پاکستانی سیاست کے عظیم دماغ/ محمد امین اسد

کہتے ہیں تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں تاریخ سے زیادہ بے رحم اس پر تبصرہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ مکمل ہو یا ادھورا، نیت نیک ہو یا بدنیت، نتیجہ اچھا ہو یا برا، ایک طبقہ فوراً پہنچ جاتا ہے۔ سوال پوچھنے کے لیے نہیں، فیصلہ سنانے کے لیے۔

جب قائداعظم نے قوم کو آئین، قانون اور اصول کی بات سمجھائی تو ایک صاحب فوراً بولے:
“یہ سب کتابی باتیں ہیں، زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں۔”
قائد نے پلٹ کر پوچھا: “یہ کون صاحب ہیں؟”
جواب ملا: “یہ سیاست کے مستقل مبصر ہیں، ہر دور میں زندہ، ہر دور میں ناراض۔”

لیاقت علی خان نے ریاست کو چلانے کے لیے پہلا قدم رکھا ہی تھا کہ ایک آواز آئی:
“یہ رفتار بہت سست ہے، قوم مایوس ہو جائے گی۔”
انہوں نے مسکرا کر پوچھا: “یہ کون ہے جو اتنی جلدی میں ہے؟”
کہا گیا: “یہ وہی ہیں جو ہر حکومت کو پہلے دن سے ناکام قرار دیتے ہیں۔”

سکندر مرزا نے وردی کو سیاست میں جگہ دی تو ایک صاحب نے تالیاں بجا کر کہا:
“بالکل درست، ملک نظم و ضبط مانگتا ہے۔”
ایوب خان آئے تو وہی صاحب بولے:
“یہ آمریت ہے، جمہوریت کا جنازہ نکل گیا۔”
لوگوں نے پوچھا: “آپ کس کے ساتھ ہیں؟”
جواب آیا: “میں اصول کے ساتھ ہوں، بس اصول ہر دور میں بدل جاتے ہیں۔”

یحییٰ خان کے دور میں جب ملک سانس روکے کھڑا تھا تو ایک صاحب نے کہا:
“یہ سب سیاسیوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔”
ملک ٹوٹا تو وہی صاحب بولے:
“یہ تو ہونا ہی تھا۔”
کسی نے پوچھا: “پھر ذمہ دار کون؟”
جواب آیا: “تجزیہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔”

ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تو ایک حلقہ بولا:
“یہ عوام کو خواب دکھا رہا ہے۔”
پھانسی کے بعد وہی حلقہ کہنے لگا:
“قوم نے ایک بڑا لیڈر کھو دیا۔”
کسی نے آہستہ سے پوچھا:
“آپ نے یہ بات پہلے کیوں نہ کہی؟”
جواب آیا:
“اس وقت حالات ایسے نہیں تھے۔”

ضیاء الحق نے اسلام کا پرچم بلند کیا تو کچھ لوگ سجدے میں گر گئے، کچھ مکے لہرانے لگے۔
کچھ نے کہا: “یہ دین کی خدمت ہے۔”
کچھ بولے: “یہ سیاست کا استعمال ہے۔”
اور ایک صاحب ایسے بھی تھے جو ہر جمعے خطبہ سنتے اور ہر پیر کالم لکھتے، دونوں میں تضاد کے باوجود مطمئن رہتے۔

محمد خان جونیجو نے شرافت اور سادگی سے حکومت چلانی چاہی تو کہا گیا:
“یہ سیاست نہیں، مدرسے کی تقریر ہے۔”
جب انہیں ہٹا دیا گیا تو وہی آواز آئی:
“اصل مسئلہ یہی تھا، شریف آدمی اقتدار میں زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔”

بے نظیر بھٹو نے سیاست میں واپسی کی تو ایک گروہ نے کہا:
“یہ ماضی ہے۔”
سانحہ ہوا تو وہی گروہ رو پڑا:
“یہ تاریخ کا بڑا نقصان ہے۔”
کسی نے پوچھا:
“فیصلہ کیا ہے؟”
جواب ملا:
“فیصلہ وقت کرتا ہے، ہم تو صرف تجزیہ کرتے ہیں۔”

نواز شریف آئے تو کہا گیا:
“یہ صنعتکار ہیں، ملک کو کمپنی سمجھتے ہیں۔”
چلے گئے تو کہا گیا:
“ملک کو استحکام چاہیے تھا، یہ دے سکتے تھے۔”
شہباز شریف آئے تو آواز آئی:
“بہت تیز ہیں، قوم ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔”
وہ رک گئے تو کہا گیا:
“یہی مسئلہ ہے، رفتار کم ہو گئی ہے۔”

جنرل مشرف آئے تو پہلے دن کہا گیا:
“اب ملک صحیح ہاتھوں میں آ گیا ہے۔”
چند برس بعد شور مچا:
“یہ تو سب سے بڑا آمر نکلا۔”
وہ رخصت ہوئے تو تبصرہ آیا:
“چلا گیا، مگر ملک کو پیچھے چھوڑ گیا۔”

آصف علی زرداری نے مفاہمت کی بات کی تو کہا گیا:
“یہ کمزوری ہے۔”
جمہوریت چل نکلی تو وہی آواز آئی:
“کمال ہو گیا، نظام بچ گیا۔”

عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تو نوجوانوں نے امید باندھی، بزرگوں نے شکوک پالے۔
اقتدار ملا تو کہا گیا:
“یہ ناتجربہ کار ہیں۔”
اقتدار گیا تو وہی زبان بولی:
“اصل مسئلہ یہی تھا، اس نظام میں ایماندار آدمی نہیں چل سکتا۔”

قاضی حسین احمد کو نظریاتی کہا گیا، مگر غیر عملی۔
مولانا فضل الرحمن کو کبھی موقع پرست، کبھی سیاست کا استاد۔
مولانا سمیع الحق کو کبھی شدت پسندی کی علامت کہا گیا، کبھی تاریخ کا مظلوم کردار۔
ولی خان کو کبھی غدار، کبھی جمہوریت پسند۔
باچا خان کو کبھی سرحدی، کبھی قومی۔

یہ سب کہانیاں نہیں، یہ ہمارے اجتماعی مزاج کی تصویریں ہیں۔ ہم ہر رہنما کو پہلے فریم میں فٹ کرتے ہیں، پھر فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ نیت نہیں دیکھتے، سیاق نہیں سمجھتے، عمل نہیں تولتے۔ بس ایک جملہ چاہیے، ایک لیبل چاہیے، تاکہ دل مطمئن رہے کہ ہم سب سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔

julia rana solicitors

یہ ملک شاید اسی دن سیدھا ہو گا جس دن ہم یہ مان لیں گے کہ سیاستدان فرشتے نہیں، مگر ہم بھی کوئی عقلِ کُل نہیں۔ اس دن شاید کالم بھی کم لکھے جائیں، اور کام زیادہ ہو۔
تب تک، دل ہلکا کرنے کے لیے یہ سب لکھنا ضروری ہے۔

Facebook Comments

Muhammad Amin Asad
محمد امین اسد ایک پاکستانی کالم نگار، مصنف اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں، جو سماجی، فکری اور سیاسی مباحث میں اپنے سنجیدہ اور متوازن اسلوب کے باعث جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عصری مسائل کا گہرا شعور، تاریخی تناظر اور اخلاقی حس یکجا ہو کر سامنے آتی ہے۔ بطور کالم نگار، محمد امین اسد اردو صحافت کے معتبر پلیٹ فارم " مکالمہ" کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کے مضامین عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی، سماجی اقدار، تعلیم، انسانی امداد اور ادب جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ادبی و فکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، محمد امین اسد کا شمار انسانی خدمت اور بین الاقوامی ترقی کے شعبے میں تجربہ کار پیشہ وروں میں ہوتا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک میں پروگرام پالیسی افسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریڈ کراس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ کیش اینڈ واؤچر اسسٹنس کے ماہر کے طور پر وہ کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹ ورک کے سند یافتہ ٹرینر ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے عالمی ادراہ برا ئے خورک کے تحت ایشیا پیسیفک، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے کیش بیشڈ ٹرانسفر اور آئیڈینٹیٹی مینجمنٹ روسٹر کا حصہ بھی ہیں۔ ذاتی حیثیت میں وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام اباد میں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ مقامی سماجی و فکری حلقوں میں ایک متحرک اور باخبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply