مریم کی یاد آتی ہے؟-مسلم انصاری

چاند پیالہ ہوٹل میں جنوری کی آخری اور خنک شام، جب پورے ہوٹل میں ساتھ بنے کال سینٹر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے دھاوا بول رکھا ہے، دو بوڑھے، کونے کی بینچ کرسیوں سے جوڑے خاموشی میں مصروف ہیں۔ دونوں کے سروں پر جناح کیپ اور انگلیوں میں رعشہ ہے۔ فرق کے طور پر ایک کے چہرے پر ڈیڑھ مٹھی سفید اور گھنی داڑھی ہے جب کہ دوسرا اپنے جبڑے دھنسے گالوں پر آج بھی نئی شیو بنائے ہوئے ہے۔ میز پر ایک پیتل کی ڈبیا تمباکو سے لبالب بھری، ایک مقامی سگریٹ کی ڈبی، انگلش پائپ، پجارو ماچس، دو کپ کٹ چائے اور پتھر مارکہ نسوار کی پڑی رکھی ہے۔ ان دونوں بوڑھوں نے گزشتہ رات نیند نہ آنے پر ایک دوسرے کو واٹس ایپ پر میسج کرتے ہوئے آج کی ملاقات طے کی تھی۔ پائپ پینے والا بوڑھا جب صدر سے یینگو کی رائڈ لیکر ناتھا خان، چاند پیالہ ہوٹل پہنچا تو داڑھی والا بوڑھا پہلے سے موجود ٹیبل پر سر جھکائے اونگ رہا تھا۔ اب ان دونوں کو بیٹھے قریب سوا گھنٹہ گزر چکا ہے، لمبوترے چہرے والا بوڑھا چپ ہے، وقفے وقفے سے بڑبڑاتے ہوئے:
“آفت اور وبائیں سب نگل جاتی ہیں۔” کہتا ہے جب کہ دوسرا ایک ہی سوال بار بار دہراتا ہے:
“مریم کی یاد آتی ہے؟”

“کیسے نہیں آئے گی، آف کورس!”
محمد علی نے جواب میں پائپ ہونٹوں سے لگایا، ایک ماچس کی جلتی چنگاری پائپ کے دھانے پر رکھ کر لمبی سانس کھینچی۔ گلے میں دھواں بھر جانے اور پھیپھڑوں کے خستہ ہونے سے یک دم اسے کھانسی نے آ لیا، پہلے وہ کھنکھارا پھر داہنی ٹانگ باہنی ٹانگ پر رکھ کر عبدالستار کو دیکھنے لگا۔

“جھوٹے! تمہیں تو سکینہ کی بھی یاد نہیں آتی ہوگی جو تمہاری پہلی بیوی اور چچا زاد تھی۔ تم تو اپنی ڈگری کے چکر میں لندن چلے گئے اور پیچھے کراچی میں پھیلی وبا سے تمہاری ماں شیریں اور سکینہ چل بسیں، تم سولہ سال کے لونڈے ٹھیک وقت پر بچ گئے۔”
عبدالستار نے بوڑھی ہنسی ہنستے ہوئے ٹیبل پر ہاتھ مارا تو چائے کے خالی کپ تھرتھرا کر رہ گئے۔

“یو ۔۔۔۔”
علی نے انگلش ایکسنٹ میں کچھ برا کہنا چاہا مگر رک گیا پھر اس کے چہرے پر کوئی دکھ رقص کرتا ہوا گزرنے لگا۔

“مجھے اس سے بھی محبت تھی۔ مجھے اس کی موت کا صدمہ رہا تبھی تو ایک طویل عرصہ میں نے دوبارہ شادی نہیں کی، صرف چودہ سال اور وہ ۔۔۔۔”

علی بیچ میں چپ ہوا تو عبدالستار نے مڑ کر آواز لگائی:
“چھوٹے! پانی کا جگ!”

“ہاں تو سولہ سال کے لونڈے کو چودہ سال کی دلہن کی موت کا دکھ کھا گیا۔”
ایدھی دوبارہ گفتگو کو آگے بڑھانے لگا۔

“آفت اور وبائیں سب نگل جاتی ہیں!” پائپ والا بوڑھا بڑبڑایا۔
“پٹرول بھی!”
ایدھی نے لقمہ دیا تو جناح نے کرخت نظروں سے اسے گھورا۔

“غضب کی حسینہ تھی! نئیں؟ سننے میں تو یہی آیا کہ ہندوستان کی پردہ نہ کرنے والی عورتوں میں شاید ہی کوئی اس جتنی خوبصورت ہو۔ سچ ہے؟”

“کون؟”
جناح نے جانتے بوجھتے پوچھا۔

“رتی، رتن بائی، تمہاری پریمیکا جس نے تمہارے لیے اسلام قبول کیا تھا۔”
ایدھی نے چوٹ ماری تو علی کھلکھلا کر ہنسا مگر زیادہ دیر نہیں، پھر سنجیدہ ہوگیا۔
“بے شک وہ تھی۔”
جناح بس اتنا ہی کہ پایا۔

“ایک پارسی لڑکی 16 سال کی عمر میں تمہارے عشق میں تب گرفتار ہوئی جب تم انتالیس بہاریں دیکھ چکے تھے، واہ!”
عبدالستار مستی کی ڈگر پر تھا، سب کچھ ایک ہی سانس میں ہنستے ہوئے کہہ گیا۔ علی چپ رہا تو ایدھی نے دوبارہ کہا:
“اور تم سیاسی مصروفیات کی وجہ سے اسے تنہائی کا شکار کر گئے۔ بدقسمتی سے وہ تمہیں اپنے موذی مرض کینسر میں بھی محبت بھرے خطوط لکھتی رہی اور اٹھائیس سال میں چل بسی۔ بوڑھے کھوسٹ!”

“تم اپنا کیوں نہیں کہتے؟ لاشوں والی ایمبولینس میں تم بلقیس کو لیے پھرتے رہے، معصوم بیچاری تمہاری انسانی خدمت کی چکی میں کتنی خواہشیں دبا گئی ہوگی۔”
جناح نے گلاس بھرتے ہوئے کہا تو ایدھی یک مشت چپ ہوگیا۔

“کیا ہوا؟ کچھ بھی کہے سنے پر ایمان لے آنے والے کھڑوس! سن تو میں نے بھی بہت کچھ رکھا ہے، جیسے تم انسانی لاشوں سے اعضاء نکال کر فروخت کرتے رہے ہو، تمہارے رضاکار ایمبولینسوں میں اسلحہ سپلائی کرتے رہے، چوکوں پر جُھولے لگا کر زنا کو عام کردیا۔ سنا ہے مولیوں نے تمہاری بینڈ بجا دی تھی اور تم کہتے پھرتے تھے کہ مجھے تم مولویوں کی جنت میں نہیں جانا۔ سن تو میں نے بھی بہت کچھ رکھا ہے مگر میں نے کبھی تمہیں ٹانٹ مارا؟ تمہاری کلاس لگائی؟”

جناح چپ ہوا تو ایدھی نے فوراً کہا:
“مولویوں کی بات وہ کر رہا ہے جو نماز کو ورزش کہتا تھا۔”

دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ مارا تو ہوٹل پر یک دم خاموشی چھا گئی، لڑکوں لڑکیوں نے مڑ کر کونے میں رکھی دو کرسیوں کو دیکھا مگر وہ خالی تھیں۔ دو نوجوانوں کی حالت خراب ہونے لگی تو وہ ہوٹل سے ہوا ہوگئے۔

“کمینے آہستہ!”
دونوں بوڑھوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو کہا پھر دوبارہ ہنس دیے۔

“بتانا بتانا! مریم کی یاد آتی ہے؟”
ایدھی نے اٹکھیلی کرتے ہوئے جناح کو کچوکہ مارا۔

“تو چھوڑ نا یار! ویسے بھی مریم کا نام رتی جناح اور سکینہ کا نام ایمی بائی تھا، مگر خیر چھوڑ! تو بھی کیا 1892 اور 1918 کی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہے۔”
علی ایسے مغموم ہو کر رہ گیا جیسے بمبئی چھوڑنے سے پہلے آخری بار وہ رتی کی قبر پر ہوا تھا۔
دونوں بوڑھے چپ ہوگئے۔

گھنٹے بھر بعد علی پھر سے بڑبڑایا: “آفت اور وبائیں سب نگل جاتی ہیں!”
“آگ بھی”
ایدھی نے ایک اور لقمہ دیا۔
“آگ؟”
“وہی جو اکثر عمارتوں، شاپنگ مالوں اور فیکٹریوں میں لگ جاتی ہے! سب تو تجھے پتہ ہے اب بن مت!”
ایدھی رنجیدہ ہو رہا تھا۔
“میں گیا تھا کل گل پلازہ، راکھ میں بھٹو کو چھان رہا تھا، سالا اب کی بار بھی زندہ بچ گیا۔”
جناح نے کیپ سیدھی کرتے ہوئے ایدھی کے کان کے پاس آ کر کہا

“بھٹو بھٹو ہے جانی! کہیں نہیں جانے والا!”

“چل آ یار واک پر چلیں! پڑے پڑے میرے ٹخنوں اور گھٹنوں میں درد ہوگیا ہے۔ کھچ ہی ماری تونے، روپے ٹکے کی ایک بھی بات نہیں کی، آجا واک کریں!”
جناح کھڑا ہوا تو ایدھی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے، کیش کاؤنٹر پر پہنچ کر پیسے پوچھے تو کیشئیر نے ان سنا کردیا۔
“بڑ بولے! یہ تجھے نہیں سن سکتے، مت ڈرا!”
محمد علی نے ایدھی کے پیچھے سے گزرتے ہوئے اسے ٹوکا۔

شام کے سائے پھیل کر کالے ہو چکے تھے، محمد علی تھری پیس میں اور عبدالستار قمیض شلوار میں تھا۔ سردی سے بچنے کے لیے دونوں نے اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال لیے۔ چلتے چلتے وہ شاہراہ فیصل پر نکل آئے، گاڑیاں تیزی سے بھاگ رہی تھیں۔ ایک دو بار جب وہ چھوٹے موٹے قدم اٹھاتے بے دھیانی میں فٹ پاتھ سے نیچے اترے تو دوسرے نے بازو سے کھینچ پہلے کو واپس اوپر کردیا، بات بے بات ایدھی کہنی مار کر محمد علی کو چھیڑتا:
“اے، اے بتانا مریم کی یاد آتی ہے؟”
اور محمد علی پہلے سے زیادہ خاموش ہو جاتا، عبدالستار اس سب سے لطف لے رہا تھا۔
اچانک علی جناح کے موبائل کی گھنٹی بجی، شاید میسج تھا۔ موبائل جیب میں واپس ڈالتے ہوئے وہ خود ہی بولا:
“فاطمہ تھی، صاف صفائی کے لیے اسپرٹ لانے کا کہہ رہی تھی، ایک تو اس کا زخم نہیں بھرتا۔”
دونوں کا رخ صدر کی طرف تھا، دائیں بائیں اونچی نیچی پیلی دیواریں اور ان پر خاردار تاروں کا جال، وقفے وقفے سے ان دیواروں پر پینٹ چاکنگ سے کچھ لکھا بھی ہوا تھا۔ جناح نے قریب ہوکر پڑھنے کی کوشش کی مگر ایدھی نے یہ کہہ کر اسے روک دیا کہ:
“دور رہ بھئی! گولی شولی مار دیتے ہیں۔”
کہیں کہیں حالیہ بارشوں کی وجہ سے خود رو جھاڑیاں اگ آئیں تھیں اور وہ دونوں اس کے بیچ سے گزر رہے تھے۔

دیوار پر ایک چوکی میں بیٹھے چوکیدار نے نیچے سرسراہٹ محسوس کی تو اس نے فلیش لائٹ کا رخ ادھر کرکے دیکھا، جھاڑیوں کی وجہ سے اسے کچھ نہیں دکھائی دیا تو اس نے واکی ٹاکی پر صورت حال بتائی
“فائر!”
دوسری طرف سے حکم جاری ہوا۔ نوجوان نے چیمبر کھینچا اور اے کے فورٹی سیون کا پورا بریسٹ جھاڑیوں میں داغ دیا۔

دھن دھن دھن، تین چار گولیاں عبدالستار ایدھی کی عطیہ کی گئی خالی آنکھوں سے آر پار ہو گئیں۔
“دھت تیری کی!” قائد اعظم نے قہقہہ مارا۔

“کون تھا؟”
واکی ٹاکی میں آواز ابھری۔
“کوئی کتا بلّی ہوگی سر!”
نوجوان نے واکی ٹاکی کے سامنے سیدھے کھڑے ہوکر سلیوٹ مارا۔

Facebook Comments

مسلم انصاری
مسلم انصاری کا تعلق کراچی سے ہے انہوں نے درسِ نظامی(ایم اے اسلامیات) کےبعد فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب بعنوان خاموش دریچے مکتبہ علم و عرفان لاہور نے مجموعہ نظم و نثر کے طور پر شائع کی۔جبکہ ان کی دوسری اور فکشن کی پہلی کتاب بنام "کابوس"بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مسلم انصاری ان دنوں کراچی میں ایکسپریس نیوز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply