پاکستان میں عسکری و سول افسر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کا گٹھ جوڑ اور ماورائے آئین ہائبرڈ آمرانہ طرز حکومت اپنا تاریخی پس منظر اور نوآبادیاتی جڑیں رکھتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت 1972۔ 1977 کو ہائبرڈ طرز حکومت سے استثناء حاصل ہے۔ آج کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے بھٹو حکومت کو پاکستان کی واحد سویلین بالادست منتخب جمہوری حکومت کہا جا سکتا ہے۔
سول و خاکی افسر شاہی نے قیام پاکستان کے بعد تئیس سال تے عام انتخابات کا راستہ روکے رکھا تھا۔ جمہوری آئین، جمہوری نظام اور عوام کی نمائیندہ حکومت کے دروازے بند کئے رکھے۔ سول و خاکی افسرشاہی اور ان کے جونئیر پارٹنر سیاسی اشرافیہ ملک کی باگ ڈور آمرانہ برٹش انڈیا ایکٹ 1935 کے مطابق چلاتی رہی۔ 1956 تک نوآبادیاتی انڈین ایکٹ 1935 ملک کا اعلیٰ ترین آمرانہ قانون یعنی پاکستان کا آئین تھا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ دو سال کے مختصر عرصہ بعد 1956 کا آئین منسوخ کر کے اکتوبر 1958 کو ملک پر فوجی آمریت مسلط کر دی گئی تھی۔
قیام پاکستان سے آج تک ملک میں جمہوری آئین کا نفاذ اور جمہوری نظام کے ذریعے عوامی حاکمیت ایک خواہش اور مطالبہ سے بڑھ کر ٹھوس حقیقت کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ابتداء سے غیر منتخب قوتوں نے ریاستی طاقت کے زور پر جمہوری قدروں کی بیخ کنی کرتے ہوئے آمرانہ حاکمیت کی پرورش کی ہے۔نوآبادیاتی دور کی تربیت یافتہ سول افسرشاہی کے کرتا دھرتا افسران نے ریاستی اقتدار پر سول افسرشاہی آمریت کا شکنجہ گاڑھنا شروع کر دیا تھا۔تقسیم بر صغیر کے دوران بکھری صفیں درست کرتے ہوئے خاکی افسر شاہی بھی اقتدار کی بندر بانٹ میں شامل ہو گئی تھی۔ معرض وجود میں آنے کے چند سال کے اندر اندرسول بیوروکریسی اور عسکری قیادت کے گٹھ جوڑ نے ملک کے اقتدار اعلیٰ پر اپنی گرفت مضبوظ کر لی تھی۔ یہ حقائق ڈھکے چھپے نہیں کہ ریاستی اقتدار پر غیر جمہوری سول و خاکی افسرشاہی کے اقتدار کو استحکام بخشنے میں بیرونی قوتوں نے بھی اہم کردار سر انجام دیا تھا۔
یاد رہے گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ اور سیاستدانوں کو اہمیت دینے کی بجائے سول افسر شاہی پر انحصار کرتے تھے۔ جس سے جمہوری عمل، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا نظام حکومت میں کردار اور اہمیت کم ہونا شروع ہو چکا تھا۔
تحریک پاکستان کے اہم راہنما اور ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے 1951 میں قتل کے بعد سول افسرشاہی کا اقتدار اعلیٰ پر قبضہ مزید مستحکم ہو گیا تھا۔اسطرح اقتدار کے کھیل میں سیاسی اشرافیہ کا درجہ ایک جونئیر پارٹنر تک محدود کر دیا گیا تھا۔ سیاسی اشرافیہ اقتدار میں جونئیر پارٹنر بننے کے لئے گورنر جنرل کے عہدے پر قابض افسر شاہی کے ہرکارے غلام محمد کی چشم ابرو کے محتاج تھے۔ اقتدار کی ہوس میں سیاسی اشرافیہ نے جمہوری اقدار کی پامالی میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ وہ اقتدار میں جونیئر پارٹنر کا رتبہ پانے کے لئے افسر شاہی کے ہرکاروں گورنر جنرل غلام محمد اور بعد ازاں گورنر جنرل اسکندر مرزا کے آگے پیچھے دم ہلاتے نظر آتے تھے۔
گورنر جنرل غلام محمد نے 1954 کو آرمی چیف جنرل ایوب خان کو حکومت کا وزیر دفاع بنا کر اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا چاہی تھی۔ مگر سول افسرشاہی کے ایک دوسرے ہرکارے اور وزارت داخلہ کے منصب پر فائز اسکندر مرزا نے صاحب فراش گورنر جنرل غلام محمد کو 1955 میں مستعفیٰ ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسکندر مرزا گورنر جنرل کے طاقتور عہدے پر براجمان ہو گیا۔ سول اور فوجی افسر شاہی گٹھ جوڑ میں سول افسرشاہی کاقائدانہ کردار اکتوبر 1958 تک قائم رہا۔
دستور ساز اسمبلی نے 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین مرتب کیا۔ اسکندر مرزا اس آئین کے تحت ملک کا پہلا صدر بن گیا۔ اس آئین کے تحت فروری 1959 کو ملک کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہونا تھا۔ مجوزہ الیکشنوں سے سکندر مرزا اور ایوب خان کو مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کا خوف لاحق ہو گیا تھا۔ صدر سکندر مرزا نے آرمی چیف ایوب خان کے تعاون سے آئین کو منسوخ کرکے 7۔ اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ خود صدر کے عہدے پر قابض رہا اور جنرل ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹیٹر مقرر کردیا۔ دریں اثناء جنرل ایوب خان نے 27۔ اکتوبر 1959 کو سکندر مرزا کو صدارت سے محروم کرکے اقتدار اعلیٰ پر قبضہ مکمل کر لیا۔ اس طرح سول بیوروکریسی کے اقتدار میں قائدانہ کردار کو عسکری قیادت نے سنبھال لیا۔ غیر جمہوری اقتدار کے ایوانوں میں سول بیوروکریسی نے اب درجہ دوم کا پارٹنر بننا قبول کر لیا تھا۔یہ سول اور عسکری افسرشاہی کے گٹھ جوڑ کے نئے دور کا آغاز تھا۔
جنرل ایوب خان کا دور اقتدار مارچ 1969 تک رہا۔ بلآخر اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحیٰ خان نے مارچ 1969 کو صدر جنرل ایوب خان کو ایوان صدر سے بے دخل کرکے نئی مارشل لاء نافذ کی اور ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو گیا تھا۔
ملک کی تیئس سالہ تاریخ میں حق بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخابات دسمبر 1970 میں منعقد ہوئے۔ اقتدار کی پرامن منتقلی میں رکاوٹیں ڈالیں گئیں اور ملک دو لخت ہو گیا۔ اسطرح دنیا کے نقشے پر مشرقی پاکستان کی جگہ ایک نئے خود مختار ملک بنگلہ دیش کا ظہور ہوا اور مغربی پاکستان کی جگہ موجودہ پاکستان نے لے لئی۔ دسمبر 1971 میں ملک کی چوبیس سالہ تاریخ میں موجودہ پاکستان میں پہلی بار عوام کے ووٹوں سے ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی منتخب حکومت قائم کی تھی۔ قیام پاکستان کے چھبیس سال بعد 1973 کو عوام کی منتخب پارلیمنٹ نے ملک کا پہلا متفقہ جمہوری آئین منظور کیا۔ یہ ملک میں آئینی جمہوریت کے دور کا آغاز تھا۔ جس کا دورانیہ زیادہ طویل نہ رہ سکا۔ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے جولائی 1977 کو بھٹو کی آئینی اور منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر تیسری مارشل لاء مسلط کر دی تھی۔
بھٹو کے آئینی جمہوری دور کے خاتمے کے بعد پاکستان براہ راست فوجی حکمرانوں جنرل ضیاء، جنرل مشرف اور بعد ازاں ہائبرڈ طرز حکومت کے مختلف ادوار کا سامنا کر رہا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں