میٹھی بولی کا وارث

وارث شاہ سخن دا وارث نندے کون انہاں نوں۔۔۔
میاں محمد بخش صاحب کی اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کہ بے شک ہیر رانجھے کا قصہ اور بھی کئی لکھاریوں نے لکھا ہے لیکن جب بھی ہیر کا ذکر آتا ہے تو وہ وارث کی ہی ہیر کہلاتی ہے۔ وارث شاہ نے یہ قصہ لکھ کر نہ صرف پنجابی بلکہ دوسری زبانوں کے قارئین کا بھی دل موہ لیا ہے۔ ہیروارث پڑھنے والا پنجاب کے پورے رہن سہن،ریت روایت سے ایسے واقف ہو جاتا ہے کہ پنجاب کے بارے میں کوئی اور کتاب پڑھنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی،اسی لیئے وارث شاہ کو پنجاب کا مصور بھی کہا جاتا ہے۔ وارث شاہ ایک ایسا پھول ہے جس کی تحریر کی خوشبو ساری دنیا کے اہلِ ذوق نے محسوس کی ہے۔ خود وارث شاہ لکھتے ہیں۔
٭فقرہ جوڑ کے خوب درست کیتا، نواں پھل گلاب دا توڑیا اے

وارث شاہ نے اس قصے میں کوئی ایسا موضو ع نہیں چھوڑا جسے بیان نہ کیا ہو، تصوف کے مسائل،وحدت الوجود کا فلسفہ، پنجاب کے سماجی،سیاسی،معاشی، مذہبی حالات، قادر الکلامی،قصہ گوئی،مکالمہ نگاری، کرداروں کے جذبات،تخیلاتی رنگ،جوش بیانی، کہاوتوں اور محاوروں کا استعمال،نت نئی تشبیہات، شوخی اور طنز،۔۔۔غرض یہ کہ ہر طرح کے ہتھیاروں اسے لیس ہو کر وارث نے ہیر پر طبع آزمائی کی ہے اور کامیاب بھی رہے ہیں۔وارث شاہ نے ہیر وارث میں علم و حکمت کا ایک جہان سمو دیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ علمی قابلیت کی کس انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ وارث شاہ کا اندازِ بیاں بہت انوکھا اور دل میں اتر جانے والا ہے۔۔۔سیف الدین سیف نے کہا تھا کہ،
سیف اندازِ بیاں بات بدل دیتا ہے،
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں!

اسی طرح ہیر رانجھے کا قصہ اور بھی کئی لکھاریوں نے لکھا لیکن یوں لگتا ہے کہ وارث شاہ نے یہ قصہ لکھنے کے بعد قلم ہی توڑ دیا ہو جیسے۔
1۔زبان و بیان کی خوبیاں اور قادر الکلامی!
وارث شاہ کی سب سے بری خوبی اس قصے میں برتے جانے والے بے شمار الفاظ جو عام شخص کی سمجھ سے بالا تر ہیں،اس کے باوجود جب بھی کوئی یہ کلام سنتا ہے وہ سر دھننے لگتا ہے،اور کلام کے سحر میں اپنا آپ بھلابیٹھتا ہے۔وارث شاہ کے کلام میں سادگی اور روانی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ قصے میں استعمال کی گئی زبان کا ہر ہر لفظ اپنے اندر کئی کئی معنی رکھتا ہے۔

رانجھے آکھیا خیال نہ پو میرے،شینہ،سپ،فقیر دا دیس کیہا
کونجاں وانگ ممولیاں دیس چھڈے،اساں ذات صفات تے بھیس کیہا
وطن دماں دے نال تے ذات جوگی، ساڈا ساک قبیلڑا خویش کیہا
جیہڑا وطن تے ذات ول دھیان کردا، دنیادار ہے اوہ درویش کیہا!

وارث شاہ کا شمار ایسے شاعروں میں ہوتا ہے جو پیدائشی شاعر ہوتے ہیں۔ وارث شاہ کی قادر الکلامی کی وجہ سے ڈاکٹر من موہن سنگھ دیوانہ نے وارث کی ہیر کو پنجابی کی انجیل کہا ہے۔

2۔قصہ گوئی کا فن!
ہیر،وارث شاہ سے پہلے دمودر داس،احمدی قوی،حافظ شاہجہاں مقبل، اور چراغ اعوان نے قلمبند کی۔۔ سب سے پہلے دمودر دا س نے ا س قصے کو نظمایا۔دمودر داس نے قصے کے اختتام پر ہیر رانجھے کو غائب کر دیا ہے۔مقبل نے انہیں مکہ معظمہ بھیج دیا، پر وارث شاہ نے قصے کا اختتام بالکل ہی انوکھا اور حیران کُن کرکے اسے ہمیشہ کے لیئے امر بنادیا ہے۔
دمودر ہیر اور رانجھے کو کوٹ قبلولے سے تین میل دور غائب ہوتا بتاتا ہے۔وارث اس قصے میں ہیر کو ماں باپ کے ہاتھوں زہر کھانے کے بعد مرتا اور رانجھا ہیر کی موت کی خبر سن کر ڈھیر ہوتا بتاتا ہے۔اور مقبل انہیں مکہ معظمہ روانہ کرتا ہے۔
اس بات سے آپ سب بھی اتفاق کریں گے کہ انسان خوشی کی نسبت دکھ کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ اس لیئے وارث نے ہیر رانجھے کی موت دکھا کر ان کرداروں کو ابدی زندگی دے دی ہے۔

مٹھی بولی دے وارثا،سچ منّیں،منّاں میں پنجابی دا پیر تینوں،
دتی جِند توں ہیر سلیٹڑی نوں،دے گئی سدا دی زندگی ہیر تینوں!

3۔مکالمہ نگاری
اس قصے میں وارث شاہ نے ایسی مکالمہ نگاری کی ہے کہ یوں محسوس ہو تا ہے جیسے یہ باتیں بنی ہی صرف ان کرداروں کے لیئے ہوں۔ وارث نے ان سب کرداروں کی خوبیاں مکالمہ بازی کے ذریعے انہی کرداروں کے منہ سے بیان کروائی ہیں۔رانجھے نے ایسے مکالمے بولے ہیں کہ پتا چل جاتا ہے رانجھا ایک بگڑی ہوئی اولاد ہے، اور ہیر ایک ضدی لڑکی اور اسی طرح یہ مکالمے ہیر کے والدین،کیدو،سہتی اور بالناتھ کی چالاکیوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ایک جگہ جب کیدو چالاکی کرکے رانجھے سے چُوری لے جاتا ہے تو اس وقت ہیر پریشانی کے عالم میں یوں رانجھے سے ہمکلام ہوتی ہے۔

ہیر آکھیا ،بُرا کیتو نیں تاں پچھنا سی دہرائیکے تے
میں تا ں جاندا نہیں ساں،ایہ سوہنا خیر منگیا سو میتھوآئیکے تے،
خیر لیندو ہی پچھا ں نوں تُرت بھنا،اٹھ وگیا کنڈ ولائیکے تے
نیڑے جاندا ی جا مل نڈھیے نی،جا پچھ لے گَل سمجھائیکے تے،
وارث شاہ میاں اوس تھیں گل پچھیں،دو تن اڈیاں ہک لائیکے تے۔

4۔تخیلاتی رنگ
وارث شاہ نے اس قصے میں کئی جگہ پر تخیلاتی رنگ اپنایا ہے،خاص طور پر جہاں کرداروں کو سنوارنے کا موقع ہے وہاں تو وارث نے اپنے فن کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ آج تک کوئی اور شاعر ایسے تخیل کو بیان نہیں کر سکا۔وہ اشعار جن میں ہیر کے حسن کا بیان ہے وہاں دنیا کے کسی شاعر کا تخیل نہیں پہنچ پایا۔۔۔

سرخ ہونٹ یاقوت،جیویں لعل چمکن، تھوڈی سیب ولائتی سار وچوں،
نک الف حسین دی پیلا سی،زلف ناگ خزانے دی بار وچوں،
دند چمبے دی لڑی کہ ہنس موتی،دانے نکلے حسن انار وچوں،
پھر چھنکدی چاء دے نال جٹی چڑھیا غضب دا کٹک قندھار وچوں
وارث شاہ جد نیناں دا،داء لگے،کوئی بچے نہ جوئے دی ہار وچوں!

5۔ کرداروں کے جذبات کی بھرپور عکاسی
ورث کے بنائے کردار اپنی اپنی جگہ یوں فِٹ ہیں جیسے انگوٹھی میں نگینہ، ان کرداروں کے جذبات بیان کرتے وقت وارث نے اپنے فن سے بہترین کام لیا ہے۔ کردار کو خوبصورت اور مکمل بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ لکھاری ان کرداروں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہو۔ کیوں کہ کسی بھی قصے کے کردار حقیقی زندگی سے ہی لیئے جاتے ہیں۔ اس لیئے سوچ تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔ایسے چند فقرے ملاحظہ ہوں جن میں انسانی جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا محسوس ہوتا ہے۔
ٌ*مینون بابلے دی قسم رانجھیا وے،مرے ماں جے تُدھ تھیں مکھ موڑاں،
*ہیر آکھیا، جوگیا جوٹھ بولیں،کون روٹھڑے یار مناؤندا ای،
*تیرے ہیٹھیاں ویاہ لے گئے بھکڑے،داڑھی پرھے دے وچ منا بیٹھوں،
*لبھ واسطے بیڑی دے وچ بیٹھے،پئے پار ہی پار پکاردے ہاں،
ان مصروں سے پتا چلتا ہے کہ وارث شاہ نے انسانی جذبات،فطرت اور عادات کا کتنی گہرائی میں مشاہدہ کیا ہے،اور ان تمام جذبات کی تصویر کشی یوں کی ہے کہ ان کرداروں کے مزاج ہمیں خود محسوس ہونے لگتے ہیں۔

6۔معرفت کے مسائل اور فلسفہ اخلاق و تصوف
پوری انسانی زندگی میں پیش آنے والا ایسا کوئی مسئلہ یا فلسفہ نہیں،جسے وارث شاہ نے بیان نہ کیا ہو۔۔۔ چاہے وہ انسانی جذبات ہو ں،ان کا رہن سہن، لوگوں کے سیاسی،سماجی، معاشی حالات،فلسفہ، اخلاق،فقر، درویشی،عشق محبت کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے بھی اپنے جذبات کا اظہا رکرکے انہیں نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے۔اور مذہبی مسائل کے حل بارے بھی آگاہی دی ہے۔نیک اعمال کے بارے میں یوں لکھتے ہیں،

*اندر خاص جے عمل نہ نیک ہوون،انسان کہاونا زوف ہے نی،
عشقِ حقیقی کے بارے میں لکھتے ہیں۔۔
*وارث عشقِ حقیقی دی لین لذت،پہلے چکھ کے لُون مجازیاں دا،
*جیہڑے عشق دی اگ دے تاؤ تپّے،اینہاں دوزخاں نال کبیر واسطہ ای،
ایک جگہ نصیحت آمیز لہجہ اپناتے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ چلنے کا سبق یوں دیتے ہیں۔۔۔
گئی عمر تے وقت پھیر نہیں مڑدے، گئے کرم تے بھاگ نہ آؤندے نی،
گئی گل زبان تھیں،تِیر چُھٹا، گئے روح قلبوت نہ آؤندے نی،
جیہڑیاں لین اُڈاریاں نال بازاں،اوہ بلبلاں تھک مریندیاں نی،
انہاں ہرنیاں دی عمر ہو چکی، پانی شیر دی جُوہ جو پیندیاں نی،

7۔تشبیہ،استعارے اور محاوروں کا استعمال
کوئی بھی شاعر شعری صنفوں سے تو واقف ہو سکتا ہے لیکن انہیں شاعری میں استعمال کرنے کا فن ہر کوئی نہیں جانتا ،وارث شاہ اس فن میں طاق دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔انہوں نے اس قصے میں بہت سے ایسے محاور ے اور کہاوتیں بھی استعمال کی ہیں جو بیشتر لوگوں نے پہلے نہیں سنی تھیں،اس لیئے وارث کی ہیر پنجاب کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔۔چند کہاوتیں ملاحظہ کیجئے۔
*وارث رن،فقیر،تلوار،گھوڑا،چارے تھوک کسے دے یار ناہیں ،
*وارث شاہ جیوں مورچے بیٹھ بلی،سانہہ گُھٹ لیندی،نہیں کُسکدی اے،
*رونا ویاہ وچ،گاؤنا وچ سیاپے، ستر مجلساں کرنا مندیریاں نیں ،

لمبی چوڑی بات کی تفصیل میں جانے کی بجائے وارث نے اپنی بات کو بہت سے مقامات پر محاروں کی صورت بیان کیا ہے
*پائی آکھیا رانجھیا جوگیا اوئے،بھار بھارا تُوں میرے تے پان لگوں
ٹکر نال پہاڑ دے مار کے تے،اپنا بھسن گوان لگو!

استعارے کی مثال دیکھئے
*کہی ہیر دی کرے تعریف شاعر،متھے چمکدا حسن مہتاب دا جی،
*شاہ پری دی بھین پنچ پُھل رانی،گُجھی رہے نہ ہیر ہزار وچوں،

8۔طنز و مزاح اور شوخی
قصے میں جہاں ہجر،فراق اور درد کی کیفیت ملتی ہے وہیں طنز،شوخی بھی جا بجا نظر آتی ہے۔۔
پیر کڈھ کے ہتھ جے دھریں میرے،بیڑی چاڑھ کے پار اتارنا ہاں
اَتے ڈھگیا مفت جے کن کھائیں،چا بیڑیوں زمیں تے مارنا ہاں

9درد فراق کی کیفیت
وارث نے ہیر وارث میں دردو فراق کی کیفیت یوں بیان کی ہے کہ سینہ جل اٹھتا ہے،ایک ٹیس اٹھتی ہے۔۔۔
*لے وے رانجھیا! واہ میں لا تھکی،ساڈے وس تھیں گل بے وس ہوئی
*قاضی، ماپیاں ظالماں بنھ توڑی،ساڈی تیندڑی بس بس ہوئی،
گھر کھیڑیاں دے نہیں وسنا میں،ساڈی ایہنا ں دے نال خرخس ہوئی،
غرض یہ کہ وارث نے یہ قصہ لکھتے وقت اپنا کلیجہ ہتھیلی پر دھر دیا ہے۔وارث شاہ کا کام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا،اور شاید ہی کوئی دوسرا وارث کا ہم پلہ دنیاء ادب میں جنم لے سکے۔قصے کا ایک ایک لفظ مالا میں پرویا ہوا قیمتی موتی ہے،ایسا زیور جس نے پنجاب کے ماتھے پر آٹھ آٹھ چاند لگا دئیے ہیں۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *