فحاشی کیا ہے؟-نصیب باچا یوسفزئی

یونیورسٹی کے کینٹین اور راہداریوں میں ہونے والی گفتگو محض وقت گزاری نہیں ہوتی؛ یہ دراصل معاشرے کے فکری دھاروں کی عکاسی ہوتی ہے۔ قومی و بین الاقوامی سیاست، زندگی کے نشیب و فراز، ظلم و انصاف، جرم اور اس کے سدباب، معاشرتی اقدار اور ان کی حدود، کوئی موضوع ایسا نہیں جس پر بحث نہ ہوتی ہو۔ میں خود بھی اکثر ان مباحث میں شریک رہتا ہوں۔ ہر شخص اپنی فہم اور تجربے کے مطابق دلیل دیتا ہے، اور یوں ایک ہی موضوع مختلف زاویوں سے زیرِ بحث آتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے پشاور یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ایک ویلکم پارٹی کے دوران ایک طالبہ کی ماڈلنگ واک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس واقعے پر آرا دو واضح حصّوں میں بٹی ہوئی ہیں: ایک طبقہ طالبہ کے حق میں دلائل دے رہا ہے، جبکہ دوسرا اسے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ میں بذاتِ خود اس واقعے پر براہِ راست گفتگو کا خواہاں نہیں، تاہم اس بحث نے میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا ہے: فحاشی آخر ہے کیا، اور اس کی حدود کا تعین کون کرتا ہے؟

اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فحاشی کی کوئی ایک آفاقی اور حتمی تعریف موجود نہیں۔ ویسے بھی سماجی علوم میں بہت کم تصورات ایسے ہیں جن کی ایک متفقہ تعریف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سماج، ہر تہذیب اور ہر دور میں فحاشی کو مختلف زاویوں سے سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے۔ یورپ میں جس عمل کو ذاتی آزادی سمجھا جاتا ہے، وہی ہمارے معاشرے میں معیوب قرار پا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے اندر بھی ثقافتی تنوع اس قدر وسیع ہے کہ ایک ہی عمل مختلف علاقوں میں مختلف ردِعمل پیدا کرتا ہے۔

اگر پشاور یونیورسٹی کے حالیہ واقعے کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا موازنہ ملک کے دیگر شہروں، مثلاً لاہور، کراچی یا اسلام آباد، سے کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان شہروں میں بڑی جامعات ہیں جہاں آئے روز تقریبات اور پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ وہاں لباس اور طرزِ زندگی میں مغربی آزاد خیالی سے لے کر دیہی اور روایتی ثقافت تک، سب کچھ بیک وقت نظر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شہروں میں ایسے مناظر عموماً شدید تنقید کا باعث نہیں بنتے۔

اس کے برعکس پشاور جیسے شہر میں، جہاں سماجی اقدار نسبتاً زیادہ قدامت پسند سمجھی جاتی ہیں، ایک طالبہ کی ماڈلنگ واک غیر معمولی عمل کے طور پر دیکھی گئی اور یوں تنقید کی زد میں آ گئی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا سادہ اور منطقی جواب یہی ہے کہ ثقافت اور علاقے کا فرق انسانی ردِعمل کو متعین کرتا ہے۔

اگر ہم ایک لمحے کے لیے یہ فرض کر لیں کہ اسی پروگرام میں اکثریت نے اسی طرزِ لباس اور انداز کو اپنایا ہوتا، اور یہ عمل وہاں کے ماحول میں غیر معمولی نہ رہتا، تو شاید ردِعمل بھی اتنا شدید نہ ہوتا۔ بالکل اسی طرح جیسے لاہور یا کراچی میں بعض رویے معمول سمجھے جاتے ہیں، اس لیے وہ تنقید سے بچ جاتے ہیں۔

julia rana solicitors

اس پوری بحث کو مختصر الفاظ میں سمیٹا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ فحاشی کے حدود کا تعین کسی لغوی تعریف سے نہیں، بلکہ اردگرد کے سماجی ماحول، ثقافت اور اجتماعی شعور سے ہوتا ہے۔ انسان جب کسی خاص ماحول میں داخل ہوتا ہے تو اگر وہ وہاں کے رائج اقدار اور رویّوں سے یکسر مختلف طرز اختیار کرے، تو وہ اجنبی اور غیر موزوں محسوس ہوتا ہے اور اکثر تنقید کا نشانہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فحاشی کی کوئی ایک تعریف کیوں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے سماجی تنوع کو کس حد تک سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ شاید اسی فہم کے ذریعے ہم اختلافِ رائے کو تصادم کے بجائے مکالمے میں بدل سکیں۔

Facebook Comments

نصیب باچا یوسفزئی
نصیب بچہ یوسفزئی پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، محقق اور نوجوان لکھاری ہیں۔ آپ قانون، سیاست اور معاشرتی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں علمی و فکری پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ نوجوانوں کی فکری رہنمائی، سماجی شعور کی بیداری اور تعلیم کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ آپ کی دلچسپیوں میں قانونی تحقیق، سماجی تجزیہ، انسانی فلاح اور ادبی مطالعہ شامل ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply