کہتے ہیں تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں تاریخ سے زیادہ بے رحم اس پر تبصرہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ مکمل ہو یا ادھورا، نیت نیک ہو یا بدنیت، نتیجہ اچھا ہو یا برا، ایک طبقہ فوراً پہنچ جاتا ہے۔ سوال پوچھنے کے لیے نہیں، فیصلہ سنانے کے لیے۔
جب قائداعظم نے قوم کو آئین، قانون اور اصول کی بات سمجھائی تو ایک صاحب فوراً بولے:
“یہ سب کتابی باتیں ہیں، زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں۔”
قائد نے پلٹ کر پوچھا: “یہ کون صاحب ہیں؟”
جواب ملا: “یہ سیاست کے مستقل مبصر ہیں، ہر دور میں زندہ، ہر دور میں ناراض۔”
لیاقت علی خان نے ریاست کو چلانے کے لیے پہلا قدم رکھا ہی تھا کہ ایک آواز آئی:
“یہ رفتار بہت سست ہے، قوم مایوس ہو جائے گی۔”
انہوں نے مسکرا کر پوچھا: “یہ کون ہے جو اتنی جلدی میں ہے؟”
کہا گیا: “یہ وہی ہیں جو ہر حکومت کو پہلے دن سے ناکام قرار دیتے ہیں۔”
سکندر مرزا نے وردی کو سیاست میں جگہ دی تو ایک صاحب نے تالیاں بجا کر کہا:
“بالکل درست، ملک نظم و ضبط مانگتا ہے۔”
ایوب خان آئے تو وہی صاحب بولے:
“یہ آمریت ہے، جمہوریت کا جنازہ نکل گیا۔”
لوگوں نے پوچھا: “آپ کس کے ساتھ ہیں؟”
جواب آیا: “میں اصول کے ساتھ ہوں، بس اصول ہر دور میں بدل جاتے ہیں۔”
یحییٰ خان کے دور میں جب ملک سانس روکے کھڑا تھا تو ایک صاحب نے کہا:
“یہ سب سیاسیوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔”
ملک ٹوٹا تو وہی صاحب بولے:
“یہ تو ہونا ہی تھا۔”
کسی نے پوچھا: “پھر ذمہ دار کون؟”
جواب آیا: “تجزیہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔”
ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تو ایک حلقہ بولا:
“یہ عوام کو خواب دکھا رہا ہے۔”
پھانسی کے بعد وہی حلقہ کہنے لگا:
“قوم نے ایک بڑا لیڈر کھو دیا۔”
کسی نے آہستہ سے پوچھا:
“آپ نے یہ بات پہلے کیوں نہ کہی؟”
جواب آیا:
“اس وقت حالات ایسے نہیں تھے۔”
ضیاء الحق نے اسلام کا پرچم بلند کیا تو کچھ لوگ سجدے میں گر گئے، کچھ مکے لہرانے لگے۔
کچھ نے کہا: “یہ دین کی خدمت ہے۔”
کچھ بولے: “یہ سیاست کا استعمال ہے۔”
اور ایک صاحب ایسے بھی تھے جو ہر جمعے خطبہ سنتے اور ہر پیر کالم لکھتے، دونوں میں تضاد کے باوجود مطمئن رہتے۔
محمد خان جونیجو نے شرافت اور سادگی سے حکومت چلانی چاہی تو کہا گیا:
“یہ سیاست نہیں، مدرسے کی تقریر ہے۔”
جب انہیں ہٹا دیا گیا تو وہی آواز آئی:
“اصل مسئلہ یہی تھا، شریف آدمی اقتدار میں زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔”
بے نظیر بھٹو نے سیاست میں واپسی کی تو ایک گروہ نے کہا:
“یہ ماضی ہے۔”
سانحہ ہوا تو وہی گروہ رو پڑا:
“یہ تاریخ کا بڑا نقصان ہے۔”
کسی نے پوچھا:
“فیصلہ کیا ہے؟”
جواب ملا:
“فیصلہ وقت کرتا ہے، ہم تو صرف تجزیہ کرتے ہیں۔”
نواز شریف آئے تو کہا گیا:
“یہ صنعتکار ہیں، ملک کو کمپنی سمجھتے ہیں۔”
چلے گئے تو کہا گیا:
“ملک کو استحکام چاہیے تھا، یہ دے سکتے تھے۔”
شہباز شریف آئے تو آواز آئی:
“بہت تیز ہیں، قوم ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔”
وہ رک گئے تو کہا گیا:
“یہی مسئلہ ہے، رفتار کم ہو گئی ہے۔”
جنرل مشرف آئے تو پہلے دن کہا گیا:
“اب ملک صحیح ہاتھوں میں آ گیا ہے۔”
چند برس بعد شور مچا:
“یہ تو سب سے بڑا آمر نکلا۔”
وہ رخصت ہوئے تو تبصرہ آیا:
“چلا گیا، مگر ملک کو پیچھے چھوڑ گیا۔”
آصف علی زرداری نے مفاہمت کی بات کی تو کہا گیا:
“یہ کمزوری ہے۔”
جمہوریت چل نکلی تو وہی آواز آئی:
“کمال ہو گیا، نظام بچ گیا۔”
عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تو نوجوانوں نے امید باندھی، بزرگوں نے شکوک پالے۔
اقتدار ملا تو کہا گیا:
“یہ ناتجربہ کار ہیں۔”
اقتدار گیا تو وہی زبان بولی:
“اصل مسئلہ یہی تھا، اس نظام میں ایماندار آدمی نہیں چل سکتا۔”
قاضی حسین احمد کو نظریاتی کہا گیا، مگر غیر عملی۔
مولانا فضل الرحمن کو کبھی موقع پرست، کبھی سیاست کا استاد۔
مولانا سمیع الحق کو کبھی شدت پسندی کی علامت کہا گیا، کبھی تاریخ کا مظلوم کردار۔
ولی خان کو کبھی غدار، کبھی جمہوریت پسند۔
باچا خان کو کبھی سرحدی، کبھی قومی۔
یہ سب کہانیاں نہیں، یہ ہمارے اجتماعی مزاج کی تصویریں ہیں۔ ہم ہر رہنما کو پہلے فریم میں فٹ کرتے ہیں، پھر فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ نیت نہیں دیکھتے، سیاق نہیں سمجھتے، عمل نہیں تولتے۔ بس ایک جملہ چاہیے، ایک لیبل چاہیے، تاکہ دل مطمئن رہے کہ ہم سب سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔
یہ ملک شاید اسی دن سیدھا ہو گا جس دن ہم یہ مان لیں گے کہ سیاستدان فرشتے نہیں، مگر ہم بھی کوئی عقلِ کُل نہیں۔ اس دن شاید کالم بھی کم لکھے جائیں، اور کام زیادہ ہو۔
تب تک، دل ہلکا کرنے کے لیے یہ سب لکھنا ضروری ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں