ای چالان اور عوام کی پھرتیاں/عبدالرؤف

پاکستانی قوم کے المیے تو بہت ہیں، کس کس موضوع پر قلم چلائیں ۔ لیکن اکثر کچھ ایسے معاملات ہو جاتے ہیں جن پر لکھے بغیر رہا نہیں جاتا۔ ابھی کچھ دن پہلے کی تو بات ہے کہ کراچی میں ایک شور اٹھا ای چالان کے حوالے سے وہ گونج اتنی شدید تھی کہ پورا پاکستان سننے لگا۔ لوگوں کا تجسس بڑا بھئی یہ ای چالان بھلا ہے کیا بلا !
جب کچھ معلومات کی تو پتہ چلا کہ یہ ایک خود کار نظام ہے جس میں آپ کو ٹریفک پولیس نہیں روکتی بلکہ کیمرہ آپ کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کو کیمرے میں محفوظ کر لیتی ہیں اور آپ کو آپ کے گھر پر چالان ہزاروں روپے کا بھیج دیتی ہے، کیوں نہ آپ چھولے بیچنے والے مزدور ہی کیوں نہ ہوں۔

جب لوگوں کو علم ہوا کہ کہانی کچھ یوں ہے تو انھوں نے گورنمنٹ پر تنقیدی حملے شروع کر دئیے ، کہ سہولت ٹکے کی نہیں اور چالان ہزاروں کا۔
پہلے یہ گورنمنٹ انفرااسٹرکچر تو بہتر کرے ۔ پورے کراچی شہر کا یہ عالم ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کوئی حادثہ نہ ہوا ہو اور کوئی جان سے نہ گیا ہو۔ پورے شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہیں ۔ جہاں سڑکوں پر فٹ پاتھ غائب ہو۔ اور زیبرا کراسنگ کی لکیریں منوں مٹی تلے دفن ہوں ، وہاں اوور سپیڈ کو ناپنے والے کیمرے کسی مذاق سے کم نہیں لگتے۔عوام بیچارے ناہموار سڑکوں اور تجاوزات کے سمندر سے اپنی گاڑیاں بچائیں یا ان کیٹ آئیز کو ڈھونڈیں جو برسوں پہلے کرپشن کی نذر ہو گئیں۔”

اگر چہ یہ قوم ابھی تک اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ ای چالان کا مطلب کیا ہے؟ بس وہ یہ پتا لگا چکے ہیں کہ سڑکوں چوراہوں پر کیمرے لگیں گے اور ہماری موٹر سائیکلیں، چنگچیاں، سوزوکیاں، رکشے اور لوڈرز جنھیں دیکھ کر میکینک بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ جنھیں فروخت کرنے جاؤ تو خریدنے والے مفت میں بھی لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ اب اس کی تصویریں بھی کھینچی جائیں گیں ، اور بھاری بھرکم جرمانے بھی بھرنے پڑیں گے۔
صرف گاڑی کی تصویر نہیں آئے گی ، بلکہ یہ جو ہم صبح صبح بغیر منہ دھوئے ، منہ میں گٹکا مین پوری ڈالے نکل پڑتے ہیں دو ٹکہ کمانے اب یہ بکھرے بال اور ڈراؤنا چہرہ بھی کیمرے میں محفوظ ہوگا ۔
نہ گاڑی کی قیمت نہ بندے کی شکل ، لیکن وصولی کرنی ہے کہ ان مہذب لوگوں نے ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑائیں ہیں، خلاف ورزیاں کیں ہیں۔

کہتے ہیں، ہم قوم کو با شعور بنانا چاھتے ہیں۔ وہ شعور کے” ش”کو بھی نہیں جانتے۔ اور نا اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ شعور تو خود ایک روحانی طاقت ہے جسے پانے کے لئیے لوگ راتوں کو اٹھ کر مراقبے کرتے ہیں۔ شعور صرف نقص عقل کا نام نہیں جسے پاکر انسان بہت بڑا عقل سلیم والا بن جائے بلکہ شعور تو انسان کو اوج ثریا پر پہنچا دیتی ہے۔

اس قوم کو شعور نہیں ، عقل اور علم کی ضرورت ہے ، جو قوم علم کی بصیرت اور عقل کی شناخت سے ہی کوسوں دور ہو اسے آپ شعور کا درس دینے کی بات کرتے ہو۔
بہر حال ، کالم روحانیت کی طرف چل پڑا واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اس قوم کو ضرورت ہے علم جدید کی جس سے یہ بالکل بھی آگاہ نہیں ہیں۔ اب جب اس قوم کو بتایا جائے گا کہ اس شہر نا پرساں میں ایک نیا عذاب اس غریب عوام پر نازل کیا جا رہا ہے تو وہ اسے بھی ہوا میں اچھال دے گی ۔
ایسا کیوں ہے؟ یہ قوم ابھی تک جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہی نہیں ہوئی ان کی پرورش تو شعور والوں کے ساتھ ہی چلتی رہی لیکن انھیں شعور کی ان روشنیوں سے دور رکھا گیا۔

یہ تو ایک گونگی عوام ہے ۔ جسے عقل ، بصیرت اور شعور سے نہیں بلکہ صرف ڈنڈے سے ہانکا جاتا ہے۔ جس کی اپنی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہوتی.
اس حوالے سے جب اپنے کچھ لا علم دوستوں بات ہوئی تو وہ ہنسنے لگے کہ ہونا کچھ بھی نہیں ہے ، یہاں صرف نوٹ کی طاقت چلتی ہے۔ اب ان دوستوں کو کون سمجھائیں کہ یہ راستے میں کھڑے وہ ٹریفک پولیس والے نہیں جو کچھ کے دے کر جان چھوڑے۔ یہ تو ایک الیکٹرک چالان ہے جو عزت کے ساتھ آپ کے موبائل میں آن وارد ہوگا اور آپ نے اسے باعزت طریقے سے بھرنا بھی ہے۔

اس قوم کا سطحی شعور تو دیکھیں ہر بات کو شرارت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک صاحب کہتے ہیں ، سڑکیں چھوڑ کر گلیوں کا انتخاب کریں گے۔ ایک صاحب کہتے ہیں، ہم گاڑی کی نمبر پلیٹ دھندلی کردیں گے۔ ایک موصوف فرمانے لگیں ہم تو موٹر سائیکل والے ہیں قمیض کا پچھلا دامن نمبر پلیٹ پر ڈال دیں گے۔

julia rana solicitors

افسوس اس بات کا ہے کہ جس قوم کو اپنا دامن گناہوں اور کوتاہیوں سے بچانا چاہیے تھا، وہ اب قانون سے بچنے کے لیے اسی دامن سے اپنی شناخت چھپا رہی ہے۔ کیا واقعی ہم اسی طرح ‘باشعور’ بنیں گے؟”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply