سیاست کبھی اتنی گندی تو نہ تھی /نجم ولی خان

میں نے پنجاب اسمبلی میں خیبرپختونخوا کے وزیر مِینا خان کی گفتگو سنی اور سرشرم سے جھک گیا کہ پی ٹی آئی نے سیاست کو دشمنی میں تو بدلا ہی تھا اور اب اسے ایک غلاظت بھرے گٹر میں بھی بدل دیا ہے۔ میں قرآن پاک پر حلف دے کر نام بتا سکتا ہوں کہ ایک پروگرام کے بعد سٹوڈیو میں ہی آف دی ریکارڈ گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے حامی وکیل نے مجھے کہا تھا کہ اس نے میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کے بارے وہ بات گھڑی اور پھیلائی جس کا ذکر پنجاب اسمبلی میں مِینا خان نے ایک صحافی کے سوال پر کیا۔ میں بطور صحافی ا س سوال کی حمایت نہیں کرتا مگر صحافی تو اپنی فہم اور فکر کے مطابق کوئی بھی سوال کر سکتا ہے اور یہ کام سیاسی رہنما کا ہے کہ وہ اس پر کیا ردعمل دیتا ہے۔یہ سوال کہ سنا ہے کہ آپ چرس لے کر آئے ہیں، اگر نامناسب تھا تو اس کاجواب انتہائی گھٹیا، غلیظ اور بدبودار۔ میں نے کبھی کسی مشہور ، معروف کسی پختون کو اس حد تک غیرت، شرم اور اقدار سے عاری نہیں دیکھا یقینی طور پر اس شخص کی کوئی بھی ماں ہوگی، بہن ہو گی، بیٹی ہوگی اور میں دُعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹے، بھائی یا باپ کے ایسے کمنٹس سے محفوظ رہیں جو اس نے ایک دوسری بہن، بیٹی بارے دئیے۔
یہ ڈس کریڈٹ سو فیصد عمران خان کا ہے کہ اس نے سیاست کو پہلے دشمنی اوراس کے بعد غلاظت میں بدل دیا ۔ میں نو مئی کو رپورٹنگ کر رہا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ دو، دو اور تین، تین ہزار کارکنوں کے جتھے کس طرح جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاوسز، شہدا کی یادگاروں اور مخالفین کے گھروں اور دفاتر پر حملہ آور ہو رہے تھے اورمجھے اس بات کا قومی امکان نظر آ رہا تھا کہ اگر عمران خان کی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے ساتھ مل کر بنائی ہوئی یہ سازش کامیاب ہوجاتی ہے کہ وہ جی ایچ کیو پر قبضہ کر کے سپہ سالار سید عاصم منیر کی سربراہی اور اس کے بعد شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ ختم کردے تو ان جنونی اور جنگلی جتھوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملے کر کے ان کے اہل خانہ تک کو مار کے ان کی لاشیں چوکوں میںلٹکا دینی تھیں۔ ہم اس وقت عمران خان کو توشہ خانہ ون یا ٹو ، ایک سو نوے ملین پاونڈ جیسے کرپشن کیسز میں جیل میں دیکھ رہے ہیں مگر میرے خیال میں عمران خان کا اصل جرم اس سے کہیں زیادہ شدید ہے، مکروہ ہے، گھنائونا ہے۔
مجھے علم ہے کہ بہت سارے الزام دھریں گے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر بھی پھیلائی گئی تھیں تو مجھے اس حوالے سے بھی بطور صحافی ریکارڈ درست کرنا ہے کہ یہ کام نواز شریف کا نہیں بلکہ پنڈی کے اس سیاستدان کا تھا جو خود کو گیٹ نمبر چار کی پیداوار کہتا تھا اور اس نے اپنے آقائوں کے ساتھ مل کر یہ کام کیا تھا، جی ہاں، یہ وہی سیاستدان ہے جسے عمران خان نے کہا تھا کہ اسے وہ اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھے گا مگر اس کے بعداسے وزیر ریلویز بھی بنایا اور وزیر داخلہ بھی۔ بہرحال یوٹرن تو ان صاحب سے منسوب ہی ہیں جیسے انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اور اب ان کی پارٹی کا سب سے بڑا عہدہ ان کے پاس ہے۔ مجھے اصل بحث سے دور نہیں جانا اور اصل بحث یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سیاست کو ذاتی دشمنی اور غلاظت میں بدل کے رکھ دیا ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے بیٹوں کو باپوں کا نافرمان بنا دیا ہے اور بیٹیوں کو یہ بے شرمی دی ہے جس میں وہ یہ تک کہہ جاتی ہیںکہ ان کی مائیں عمران خان سے شادی کرنا چاہتی ہیں اور ان کے باپوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، استغفراللہ !
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے حالانکہ مہذب معاشروںمیں یہ صرف ووٹ دینے اور حکومت بنوانے کا کام ہے اوراس کے بعد عام شہری اپنی زندگی کے امور میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ میری سٹڈی بتاتی ہے کہ برصغیرپاک و ہند کے عوام مذہب اور سیاست میں زیادہ انتہا پسند ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں حقیقی جمہوریت موجود نہیں ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں یہ مسئلہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی موجود ہے جو کبھی متحدہ ہندوستان ہوتے تھے۔ مجھے کسی نے کہا کہ یہ ان مصالحہ جات اور مرچوں کا بھی اثر ہے جو اس خطے میں کھائی جاتی ہیں اور اسی طرح عرب ممالک میں گوشت بہت زیادہ کھایا جاتا ہے تو ان کے لہو میں بھی گرمی ہے۔ مجھے یہ بات کافی حد تک درست لگتی ہے کیونکہ میں نے عربوں کی طرف سے لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا پڑھا ہے اس کا مہذب معاشروں میں سوچا بھی نہیں جا سکتا حتیٰ کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسد خاکی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ بتاتے ہوئے میرا دل دہلتا ہے۔ اسی طرح حسینہ واجد نے جس طرح اسی، اسی برس کے ایسے بزرگوں کو پھانسیاںدیں جو پاکستان سے محبت کرتے تھے تو اندازہ ہوتاہے کہ وہ عورت کتنی بڑی ڈائن تھی جو اپنے ہی چودہ سو ہم وطنوں کو قتل کر وا کے مودی کی دلی میں جا کے پناہ لے کر بیٹھ گئی ہے ۔ ہم نریندر مودی کو گجرات کا قصائی کہتے ہیں اور اس نے جس طرح مسلمانوںکا قتل عام کروایا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور ایسی ہی کچھ غلیظ ترین اور گھٹیا ترین سیاست عمران خان پاکستان میں لے آیا۔
بات مینا خان کی گھٹیا اور غلیظ گفتگو سے شروع ہوئی اور مجھے کہنے میںعار نہیں کہ پختون شرم حیا والے، عزت غیرت والے ہوا کرتے تھے۔ میں نے اے این پی سے جے یو آئی تک کی سیاست کا مطالعہ کیا ہے اور میں نے انہیں اختلاف کرتے ہوئے ضرور دیکھا ہے مگر وہ کبھی گھٹیا پن پر نہیں اتر ے حتی کہ انہوں نے اپنے اصولوں اور نظریات کی خاطر بہت ساری جانوں کی قربانیاں بھی دیں، وہ خود دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ گئے مگر پختونوں میں ایسے غیر اخلاقی کردار بھی ہوں گے جو بہنوں بیٹیوں کی عزتوں تک کے روادار نہیں ہوں گے اور وہ سینئر صوبائی وزیر کے عہدوں تک پہنچ جائیں گے، میں پختونوں میں ایسے زوال کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں پھر کہوں گا کہ چرس لانے کا سوال غیر ضروری بھی تھا اور غیر رسمی بھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ خیبر چلے جائیں یا مہمند ، یا کسی بھی دوسری ایجنسی ، وہاں آپ کو چرسی خانے اسی طرح بنے ہوئے ملیں گے، ان کے بورڈ لگے ہوں گے جیسے پنجاب میں چائے خانوں کے لگے ہوتے ہیں تو اس سوال پر اتنا غصہ کیوں کہ آپ بنیادی اخلاقیات تک بھول جائیں، آپ اپنا مسلمان ہونا بھول جائیں، آپ اپنا پختون ہونا بھول جائیں۔

Facebook Comments

نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply