مہنگائی اور غربت کا طوفان اس ملک پر کچھ اس طرح ٹوٹا ہے جیسے کسی نے جان بوجھ کر پوری قوم کے سروں پر وزن رکھ کر تماشا لگا دیا ہو۔ بجلی کے بل آتے ہیں تو لگتا ہے کسی دشمن نے خط لکھ کر دھمکی بھیجی ہے، گیس کے نرخ بدلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر سانس ٹیکس کے ساتھ مل رہی ہو۔ ادویات کی قیمتیں اس قدر اوپر جا چکی ہیں کہ بیمار ہونا اب جرم لگتا ہےاور خوراک کی صورتحال تو ایسی ہے کہ سبزی خریدنے سے پہلے بندہ اپنی جیب نہیںاپنی عزت نفس چیک کرتا ہے۔ غریب طبقہ خاص طور پر ریڑھی بان ایسے دباؤ میں کچلا جارہا ہے جیسے وہ انسان نہیں کوئی غیر ضروری سامان ہوں۔ شہر کے بیچوں بیچ ان کی ریڑھیاں اٹھا کر پھینک دی جاتی ہیں، کبھی تجاوزات کی آڑ میں اور کبھی کسی افسر کی صبح کی بوریت دور کرنے کے لیے۔ یہ ظلم اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ اسے ریڑھی بانوں کا قتل عام کہنے لگے ہیں کیونکہ رزق چھیننے کا مطلب ہے زندگی کاٹنے کا حکم نامہ۔ ایسے میں سوشل میڈیا غصے، طنز اور دکھ کا بازار بنا ہوا ہے جہاں لوگ اپنی رسیدیں اوربِل لگا کر حکمرانوں کو بتاتے ہیں کہ مہنگائی کس کو کاٹ رہی ہے۔ کبھی ایک عورت آٹے کی قیمت دکھا کر اپنا احتجاج درج کر رہی ہے، کبھی کوئی نوجوان سبزیوں کے نرخ بیان کرتے ہوئے اپنے خالی پرس کی تصویر شیئر کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ طنز نہیںبلکہ ایک چیخ ہے جو ہر گلی، ہر شہر، ہر گھر سے اٹھ رہی ہے۔
گھروں کا ماحول بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی اکاؤنٹ میں آنے والی تنخواہ اور اسی دن غائب ہونے والی رقم کے درمیان چند سیکنڈ کا فرق رہ گیا ہے۔ ماں باپ بچوں کے سامنے بیٹھ کر حساب لگاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے دونوں کے پاس کوئی چھپا ہوا خزانہ ہو جو وہ ظاہر کرنے سے شرما رہے ہوں۔ بڑوں کے چہروں پر تھکن، مایوسی اور بے بسی کی وہ لکیر اب مستقل ہو چکی ہے۔ کہیں کوئی بجلی کا بل لہرا کر بتاتا ہے کہ یہ آدھی تنخواہ کھا گیا، کہیں کوئی گیس کے بل کی تصویر ڈال کر فریاد کر رہا ہے کہ ایسی گیس تو چولہا بھی نہیں جلاتی۔ کئی لوگ اپنی روزمرہ کی کہانیاں سناتے ہیں کہ وہ گھر کے اخراجات کا حل نکالنے کے لیے کھانے کی مقدار کم کر دیتے ہیں، دو وقت کی روٹی کو ایک وقت تک سکیڑ دیتے ہیں اور ادویات کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سب صرف اقتصادی اعداد نہیں، بلکہ زندگیاں ہیں جو چپ چاپ بکھر رہی ہیں۔
نوجوانوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں مواقع نہیں ہیں، نوکریاں نہیں ہیں اور اوپر سے مہنگائی نے زندگی کو مذاق بنا دیا ہے۔ کوئی پوسٹ لکھتا ہے کہ اس نے پاسپورٹ بنوا لیا ہے اور بس ویزا کا انتظار کر رہا ہے، کوئی ویڈیو بنا کر بتاتا ہے کہ وہ یہاں مزید نہیں رہ سکتا کیونکہ یہاں محنت کا پھل صرف بجلی کا بل وصول کرتا ہے۔ کئی لوگ اپنی ہجرت کی خواہش اسی شدت سے بیان کرتے ہیں جیسے کسی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، یعنی دل سے، پوری شدت کے ساتھ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں امید کی بجائے خوف ملتا ہے، خوابوں کی جگہ مایوسی ملتی ہے اور مستقبل کا تصور کرتے ہی دل کانپ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ان آوازوں سے بھرا پڑا ہے جہاں ہر دوسرے نوجوان کی خواہش ہے کہ اسے یہاں سے نکال کر کسی ایسی جگہ لے جائیں جہاں انسان کو کم از کم انسان سمجھا جاتا ہو۔
امیر طبقہ اس تمام صورتحال سے بے نیاز اپنی نرم قالینوں پر ٹہل رہا ہے۔ ان کے گھروں میں لائٹ نہیں جاتی، کیونکہ جنریٹر اور سولر سسٹم ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ان کے بچے مہنگے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، ان کی میزوں پر کھانا کبھی کم نہیں ہوتا۔ وہ جب مہنگائی کی بات سنتے ہیں تو یوں مسکراتے ہیں جیسے یہ کوئی لطیفہ ہو۔ غریب طبقے کے لیے یہ وہ تلخ ترین حقیقت ہے جو سینے میں آگ کی طرح جلتی ہے۔ یہی سماجی عدم مساوات اس معاشرے کا سب سے گہرا زخم بن چکی ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سو روپے کی چیز خریدنے سے پہلے بھی سوچتے ہیں کہ گھر والوں کے چہروں پر بھوک کی چھاپ کتنی گہری ہو چکی ہے۔
معاشرتی رویے بھی اب بدل چکے ہیں۔ گھروں میں غیر معمولی تناؤ بڑھ رہا ہے، لوگ معمولی باتوں پر الجھ جاتے ہیں، بچے خوفزدہ رہتے ہیں، خواتین ہر وقت گھر کے بجٹ کا حساب کتاب کرتے کرتے ذہنی تھکن کا شکار ہو رہی ہیں۔ مردوں کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک اب باقی نہیں رہی۔ ان کی جگہ ایک عجیب سی خاموشی، ایک دباؤ اور ایک منتشر سوچ نے لے لی ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو اپنے خالی برتنوں کی تصویر لگا کر بتاتے ہیں کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ نفسیاتی عذاب بھی ہے۔ کچھ لوگ سرکاری ہسپتالوں کی بھیڑ کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، کچھ بزرگ والدین کی دواؤں کی لسٹ لگا کر بتاتے ہیں کہ پنشن اب ان دفتری کاغذوں میں ہی اچھی لگتی ہے، حقیقت میں کچھ کام نہیں آتی۔
یوں لگتا ہے کہ مہنگائی نے صرف قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ لوگوں کے اندر کے حوصلے، خواب اور امیدیں بھی چیر پھاڑ کر رکھ دی ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نئی خبر آتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حالات بہتر نہیں ہو رہے، بلکہ اور بھی بگڑ رہے ہیں۔ جب زندگی اس حد تک مشکل ہو جائے کہ سانس لینا بھی بوجھ لگے، تب انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت اب ایک خواہش نہیں بلکہ زندہ رہنے کی حکمت عملی بن چکی ہے۔ اگر اس ملک میں عام آدمی کے لیے کچھ نہیں بدلا تو آنے والے وقت میں یہ معاشرہ صرف دو حصوں میں تقسیم ہوگا، ایک وہ جو کچھ بھی برداشت کر کے یہاں رہ جائیں گے اور دوسرے وہ جو اپنی جان بچانے کے لیے کہیں اور چلے جائیں گے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب ہم سمجھیں گے کہ مہنگائی کا بوجھ صرف ریٹ لسٹ نہیں بدلتا بلکہ پوری قوم کا ڈھانچہ ہلا دیتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں