پی ٹی آئی بند گلی میں/صوفیہ بیدار

سیاسی منظر نامہ کی جو آج شکل ہے اس میں سیاسی قائدین کی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا کافی عمل دخل ہے یہ وہ شعبہ ہے جس نے اپنی ساکھ کو خود ہی کمزور کیا … برسوں سے سنتے آئے تھے کہ سیاست معاملہ فہمی ، تحمل ، دانش کے درست استعمال اور ٹیبل پر بیٹھ کر مسائل کی مہین گرہیں کھولنے کا نام ہے جس کا سب سے اہم ’’جزو‘‘ لچک، احساس ار وں کی خاطر اپنی ذاتی انا کی قربانی ہے…مگر دور حاضر میں جن سیاسی جماعتوں نے خود کو شدید نقصان پہنچایا ان میں چند خود ساختہ بظاہر سیاسی اور درون خانہ مفاداتی جماعتیں ہیں بہت سی دہشت گرد تنظیموں نے بھی بظاہر سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔
حالانکہ ایم کیو ایم کے انجام و دیگر بلوچی و کے پی کی جماعتوں کے صفحہ سیاست سے غائب ہو جانے سے بڑی جماعتوں کے دعوے داروں کو سبق سیکھنا چاہئے تھا مگر سبق سیکھنے کے لئے ضد ، انا ، ہٹ دھرمی اور بدتہذیبی کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔ پی ٹی آئی سبق نہ سیکھنے اور مسلسل تنزلی کا شکار ہونے کے مراحل کو اس لئے پہنچی کہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی ایک نہایت ضدی ہٹ دھرم اور متنازعہ کردار کا شخص بیٹھا ہے جو ووٹر کو ذہنی آزادی نہیں دیتا بلکہ اسے اپنی ذات کی اسیری تک محدود کرتا ہے ان کی تعلیم کا حصہ بنا دیتا ہے کہ وہ نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔
یہ شخص اپنی ہی پارٹی کے لئے تباہ کن ثابت ہوا ہے جس کی گواہی نجی محفلوں میں اس کے سرکردہ لیڈر دینے لگے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اکثر لیڈروں کو معلوم ہے کہ اس شخص کی وجہ سے ان کا بھی سیاسی کریئر محدوش ہو چکا ہے … اس سیاسی تباہی کی وجوہات اور سیاسی سرمائے کا برباد ہو جانا محض ایک شخص کی ضد اور انا کے باعث ہے جو خود کو ملک پاکستان کا نعم البدل سمجھتا ہے … ان وجوہات میں پہلی وجہ یہ کہ اس نے اپنے ورکروں اور عوام میں آئے ہوئے پرستاروں کو ریاست مخالف اور فوج مخالف پراپیگنڈہ پر مستقل معمور کر دیا۔ یہ خدمت اس کے خاندان سمیت اس کا قیریبی حلقہ بڑے منظم انداز میں نہ صرف سوشل میڈیا پر کر رہا ہے بلکہ فیک اکائونٹس ، بیرونی اکائونٹس اور شرپرستوں کی زیر نگرانی کر رہا ہے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر بارہا اس طریقہ کار پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ کس طرح ٹویٹ کا سفر طے ہوتا ہے اور پھر تمام براعظموں تک پھیلتا چلا جاتا ہے ۔ یہیں تک نہیں وطن دشمنی کا سلسلہ خان کی محبت کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے تمام تر ’’ریڈ لائینز‘‘ کراس کر چکا ہے ۔ ایسے میں ریاست کو بھی مجبور کیا گیا کہ وہ تمام تر صبر اور غلیظ سیاست سے دور رہنے کی کوششوں کے باوجود جواب دینے پر مجبور ہو جائیں۔یہ طے ہے کہ ریاست سے تصادم کی صورت میں فتح یقیناریاست ہی کی ہوتی ہے اپنے سے کئی گنا بڑے بھارت کو شکست دینے اور پہلی مرتبہ اپنے عوام کا فخر اور فتح کی سرشاری سے بلند کرنے کے باوجود ایک کم فہم طبقہ عوام کو افواج کے خلاف اور بھارت کے حق میں کرنے کے جتن جاری ہیں۔
دوسری اہم وجہ کے پی کے کی صورت میں واضح ٹیسٹ کیس ہے کس طرح دہائیوں تک پی ٹی آئی کی حکومت کے باوجود نہ صحت نہ تعلیم نہ سڑکوں نہ اداروں کی بحالی کے لئے کوئی کام کیاکیا بظاہر جس ’’وژن‘‘ کا رولا تھا وہ اس صوبے کے کس کونے کھدرے میں ہے…؟بری طرح پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیلنے والی اس حکومت نے کے پی کو پتھر کے دور تک پہنچا دیا آپ وزیر اعلیٰ کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو بھی امین گنڈا پور ایک علاقے کے کونسلر ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔وہاں کے بے چارے عوام کبھی پرویز خٹک اور کبھی سہیل آفریدی کے ناپختہ وژن کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ سیاسی سیکرین پر صاف لکھا نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی استحکام کے لئے مائنس ون کی طرف جانا پڑے گا جس طرح امیر ترین خاتون علیمہ خان اپنے مفاد کے لئے پی ٹی آئی کو استعمال کر رہی ہے ہر کوئی اپنے مفاد کے لئے اس میں کود پڑا ہے پارٹی مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے ۔ جس کے عوامل میں جیل ، سزائیں ، 9 مئی جیسا وطن دشمن واقعہ 26 نومبر جیسا بحران پیدا کرنا ہر غیر ملکی صدور کے سامنے دھرنے ، جلوس اور ہمہ وقتوں شہروں کو بلاک کرنا شامل ہے ۔
افواج پاکستان نے کبھی نہیں چاہا کہ وہ سرحدوں کی حفاظت جدید ترین ٹیکنالوجی تیز ترین سائنسی ایجادات جنگی آلات دشمنی کے مطابق خود کو تیار رکھنے کی صلاحیت اور اپنے شعبے کے بے پناہ کاموں سے نکل کر سیاست دانوں کے رکیک حملوں اور ہر پل بدلتے بیانات اور بالخصوص پی ٹی آ ئی کی بنیادی وطن دشمن سوچ سے بھی نبرد آزما مگر افواج پاکستان کو مجبور کر کے اس پراپیگنڈہ کو کچلنے اور واضح اعلان پر اکسایا ہے کہ یہ سب نہیں چلے گا سیاست کا مطلب وطن کی بہتری ریاست کی طاقت اور پاکستان کی سالمیت ہونا چاہئے اور اس کے لئے مضبوط فوج جس کے کندھوں کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہو اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ عوام کو بہکائے اور بھولے بھالے لوگوں کو اپنی ہی حفاظت کرنے والوں کے خلاف کرے۔لہٰذا پی ٹی آئی اگر اپنی قومی شناخت بنانا چاہتی ہے تو اسے اس شرانگیز خاندان سے نجات چاہئے ہو گی ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو وطن کی سلامتی سے مشروط رکھا جانا چاہئے اور یہی ناگزیر ہے۔ جیسا کہ ہمارے سپہ سالار کہتے ہیں ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد جس کو سیاست کرنا ہے اپنی حب الوطنی کے پیرا میٹرز کے اندر رہتے ہوئے کرے کسی پاکستان دشمنی ،ریاست مخالف اور وطن کے خلاف بات کرنے والوں کو پاکستانی سیاست تو کیا پاکستان ہی میں رہنے کی گنجائش نہیں ۔تحریک انصاف کو اپنا سیاسی استحکام عزیز ہے تو اپنی قیادت کسی سمجھ دار محب وطن کے حوالے کرے ورنہ پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔

julia rana solicitors london

نئی بات

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply