خالی پیٹ اور خالی ذہن/ محمدامین اسد

برسوں سے ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے نظامِ تعلیم کی اصلاح کس طرح کی جائے۔ کبھی نصاب کی تبدیلی کو نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے، کبھی اساتذہ کی تربیت کو بنیادی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، کبھی ٹیکنالوجی کو حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی امتحانی نظام کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام مباحث کے شور میں ایک سادہ مگر نہایت تلخ حقیقت ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جاتی ہے، کہ ہمارے بے شمار بچے بھوکے پیٹ اسکول آتے ہیں۔

بھوکا بچہ نہ پوری طرح سبق سن سکتا ہے، نہ اس پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے اور نہ سیکھے ہوئے مضمون کو ذہن میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اور جب بھوک مستقل ساتھی بن جائے تو تعلیم کی کشش آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ بچہ اسکول جانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ ہم اسے تعلیمی ناکامی کہتے ہیں، حالانکہ اس کی جڑ میں اکثر معاشی بے بسی ہوتی ہے۔

دیہی پاکستان کے وسیع علاقوں میں، خصوصاً وہاں جہاں غربت، قحط سالی اور غذائی قلت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، گھروں میں روزانہ یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بچے کو اسکول بھیجا جائے یا گھر کے محدود وسائل کو خوراک پر صرف کیا جائے۔ جب سوال یہ ہو کہ آج روٹی پوری ہو گی یا نہیں، تو حاضری ایک کمزور ترجیح بن جاتی ہے۔ یہ والدین کی بے رغبتی نہیں، بلکہ گھریلو معیشت کا کڑا حساب ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک اس مسئلے سے گزر چکے ہیں۔ آج ایک سو ساٹھ سے زائد ممالک میں اسکولوں میں کھانا فراہم کرنے کے باقاعدہ پروگرام جاری ہیں۔ کروڑوں بچے روزانہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک سمیت یہ اقدام صرف غریب ممالک تک محدود نہیں۔ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ سب اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ وجہ سادہ ہے، کہ اس کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔

متعدد ممالک کے تجربات بتاتے ہیں کہ اسکول میں کھانا فراہم کرنے سے داخلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور حاضری بہتر ہوتی ہے، خصوصاً غریب خاندانوں کے بچوں میں۔ افریقہ کے کئی خطوں میں دیکھا گیا کہ جہاں اسکولوں میں باقاعدہ کھانا ملا، وہاں لڑکیوں کی شرکت نمایاں طور پر بڑھی۔ لاطینی امریکہ کے بعض ممالک میں قومی سطح کے پروگراموں نے نہ صرف ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کی بلکہ کلاس روم میں بچوں کی توجہ اور کارکردگی میں بھی بہتری لائی۔ حتیٰ کہ خوشحال ممالک میں بھی اسکول کا کھانا محض خیرات نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے تعلیم اور فلاحِ اطفال کی پالیسی کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غذا اور تعلیم کا رشتہ گہرا اور ناگزیر ہے۔ بچوں کی نشوونما پر ہونے والی تحقیقات بار بار اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کیلوریز، آئرن اور پروٹین کی کمی ذہنی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ جب بچے کو باقاعدہ اور متوازن غذا ملتی ہے تو اس کی توجہ، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ بہتر غذائیت آگے چل کر بہتر تعلیمی نتائج اور پھر زیادہ پیداواری زندگی کی بنیاد بنتی ہے۔ عالمی تجزیات یہ بتاتے ہیں کہ اسکول فیڈنگ پر خرچ کیا گیا ہر ڈالر مستقبل میں کئی گنا معاشی فائدہ بن کر واپس آ سکتا ہے، کیونکہ صحت کے اخراجات کم ہوتے ہیں اور آمدنی کے امکانات بڑھتے ہیں۔

اس معاملے کا ایک معاشی پہلو بھی ہے جس پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ بہت سے ممالک نے اسکول کے کھانے کو مقامی زراعت سے جوڑ دیا ہے۔ درآمدی اشیاء پر انحصار کے بجائے مقامی کسانوں سے اناج، دالیں اور سبزیاں خریدی جاتی ہیں۔ اس سے دیہی منڈیوں کو استحکام ملتا ہے، چھوٹے کسانوں کو یقینی طلب میسر آتی ہے اور دولت مقامی معیشت میں گردش کرتی رہتی ہے۔ افریقہ کے بعض ممالک میں اس طرزِ عمل نے نہ صرف بچوں کو غذا فراہم کی بلکہ کسانوں کی آمدنی کو بھی سہارا دیا۔

پاکستان کو کسی نئے تجربے کی ایجاد کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک منظم، تدریجی اور مالی لحاظ سے قابلِ عمل منصوبہ ترتیب دیا جائے۔ اس وقت ہمارے ہاں اسکول فیڈنگ کے چند منتشر منصوبے ضرور موجود ہیں، جو زیادہ تر غذائی قلت کے شکار اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر چل رہے ہیں۔ ان میں امید کی کرن تو ہے، مگر قومی ہم آہنگی اور مستقل مالی تحفظ کا فقدان ہے۔

دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ ابتدا ان اضلاع سے کی جائے جہاں غذائی عدم تحفظ اور ڈراپ آؤٹ کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پہلے مرحلے میں پرائمری اسکولوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے اور نسبتاً کم لاگت والے غذائی پیکج سے آغاز کیا جا سکتا ہے جس کی ترسیل اور نگرانی آسان ہو۔ محدود پیمانے پر چند لاکھ بچوں سے آغاز کیا جائے تو سالانہ اخراجات صوبائی اور وفاقی بجٹ کے اندر سنبھالے جا سکتے ہیں۔ نظام مستحکم ہو جائے تو رفتہ رفتہ پکے ہوئے کھانے کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے اور خریداری کو مقامی کسانوں سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

اگر پورے ملک میں تقریباً ایک کروڑ پرائمری بچوں تک یہ سہولت پہنچائی جائے تو سالانہ لاگت یقیناً کم نہیں ہو گی، مگر قومی معیشت کے حجم کے مقابلے میں اسے ناقابلِ برداشت نہیں کہا جا سکتا، بشرطیکہ اسے تدریج کے ساتھ نافذ کیا جائے اور وفاق و صوبے ذمہ داری بانٹ کر آگے بڑھیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم یہ پروگرام برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے نظرانداز کرنے کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ غذائی قلت کے اثرات صحت، پیداواری صلاحیت اور انسانی سرمائے پر دیرپا ہوتے ہیں۔ کمزور تعلیمی بنیاد آنے والی نسلوں کی آمدنی کے امکانات محدود کر دیتی ہے۔ جب بچہ تعلیم ادھوری چھوڑ دیتا ہے تو اس کا معاشی نقصان فرد تک محدود نہیں رہتا، پوری قوم کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

یقیناً ایسا کوئی بھی پروگرام شفافیت اور جوابدہی کا محتاج ہو گا۔ حاضری اور خوراک کی فراہمی کی ڈیجیٹل نگرانی، غذائی معیار کی سخت پابندی، اور آزادانہ جانچ کا نظام عوام کے اعتماد کو قائم رکھ سکتا ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم میں مستقل یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ سیاسی تبدیلیوں سے پالیسی متاثر نہ ہو۔ قانونی تحفظ اسے عارضی منصوبہ بننے سے بچا سکتا ہے۔

یہ محض ایک اور فلاحی اسکیم نہیں ہونی چاہیے جو چند برسوں بعد ختم ہو جائے۔ یہ تعلیم کی پالیسی کا جزوِ لازم ہونا چاہیے، اس شعور کے ساتھ کہ کلاس روم گھر کے حالات سے کٹا ہوا نہیں ہوتا۔ جس طرح کتاب علم کا ذریعہ ہے، اسی طرح ایک مناسب غذا سیکھنے کی قوت کا سرچشمہ ہے۔

آج جب خوراک کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں، موسمی تغیرات نے دیہی معیشت کو جھنجھوڑ رکھا ہے اور خاندان معاشی دباؤ میں ہیں، تو اسکول کے ذریعے بچوں کو سہارا دینا محض ہمدردی نہیں، دانائی ہے۔ اگر وفاق اور صوبے مل کر مرحلہ وار نفاذ پر اتفاق کریں، سب سے کمزور اضلاع سے آغاز کریں اور درمیانی مدت کے لیے وسائل محفوظ کریں، تو منتشر کوششیں ایک مضبوط قومی ستون میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

julia rana solicitors

جو قوم اپنے بچوں کو علم دینا چاہتی ہے، اسے پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ خالی پیٹ نہیں، بھرے دل اور توانا ذہن کے ساتھ درسگاہ میں داخل ہوں۔

Facebook Comments

Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔ بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔ ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply