کیا اے آئی انسانوں کی نوکریاں چھین لے گا؟ – ماریہ بتول

آج کا عہد ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا عہد ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں رہی بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ چیٹ بوٹس سے لے کر خودکار گاڑیوں تک، طبی تشخیص سے لے کر عدالتی معاونت تک، اے آئی نے دنیا کے معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا اے آئی انسانوں کی نوکریاں چھین لے گی یا یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے؟
اے آئی کیا ہے اور کہاں تک پہنچ چکی ہے? OpenAI،Google، Microsoft اور Tesla جیسےعالمی ادارے مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ آج کے جدید اے آئی سسٹمز
تحریری مواد تیار کر سکتے ہیں,گرافک ڈیزائن اور ویڈیوز بنا سکتے ہیں,پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں,خودکار گاڑیاں چلا سکتے ہیں,کال سینٹر اور کسٹمر سروس سنبھال سکتے ہیں اورطبی رپورٹس کا ابتدائی جائزہ لے سکتے ہیں۔یہ تمام کام پہلے مکمل طور پر انسان انجام دیتے تھے۔ اب ادارے لاگت کم کرنے اور رفتار بڑھانے کے لیے خودکار نظاموں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
کن شعبوں کو زیادہ خطرہ ہے؟
ماہرین کے مطابق وہ شعبے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں کام بار بار دہرایا جاتا ہے اور تخلیقی یا جذباتی ذہانت کی ضرورت کم ہوتی ہے، جیسے:بینکنگ اور ڈیٹا انٹری ،کسٹمر سروس ،فیکٹریوں کا پیداواری کام ،ابتدائی سطح کی رپورٹنگ اور مواد نویسی،
ڈرائیونگ (خاص طور پر مستقبل میں خودکار گاڑیاں) ۔Tesla خودکار گاڑیوں پر کام کر رہی ہے، جس سے مستقبل میں روایتی ڈرائیورز کی ضرورت کم ہو سکتی ہے ۔تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شعبہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کی نوعیت تبدیل ہوگی۔
کیا سب نوکریاں ختم ہو جائیں گی؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر صنعتی انقلاب نے ابتدا میں خوف پیدا کیا، مگر طویل مدت میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ جب کمپیوٹر متعارف ہوئے تو خدشہ تھا کہ دفتری ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے، لیکن آئی ٹی انڈسٹری نے لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کیں۔
اسی طرح اے آئی بھی نئی مہارتوں کی بنیاد پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے، جیسے:ڈیٹا سائنسدان،اے آئی انجینئر،مشین لرننگ ماہر،پرامپٹ رائٹر،سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ اور اے آئی ایتھکس ریسرچر۔یہ وہ شعبے ہیں جو آئندہ دہائیوں میں مزید وسعت اختیار کریں گے۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
اصل خطرہ اے آئی نہیں بلکہ مہارتوں کی کمی ہے۔ جو افراد نئی ٹیکنالوجی سیکھنے سے گریز کریں گے وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ مستقبل انہی کا ہے جو:نئی اسکلز سیکھیں،ڈیجیٹل لٹریسی حاصل کریں،تخلیقی اور تنقیدی سوچ اپنائیں اور ٹیکنالوجی کو دشمن نہیں بلکہ معاون سمجھیں۔
مزید یہ کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ اگر تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو نوجوان نسل عالمی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
اخلاقی اور سماجی پہلو کی اگر بات کی جائے تو
اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں:کیا مشین انسانی فیصلوں کی جگہ لے سکتی ہے؟کیا ڈیٹا کی پرائیویسی محفوظ رہے گی؟کیا دولت چند ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود ہو جائے گی؟
مندرجہ بالا سوالات کے حل کے لیے عالمی سطح پر قوانین اور پالیسی سازی کی ضرورت ہے تاکہ اے آئی انسانی فلاح کے لیے استعمال ہو، نہ کہ عدم مساوات میں اضافے کا سبب بنے۔
نتیجتاً مصنوعی ذہانت ایک طوفان نہیں بلکہ ایک نیا دور ہے۔ یہ انسانوں کی تمام نوکریاں ختم نہیں کرے گی بلکہ کام کی نوعیت بدل دے گی۔ جو لوگ خود کو اپ گریڈ کریں گے، نئی مہارتیں سیکھیں گے اور تبدیلی کو قبول کریں گے وہ کامیاب ہوں گے۔ جو خوف اور جمود کا شکار رہیں گے، وہ مشکلات کا سامنا کریں گے۔
سوال یہ نہیں کہ اے آئی آئے گی یا نہیں—سوال یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں؟
مستقبل ان کا ہے جو سیکھنے کا عمل جاری رکھیں گے، کیونکہ آج کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت علم اور مہارت ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply