صوفی ہوں تو ایسے۔۔۔عبدالرحمٰن قدیر

ان لوگوں میں وہ صوفی  شامل ہیں جو کہ سچ میں محبت اور اسلام یعنی سلامتی پھیلانے میں کوشاں ہیں۔ نہ شعور اور تمیز سے باغی ہونے کے روا ہیں، نہ ہی یہ قتل اور کفر کے فتوے لگاتے ہیں، نہ دین پر عمل کرنے سے روکیں گے۔ بلکہ کبھی تو یہ آپ کو دین کے قریب ہی کر دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ بھی نہیں کہتے کہ جیہڑا تمال نہ پاوے او بڑا۔۔۔۔۔۔ آگے آپ کو پتہ ہی ہے۔ ان میں سے ایک کے علاوہ سبھی حیات ہیں۔ اور ایک کے علاوہ تمام کا تعلق شاعری یا موسیقی سے ہے۔

مولانا جلال الدین رومی شاعر تھے۔ اور یہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں مگر جہان فانی سے عرصہ قبل کوچ کر گئے۔ اس کے علاوہ مجھے لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

مشاری راشد العفاسی حافظ قرآن اور قاری ہیں۔ اللہ کے فضل سے تمام دنیا میں تلاوت کی سب سے خوبصورت طرز اور آواز ہے۔ زندگی اللہ کی راہ میں تو وقف کی ہے مگر اللہ کی خاطر ہی دنیا کو بھی احسن طریقے سے لے کر چل رہے ہیں۔ خوش اخلاقی اور اخوت و امن پسندی میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ تصوف کی چلتی پھرتی تشریح ہیں۔ ،

سامی یوسف کے والدین آزری تھے۔ پیدا ایران میں ہوئے، پھر پلے بڑے اور رہائش پذیر انگلستان میں ہیں۔ ابتداء اسلامی اناشید یا نغمات سے کی۔ جن میں بیشتر حمد اور نعت شامل تھی۔ مگر جب دنیا کے حالات پر نظر پڑی تو درد آشنائی میں سب سے آگے رہے، چاہے شام کا فساد ہو یا فلسطین میں ظلم، پوری دنیا کے افلاس کا درد یا انسانی حقوق، کبھی پیچھے نہیں رہے۔ اپنے نغمات میں بھی اس درد کو بیان کرتے رہے اور خود بھی اپنی توفیق کے مطابق اسلام اور انسانیت کی حمایت کرتے رہے۔ ہمیشہ عالمی امن اور عروجِ اسلام کے لیے کوشاں رہے۔

ماہر زین بھی ایک نغمہ خواں ہیں اور ان کے نغمات میں حمد باری تعالٰی، عشق رسول ؐ، درد انساں اور موٹیویشنل میوزک کثرت سے پایا جاتا ہے۔ موصوف بھی امن کے پیغام میں پیچھے نہیں ہیں اور عالمی امن، بین المذاہب رواداری اور اسلامی اخوت جے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

یانی۔۔۔ ہیں تو ایک موسیقار۔ مگر ان کی مرتب شدہ موسیقی وجد طاری کر دینے کے لیے کافی ہے۔ بے بہا کمپوزیشنز ان کی ایسی ہیں کہ ہر ایک پہ دم نکلے۔ ان “رین مسٹ فال” ایک انتہائی پر اثر، نشیلی دھن ہے جو کہ خوشی اور حیرانی دونوں کے افراط کاباعث بنتی کے۔ یہ مسلم نہیں ہیں مگر عالمی رواداری میں اپنی موسیقی سے بہتری لانا چاہتے ہیں۔ ہمیشہ امن و محبت کا درس دیتے آئے ہیں۔ دوسرے موسیقاروں کے بر عکس جسمانی محبت سے زیادہ روحانی محبت کے حامی ہیں۔

ان سب لوگوں کو لازمی سنیے، پڑھیے، محبت کا کی خوشی اور انسانیت کا درد محسوس کیجیے اور جھوم جائیے۔۔

عبدالرحمن قدیر
عبدالرحمن قدیر
ایک خلائی لکھاری جس کی مصروفیات میں بلاوجہ سیارہ زمین کے چکر لگانا، بے معنی چیزیں اکٹھی کرنا، اور خاص طور پر وقت ضائع کرنا شامل ہے۔ اور کبھی فرصت کے لمحات میں لکھنا، پڑھنا اور تصویروگرافی بھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *