صدقہ فطر کے ضروری مسائل۔۔۔ڈاکٹرمحمد اسلم مبارک پوری

رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر ایک مسلمان کے لیے جو اعمال مشروع کیے گئے ہیں ان میں صدقہ فطر کی ادائیگی بھی ہے۔ اس کا ادا کرنا ہر اس مسلمان فرد کے لیے ضروری ہے جو اپنے اور اپنی اولاد کے عید کے دن اور اس کی  رات کے ضروری اخراجات کی تکمیل کے بعد اتنی حیثیت کا مالک ہو کہ وہ صدقہ فطر ادا کر سکے تو اس کے لیے صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہے۔ زکوۃ کی طرح زکوۃ فطر کی ادائیگی کے لیے نصاب کا مالک ہونا ضروری نہیں ہے۔

صدقہ فطر رمضان المبارک سن دو ہجری میں عید سے ایک روز پہلے فرض قرار دیا گیا۔ اکثر علمائے امت بھی اسی کے قائل ہیں۔

صدقہ فطر ایک صاع حجازی ہے جسے گھر کا سرپرست اپنی اور اپنے ان مذکر ومؤنث افراد کی طرف سے ادا کرے گا جن کے خرچ کی ذمہ داری اس کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ صاع در اصل ایک ناپ (پیمانہ)ہے جو عہد نبوی میں رائج تھا۔ ناپ والے اس برتن میں چیزوں کے ہلکے اور وزنی ہونے کی وجہ سے مقدار میں تفاوت ہونا لازمی امر ہے۔ اگر اس میں ہلکی چیز رکھی جائے تو اس کا وزن ہلکا ہو گااور اگر وزنی چیز رکھی جائے تو اس کا وزن بھاری ہوگا۔ مثال کے طور پر گندم کی کئی قسمیں ہیں ۔ بعض کے دانے ہلکے ہوتے ہیں تو بعض کے بھاری اور موٹے۔ یہی حال چاول، کھجور اور بعض دیگر اجناس کا بھی ہو سکتا ہے۔ علماء امت کی ایک بڑی تعداد نے گندم کے متوسط ا دانہ کیا اعتبار کرتے ہوئے ایک صاع کوموجودہ وزن کے حساب سے ڈھائی کلو مقرر کیا ہے، لیکن یہ بات واضح رہے کہ وزنی چیز کے اعتبار سے اس سے زائد بھی ہو جائے گا۔ اسی لیے سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم سماحۃ الشیخ علامہ ابن باز- رحمہ اللہ- اور بعض دیگر علماء نے احتیاط کے پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈھائی کلو کے بجائے تین کلو بھی مقرر کیا ہے، لیکن اگر ڈھائی کلو ہی ادا کردے تو اس کا فطرہ ادا ہو جائے گا، تاہم بہتر یہ ہے کہ صدقہ فطر صاع ہی سے ناپ کرکے ادا کیا جائے، تاکہ وزن کی کمی بیشی کا احتمال نہ رہے اور فطرہ ادا کرنے والا شبہات سے محفوظ رہے۔

صدقہ فطر میں ان اجناس کو نکالا جائے جو اس علاقہ کی عام غذا ہو۔ جہاں پر عام طور سے روٹی کھائی جاتی ہے وہاں گیہوں نکالا جائے اور جہاں عام طور سے چاول کھایا جاتا ہے وہاں کے لوگوں کو صدقہ فطر میں چاول دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء جن کا ذکر احادیث شریفہ میں پایا جاتا ہے ان کو بھی صدقہ فطر میں دیا جا سکتا ہے، مثلا :کھجور، جو، سوکھا دودھ یا پنیر اورکشمس وغیرہ۔ اس سلسلہ میں حاجت مندوں کی رعایت کرتے ہوئے عمدہ جنس کا انتخاب کرنایا گھر کے افراد کی طرف سے مختلف اقسام کی چیزیں نکالنا تقوی اور پرہیز گاری کی علامت ہے۔

احادیث کے پیش نظرصدقہ فطر میں جنس ہی نکالا جائے۔ اس کے بدلہ میں پیسہ نکالنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے ثابت نہیں ہے۔ صدقہ فطر کا مقصد روزہ دار کے روزوں کی طہارت اور فقراء ومساکین کے خورد ونوش کا انتظام ہے تاکہ عید کے پر مسرت موقع کے دن وہ بھی تمام مسلمانوں کی طرح عید کی خوشی منائیں اور کاسہ گدائی لے کر دوسروں کے دروازوں کا چکر نہ کریں۔

عید کا چاند ہوجانے کے بعد صدقہ فطر ادا کرنا مستحب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز جانے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور تاکید بھی فرمائی ہے اور خود بھی عید کی نماز سے پہلے ادا کرتے تھے۔ بعض صحیح حدیثوں کے مطابق عید سے ایک دو دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

صدقہ فطر کے مستحق صرف فقراء اور مسکین ہیں ۔ پہلے اپنے گھر خاندان کے پھر گاؤں کے ضرورت مندوں کو دیجیے۔ اس کے بعد محلہ کے قریب مسلم بستی والوں کو دیجیے۔ ایسے افراد جو ہمارے دروازوں تک وصول کرنے کے لیے چلے آتے ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہوتاان کو دینے سے پرہیز کریں ۔ صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے ہمیں ایسا نظم بنانا چاہیے تاکہ یہ مستحق افراد تک پہنچے، بلکہ محلہ کے افراد یا ایک مسجد کے مصلیان یا آس پاس کے چند گھروں کے افراد اپنا صدقہ فطر ایک جگہ جمع کرلیں اور ان افراد میں سے چند رضاکارانہ طور سے گاؤں کے حاجت مندوں اور مسلماں بستیوں میں جاکر ان کے درمیان تقسیم کردیں تو یہ مستحق افراد تک پہنچنے کاتشفی بخش اور بہترین ذریعہ ہو گا۔

ڈاکٹر محمد اسلم مبارکپوری
ڈاکٹر محمد اسلم مبارکپوری
ڈاکٹر محمد اسلم مبارک پوری نام: محمد اسلم بن محمد انور بن (مولانا) عبد الصمد مبارک پوری قلمی نام: ڈاکٹر محمد اسلم مبارک پوری پیدائش: جنوری 1973ء مقام: موضع اودے بھان پور , حسین آباد, مبارک پور, یوپی تعلیم: فضیلت: مدرسہ عربیہ دار التعلیم ، صوفی پورہ، مبارک پور بی اے: جامعہ اسلامیہ ، مدینہ منورہ ایم اے، پی ایچ ڈی: لکھنو یونیورسٹی تخصص: عربی ادب و فقہ اسلامی مشغلہ: استاد جامعہ سلفیہ بنارس مدیر ماہنامہ محدث بنارس تصنیف و تالیف و ترجمہ صحافت و مضمون نویسی دعوت و تبلیغ معروف قلمی خدمات(مقالات و کتب): 15 سے زائد تراجم و تصانیف و تحقیقات سیکڑوں مضامین و مقالات محدث کی ادارت رہائش: دار الضیافہ، جامعہ سلفیہ بنارس ، ہندوستان رابطہ: +918009165813 +919453586292

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *