیلیئے قربانیاں دی ہیں، ہمارا حصہ قربانیوں میں کسی سے کم نہیں۔ خدارا ہمارا قتل عام بند کر دو ورنہ ہم نکل آئینگے اور ہم نکلے تو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ہمیں پشتون ہونے کی سزا مت دو۔ہم سے تو دنیا ڈرتی ہے،ہمیں اپنی طاقت بناو۔ یہ ملک ہم سے ہےاور ہم اس سے ہیں۔
بد نام کڑے دہ ہر دور قارون یم
زما لویا گناہ دہ دہ چہ پختون یم۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *