• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • واشنگٹن کا فوجی غنڈہ گردی کا نیا باب: وینزویلا کی خود مختاری پر امریکی حملہ اور صدر مادورو کا اغواء/ عمر شاہد

واشنگٹن کا فوجی غنڈہ گردی کا نیا باب: وینزویلا کی خود مختاری پر امریکی حملہ اور صدر مادورو کا اغواء/ عمر شاہد

نوآبادیاتی دور کی وحشیانہ یلغاروں کا اصل وارث، عالمی سامراج کا علمبردار ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج ایک بار پھر اپنے اصلی چہرے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ وینزویلا کی عوامی جمہوریہ پر امریکی فوجی حملہ، دارالحکومت کیراکاس پر بمباری، اور منتخب صدر نکولاس مادورو اور خاتون اول سلیا فلورس کا اغوا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک اعلان جنگ ہے۔ یہ اعلان ہے کہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کی حکمران طبقے اب “بین الاقوامی قانون” یا “جمہوریت” کے ڈھونگ سے پرے براہ راست فوجی طاقت کے زور پر پوری انسانیت پر اپنا تسلط قائم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ عمل نہ تو کوئی عدالتی کارروائی ہے اور نہ ہی “قانون نافذ کرنے” کا عمل، جیسا کہ ٹرمپ اور مارکو روبیو جیسے امپیریلزم کے ایجنٹ دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہ ایک خود مختار ملک، اس کی عوام اور اس کے جمہوری حق خود ارادیت کے خلاف ایک کھلی دہشت گردی اور بین الاقوامی غنڈہ گردی ہے۔ امریکی فوجیوں نے مکمل فوجی آپریشن کے تحت صدر مادورو کو ان کی رہائش گاہ، فورٹ ٹیونا ملٹری انسٹالیشن سے اغوا کیا، انہیں بحری جہاز پر لے جایا گیا اور اب ان پر اپنے ہی ملک میں، امریکہ میں، مقدمہ چلانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ کیا اس سے بڑا المیہ اور طاقت کا استحصال کوئی ہو سکتا ہے؟

یہ حملہ محض چند پرانے غیر ثابت شدہ منشیات کے الزامات کا پردہ ہے۔ حقیقی مقصد ٹرمپ انتظامیہ نے خود واضح کر دیا ہے: “ہم اس ملک کو چلائیں گے۔” مقصد وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہی وہ بنیادی محرک ہے جس نے تاریخ میں لاطینی امریکہ کو “بنانا جمہوریتوں” میں بدل دیا تھا، جہاں مقبول قیادت کو برطرف کرکے یا قتل کرکے امریکی مفادات کو یقینی بنایا جاتا تھا۔ ۱۹۸۹ میں پاناما پر حملہ اور مانوئل نوریگا کا اغوا اسی تسلسل کی کڑی تھی۔ آج مادورو کا اغوا اسی تسلسل کی ایک نئی اور خطرناک کڑی ہے۔

عالمی برادری کی طرف سے ملنے والی ابتدائی ردعمل اس “قاعدے پر مبنی بین الاقوامی نظام” کی مکمل hypocricy (منافقت) کو بے نقاب کرتی ہے۔ برازیل اور میکسیکو سمیت لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چین اور روس نے بھی ایک خود مختار ریاست کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کی مذمت کی ہے۔ عالمی سطح پر، ہندوستان جیسے ملک میں، آل انڈیا سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (CITU) کے کانفرنس میں شرکت کرنے والے ۱۵۰۰ سے زیادہ ٹریڈ یونین نمائندوں اور رضاکاروں نے وینزویلا کے خلاف غیرقانونی امریکی حملے اور صدر مادورو کے اغوا کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا اور ایک قرارداد منظور کی جس میں امریکی امپیریلسٹ جارحیت کی سخت مذمت کی گئی اور صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ عوامی یکجہتی کا ایک طاقتور اظہار ہے۔

وینزویلا کی عوام اور ان کی قیادت ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس “غیر قانونی اغوا” کی مذمت کی ہے اور قوم کو سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے۔ دفاعی وزیر نے مسلح افواج کو مکمل طور پر متحرک کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ جدوجہد صرف وینزویلا کی نہیں، بلکہ پورے لاطینی امریکہ اور درحقیقت تمام عالم جنوب کی ہے، جو امپیریل جبر کے خلاف اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہے۔

اس واقعے کو پوری عالمی برادری کے لیے ایک خطرناک precedent (ثانوی) قائم کرنے والا اقدام سمجھنا چاہیے۔ اگر اس بین الاقوامی غنڈہ گردی کو برداشت کر لیا جاتا ہے، تو یہ اعلان ہوگا کہ طاقتور ممالک کی فوجیں کسی بھی وقت کمزور ممالک میں داخل ہو کر ان کی قیادت کو اغوا کر سکتی ہیں۔ یہ بین الاقوامی تعلقات میں قانونِ جنگل کی واپسی ہوگی۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں:

1. صدر نکولاس مادورو اور خاتون اول سلیا فلورس کو فوری اور بلا شرط رہا کیا جائے۔
2. وینزویلا کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جائے۔
3. امریکہ وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آئے اور تمام فوجی و معاشی جارحیت بند کرے۔
4. اقوام متحدہ سلامتی کونسل اس واضح بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر فوری طور پر اجلاس طلب کرے اور امریکہ کے خلاف کارروائی کرے۔

julia rana solicitors

یہ وقت عالمی امن اور انصاف کے حامیوں، محنت کشوں، طلباء، دانشوروں اور تمام ترقی پسند قوتوں کے لیے یکجہتی کا اظہار کرنے اور اس ننگی امپیریل جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے کا ہے۔ وینزویلا کی جدوجہد ہماری اپنی جدوجہد ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply