سترہ جنوری 2026 کی رات جب کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ شدید بھڑکی تو یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ برسوں کی منظم لاپرواہی، لالچ اور ادارہ جاتی ناکامی کا بھیانک اظہار تھا۔ آگ تقریباً 36 گھنٹوں تک بے قابو رہی، جس میں اربوں کا نقصان اور لاتعداد انسانی جانوں کے ضیاع نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ یہ سانحہ کراچی کی تاریخ کے سب سے بڑے آگ کے واقعات میں سے ایک ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ 1980 کی دہائی میں تعمیر ہوا تھا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے اسے صرف 1021 دکانوں کی منظوری دی تھی، لیکن حقیقت میں یہاں 1200 سے زائد دکانیں بنائی گئی اور 1998 میں ایک اضافی منزل تعمیر کی گئی، چھت کو پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا، اور اصل پارکنگ جگہ پر دکانیں بنا لی گئیں۔ یہ سب غیر قانونی تھا، مگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ان خلاف ورزیوں کو ریگولرائز کر کے 2003 میں مکمل سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق پلازہ میں پلاسٹک، کپڑے، کاسمیٹکس، جیولری، کمبل، قالین اور دیگر انتہائی اشتعال انگیز سامان سے بھری دکانیں ایک دوسرے سے ملحق تھیں۔ فائر سیفٹی کے آلات ناکارہ یا نہ ہونے کے برابر تھے، ایمرجنسی راستے بند، سیڑھیاں تنگ، اور وینٹیلیشن کے نظام کا شدید فقدان تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ کی وجہ الیکٹریکل شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، مگر اصل ذمہ دار تو یہ تمام برسوں کی جمع شدہ خلاف ورزیاں ہیں۔ یہ پہلی بار کا سانحہ نہیں بلکہ کراچی میں آگ لگنے کے واقعات ایک معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی تجارتی مقامات پر بڑے آگ بھڑکنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ 2012 میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں 260 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2023 میں ایک شاپنگ مال میں 10 افراد جان سے گئے۔ ہر بار وہی وجوہات سامنے آتی ہیں : غیر قانونی تعمیرات، فائر سیفٹی کا فقدان، اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت۔ ایک حالیہ آڈٹ کے مطابق کراچی کی اہم سڑکوں پر موجود سینکڑوں عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا سامان نہیں، ایمرجنسی ایگزٹ غائب ہیں، اور الیکٹریکل وائرنگ خطرناک حالت میں ہے۔مگر ان رپورٹس پر عمل درآمد کبھی نہیں ہوتا۔ یہاں سب سے بڑی ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے جو عمارتوں کی منظوری اور نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ادارہ خود تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث رہتا ہے۔ افسران الزامات کے مطابق رشوت لے کر خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں قانونی تحفظ بھی دے دیتے ہیں۔ فائر بریگیڈ کے پاس جدید مشینری کا شدید فقدان ہے۔ کراچی جیسے 2 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں آج بھی کوئی فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر نہیں، اور پانی کی فراہمی کے مسائل ہر بڑے واقعے میں سامنے آتے ہیں۔ ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں نے بہادری سے کام کیا، مگر وسائل کی کمی نے کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔ اس سانحے میں دکانداروں، پلازہ ایسوسی ایشن مالکان بھی کم قصوروار نہیں، زیادہ منافع کی ہوس میں انہوں نے سیفٹی کے تمام اصولوں کو پس پشت ڈال دیا، دکانوں میں اوور لوڈ اور غیر محفوظ سامان، ایمرجنسی پلان کا فقدان، کراچی کے تمام شاپنگ مال کا مسئلہ ہے جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عوام کا رش ہونے والی عمارتوں میں پبلک سیفٹی کے مستقل انتظامات نہ ہونا ایک سنگین جرم ہے۔ سیاسی اور معاشی پس منظر میں دیکھا جائے تو کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا دل ہے۔ یہ شہر ٹیکسوں کا سب سے بڑا ذریعہ، برآمدات کا مرکز، اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا گڑھ ہے۔ مگر اس کے ساتھ صوبائی حکومت کا رویہ سوتیلا ہے اور وفاقی حکومت کی توجہ ناکافی۔ ہر سانحے کے بعد انکوائری کا اعلان ہوتا ہے، چند معاوضوں کا وعدہ کیا جاتا ہے (جیسے وزیراعلیٰ سندھ نے اس بار ہلاکتوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا) ، مگر اصل احتساب کبھی نہیں ہوتا۔
ذمہ دار افسران، مالکان اور سیاستدان محفوظ رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ان اندوہناک سانحات سے کیا سبق سیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم اور غور طلب سوال ہے، کیونکہ یہ سانحہ ایک آخری وارننگ ہے۔ اگر اب بھی آنکھیں نہ کھولی گئیں تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور مارکیٹ، کوئی اور گھر اسی طرح راکھ ہو جائے گا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے اہم لیکن غیر ذمہ دار ادارے کا قبلہ درست کریں۔ تمام کمرشل عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ لازمی اور باقاعدہ کیا جائے۔ فائر بریگیڈ کو جدید مشینری، ہیلی کاپٹرز اور تربیت دی جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری ایکشن اور سزائیں نافذ کی جائیں۔ عوام میں شعور اجاگر کیا جائے کہ سیفٹی منافع سے زیادہ اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ سیلاب، لوڈشیڈنگ، ٹریفک، جرائم۔ مگر آگ کی یہ لپیٹ ان سب سے زیادہ خوفناک ہے کیونکہ یہ متوقع ہے اور روکا جا سکتا تھا۔ آخری بات، کراچی میں جس قسم کے اذیت ناک واقعات پیش آتے ہیں اس کا ذمہ دار براہ راست عوام بھی ہے کیونکہ عوام سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر نظام کے خلاف نکلنے کے لئے تیار نہیں، ۔ جب تک عوام میں شعور احتساب، اصلاح اور ذمہ داری کا نظام قائم نہ ہو گا، کراچی جلتا رہے گا اور سسٹم اپنی نالائقی کو طاقت سمجھ کر ڈٹ کے کھڑا رہے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں