• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی اور جنریشن زی کا جنون/احسان اللہ اسحاق

دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی اور جنریشن زی کا جنون/احسان اللہ اسحاق

لیں جی، کفر ٹوٹا! خدا خدا کر کے، بالاآخر دو دہائیوں کے بعد منایا جانے والا بسنت کا تہوار اپنی پوری آب و تاب سے چمکنے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔میر تعلق چونکہ خود جینریشن زی سے ہے لہذا زندگی میں یہ میری بھی پہلی بسنت تھی جسے میں نے اپنے پورے ہوش و حواس اور بھرپور جوش وخروش کے ساتھ منایا۔ اس سے پہلے میرےذہن میں بچپن کی کچھ ہلکی پھلکی یادیں تھیں، مگر اس دفعہ کا تجربہ دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔
بسنت کے تین دنوں میں لاہوریوں کے جوش و خروش کو دیکھ کر دل یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ”لہور لہور اے!”واقعی ای ’’جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘‘۔بسنت پر خواتین بچے، جوان، ہر کوئی چھتوں پر، گلیوں میں، اور آسمان میں اُڑتی رنگ برنگی پتنگوں کے بیچ خوشی سے جھوم رہے تھے۔خاص طور پر جینریشن زی نے بسنت کی رونق میں جان ڈال دی، جنہوں نے اپنی تخلیقی توانائی اور انرجی سے تہوار کو مکمل طور پر زندہ کیا۔ روایتی پتنگ بازوں کے ساتھ، نوجوانوں نے رنگین ڈور، فیشن ایبل کپڑے، سوشل میڈیا ریلز ،ویڈیوز کی تشہیراورچھتوں پر دوستانہ ماحول کے ذریعے بسنت کو ایک نیا رنگ دیا۔بسنت پر ہر نوجوان کے چہرے پر مسکراہٹ، ہر پتنگ کی پرواز میں جوش، اور ہر پوسٹ یا اسٹوری میں خوشیوں کا اظہار ،یہ سب جینریشن زی کی منفرد پہچان تھی۔
لاہوریوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ شہر زندہ دلوں کا شہر ہے۔ چاہے عید ہو، شب برات، سیاسی ہنگامے، کرکٹ میچ یا پھر 14 اگست،ہر تہوار پر لاہوریوں کا جوش و خروش اورجذبہ دیدنی ہوتا ہے۔
اس بار صوبائی حکومت بھی داد کی مستحق ہے کہ انہوں نے طویل عرصے کے بعد بسنت کی خوشیاں واپس لوٹائیں۔ آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر رونق، گلیوں میں جشن اور ہر طرف بو کاٹا کی آوازیں،یہ وہ ایونٹ تھا جو جنریشن زی کی یادوں میں دیرپا خوشیاں چھوڑ گیا۔
آسمان میں اُڑتی رنگ برنگی پتنگیں اور پر رونق چھتوںنے نہ صرف لاہوریوں کو خوشیوں سے بھر دیا بلکہ وہیںدنیا میں وطن عزیز کا مثبت اور پرامن چہرہ بھی اجاگر کیا ۔ عالمی میڈیا نے اس تہوار کی شاندار کوریج کی، اور مختلف ممالک کے سفارت خانوں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہاں تک کہ پاکستان کے دورے پر آئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بھی بسنت منائی، جو واقعی قابل تحسین ہے۔
اس دفعہ جنریشن زی نے نہ صرف تہوار منایا بلکہ اپنے طریقوںاور سوشل میڈیا کی بدولت اسے ایک ثقافتی اور جدید تجربہ بھی بنا دیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے۔
تین روزہ بسنت فیسٹیول سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوان اگر تہواروں میں بھرپور حصہ لیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ، قواعد و ضوابط کا خیال رکھتے ہوئے اسے منائیں، تو یہ تہوار نہ صرف خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ ایک مضبوط ثقافتی شناخت اور قومی فخر بھی قائم کرتا ہے۔
امید ہے کہ اگلی دفعہ یہ تہوار نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں اسی جوش و خروش اور رنگینیوں کے ساتھ منایا جائے گااور یہی جینریشن زی اپنی توانائی اور تخلیقی صلاحیتوں سے اس کو اور بھی یادگار بنائے گی۔

Facebook Comments

احسان اللہ اسحاق
ماسٹر ان میڈیا اینڈ کمیونیکشن اسٹڈیز ماسٹر ان پولیٹیکل اسٹڈیز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply