گفتار کے غازی/ علی عباس کاظمی

یہ تحریر ان لوگوں کے نام ہے جوکام سے زیادہ مصروف نظر آنے کا فن جانتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مصروفیت کا مرکز نہ کام ہے، نہ تخلیق، نہ سوچ بلکہ صرف اور صرف گفتگو۔ ایسی گفتگو جو زبان کو تو گرم رکھتی ہے مگر ذہن کو سرد اور ساکت چھوڑ دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ کردار اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب پہچان کرانا بھی ضروری نہیں رہا، بس کسی چوک، کسی ہوٹل یا کسی بیٹھک میں جا کر چند منٹ رک جائیں، یہ خود ہی آپ کو مل جائیں گے۔
ان افراد کے پاس بات کرنے کے لیے موضوعات کی کمی نہیں ہوتی۔ دنیا جہان کے مسائل ان کی دسترس میں ہوتے ہیں، عالمی سیاست سے لے کر مقامی بلدیاتی معاملات تک، مذہب کی باریکیوں سے لے کر کرکٹ ٹیم کی سلیکشن تک سب پر مکمل عبور کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مگر ذرا غور کیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان تمام موضوعات کی بنیاد ایک ہی جگہ سے اٹھتی ہے، ٹیلی ویژن کی سکرین۔ جو کچھ رات کو خبروں میں سنا، وہی اگلے دن نئے پیکنگ کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے۔ الفاظ وہی ہوتے ہیں، جملے وہی، غصہ وہی، بس بولنے والا بدل جاتا ہے۔
یہ لوگ تجزیہ نہیں کرتے، نقل کرتے ہیں۔ سوچتے نہیں، دہراتے ہیں۔ ان کے خیالات ان کے اپنے نہیں ہوتے بلکہ مستعار لیے گئے ہوتے ہیں۔ کسی اینکر کی آواز ان کی آواز بن جاتی ہے، کسی تجزیہ کار کا جملہ ان کی دلیل۔ اگر ٹی وی پر شور ہے تو ان کی محفل میں بھی شور ہے، اگر وہاں الزام تراشی ہے تو یہاں بھی وہی روش اپنائی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے غائب چیز جو نظر آتی ہے، وہ ہے ذاتی فکر۔
ذاتی فکر کا راستہ مطالعے سے ہو کر گزرتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس سے ہماری یہ عوام خوف کھاتی ہے۔ مطالعہ ان کے نزدیک ایک غیر ضروری مشقت ہے۔ درسی کتابیں تو مجبوری میں پڑھ لیں، وہ بھی امتحان کی حد تک، مگر اس کے بعد کتاب سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ دس روپے کا اخبار خریدنا فضول خرچی سمجھا جاتا ہے، مگر گھنٹوں بے مقصد بحث میں وقت ضائع کرنا دانش مندی کہلاتا ہے۔ چند سو روپے کی کتاب ان کے لیے بوجھ ہے، مگر روزمرہ کے غیر ضروری اخراجات کبھی بھاری محسوس نہیں ہوتے۔
جب پڑھنے کی عادت نہیں ہوگی تو سوچ کہاں سے آئے گی۔ جب سوچ پیدا نہیں ہوگی تو گفتگو صرف شور بن کر رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی محفلوں میں باتیں شروع کہیں سے ہوتی ہیں اور ختم کہیں اور جا کر ہوتی ہیں۔ ایک موضوع دوسرے کو کاٹتا ہے، دوسرا تیسرے میں گم ہو جاتا ہے اور آخر میں نتیجہ صفر۔ نہ کوئی سیکھتا ہے، نہ کوئی سکھاتا ہے، بس آوازیں ٹکراتی ہیں اور انا کو تسکین ملتی ہے۔
ان محفلوں کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ یہاں سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہر شخص بولنے کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ جیسے ہی سامنے والا منہ کھولے، فوراً اس کی بات کاٹ دی جاتی ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھا جاتا ہے اور مختلف رائے کو جہالت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہر شخص خود کو عقل مند ترین ثابت کرنے کے چکر میں رہتا ہے، افلاطون بننے کا شوق اس قدر غالب ہوتا ہے کہ سامنے والے کو انسان سمجھنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔
یہی رویہ ہماری فکری جمود کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہم ایک دوسرے کو سننے کے قابل ہی نہیں سمجھتے۔ ہمیں یقین ہے کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، وہی آخری سچ ہے۔ اس یقین نے ہمیں سیکھنے سے روک دیا ہے۔ ہم سوال نہیں کرتے، ہم جواب رٹ لیتے ہیں۔ ہم تحقیق نہیں کرتے، ہم نعرے لگاتے ہیں۔ اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ حالات کیوں نہیں بدلتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عوام خود کو نہایت باشعور تصور کرتی ہے۔ ان کے نزدیک شعور کا مطلب صرف بلند آواز، سخت لہجہ اور طنزیہ جملے ہیں۔ اصل شعور جو خاموشی سے پڑھنے، غور کرنے، خود کو پرکھنے اور اپنی غلطی ماننے سے پیدا ہوتا ہے، وہ ان کے نزدیک شاید کمزوری ہے۔ اس لیے وہ شور کو علم اور ضد کو اصول سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ کردار آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔ بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر حکومت کو ٹھیک کرنے والے، ہوٹل میں بیٹھ کر مذہب کے پیچیدہ مسائل حل کرنے والے، گلی کے نکڑ پر کھڑے ہو کر کرکٹ ٹیم کی تقدیر بدلنے والے۔ خود اپنی زندگی میں کوئی نظم نہیں، کوئی منصوبہ نہیں، مگر قوم کو راستہ دکھانے کا دعویٰ مکمل اعتماد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
یہ لوگ خود کو عقل مند سمجھتے ہوئے کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ اگر کوئی شخص مختلف زاویہ پیش کر دے تو فوراً اس پر لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ مقصد سچ تک پہنچنا نہیں ہوتا، مقصد صرف اپنی برتری ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی گفتگو سے نہ فرد بدلتا ہے، نہ معاشرہ، نہ سوچ۔
جب تک ہم بولنے سے پہلے پڑھنے کی عادت نہیں اپناتے، جب تک ہم اپنی رائے کو علم کی بنیاد پر نہیں پرکھتے، اور جب تک ہم اختلاف کو برداشت کرنا نہیں سیکھتے، تب تک یہی “ویہلے پن” کی مصروفیت ہمارے گرد گھومتی رہے گی۔ چائے کے کپ کے ساتھ انقلاب نہیں آتا، اور محض باتوں سے قومیں نہیں بنتیں۔ قومیں تب بنتی ہیں جب زبان سے پہلے دماغ کام کرے، اور دماغ کو غذا مطالعہ سے ملے۔ ورنہ ہم یونہی خود کو مصروف سمجھتے رہیں گے، اور حقیقت میں فکری طور پر وہیں کے وہیں کھڑے رہیں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply