باطن کے دو جہاں ؛صحرا اور سمندر/علی عبداللہ

بچپن میں سمندر اور صحرا سے ہونے والی وہ پہلی ملاقاتیں میرے لیے محض مناظر نہیں تھیں، بلکہ یہ میرے باطن میں دو متوازی جہانوں کی بنیاد تھیں۔ ساحل کی موجیں کبھی پاؤں سے ٹکراتیں تو کبھی دل سے؛ اور یوں لگتا تھا جیسے زندگی میرے اندر ایک بے نام ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔ پھر ایک دن میں نے صحرا کو دیکھا؛ خاموش، بےانت وسعتوں والا صحرا جس کے سناٹوں میں انسان کی اپنی آواز بھی اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ میری شخصیت بھی انہی دونوں عناصر سے مل کر بنی ہے کبھی سمندر کی سی بےقراری، تو کبھی صحرا جیسی گہری خاموشی۔

صحرا نے مجھے سب سے پہلا سبق یہ دیا کہ سکوت بھی ایک زبان ہے اور بعض اوقات سب سے سچی زبان۔ اس خشک، خالی اور غیر آباد خیمۂ زمین میں آدمی خود سے بھاگ نہیں سکتا۔ یہاں کوئی پردہ نہیں رہتا، کوئی مصروفیت نہیں، کوئی شور نہیں؛ بس انسان اور اُس کا خالص ترین نفس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے مفکرین، صوفیا، اور خود سے لڑنے والے اہلِ دانش خلوت کو ہمیشہ روحانی جست کا پہلا زینہ کہتے آئے ہیں۔ صحرا کے بےنشان ٹیلے ہر نقش کے عارضی ہونے کی نشانی ہیں- یہ یہ وہ نشانی ہے جو ہر لمحہ پکارتی ہے کہ ہر سمت بدلنے والی ہے، اور ہر منزل اسی لمحے بکھر سکتی ہے جس لمحے وہ بنی تھی۔ ریت کے چھوٹے چھوٹے بگولے، جو لمحہ بھر کے لیے اٹھتے ہیں، گھومتے ہیں، روشن ہوتے ہیں اور پھر گم ہو جاتے ہیں؛ وہ دراصل انسانی حیات کا فلسفہ ہیں-

صحرا کی وسعت میں ایک عجیب طرح کی حکمت پوشیدہ ہے۔ خالی پن کبھی محض خالی پن نہیں ہوتا؛ یہ وہ کاسۂ شعور ہے جس میں سوال جنم لیتے ہیں۔ شہر کی بھیڑ میں جن سوالوں کی آواز دب جاتی ہے، صحرا ان کی صدا کو کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیتا ہے۔ انسان اپنے وجود کو پہلی مرتبہ صاف سُنتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں اپنے اندر زیادہ تر صحرا ہی پاتا ہوں- ایک خاموش دنیا، جس کی گہرائی اُس وقت آشکار ہوتی ہے جب باہر کے شور کو خاموش کر دیا جائے۔

سمندر اس کے برعکس ہے شور، حرکت، گہرائی اور بےقراری کا استعارہ۔ سمندر سے مجھے محسوس ہوا کہ انسان کا باطن بھی لہروں سے بھرا ہوا ہے- کبھی موجیں ایک دوسرے پر چڑھ کر ٹوٹتی ہیں، کبھی خاموش ہو جاتی ہیں جیسے ان کے نیچے کوئی گھمبیر راز چھپا ہو۔ ہر لہر جیسے اس سوال کو دہراتی ہے کہ وجود کی اصل گہرائی کہاں ختم ہوتی ہے، اور کون سا اندھیرا ایسا ہے جس تک روشنی کبھی پہنچ نہیں پاتی۔ سمندر کی سطح ہمیشہ بدلتی رہتی ہے- یہ وقت کی طرح ہے، جو لمحہ بہ لمحہ اپنے رنگ اور رخ بدلتا ہے؛ کبھی سنجیدہ، کبھی طوفانی، کبھی مسکراتا ہوا، کبھی سب کچھ ڈبو دینے کو تیار۔

مگر سمندر محض ایک طبیعیاتی منظر نہیں، ایک ڈرامائی حقیقت بھی تو ہے- ایک قوت جو زندگی کو بھی اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور فنا کے دروازے بھی کھول دیتی ہے۔ وہ ہر لہر میں تخلیق اور ہر گہرائی میں نیستی کا امکان رکھتا ہے۔ اسی دوگانگی نے سمندر کو انسانی روح کے اندر جاری جدوجہد کا بہترین استعارہ بنا دیا ہے- ایک طرف آرزو کی لہر، دوسری طرف خوف کی گہرائی۔

آج جب میں اپنے اندر جھانکتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ مجھ پر صحرا کا اثر غالب ہے- میری خاموشی، میرا وقار، وسعتِ سوال، سب صحرا سے ملتے جلتے ہیں۔ مگر کہیں اندر ایک سمندری لہر بھی ہے، جو کبھی بےچین، کبھی بےقرار، کبھی زندگی کی سطح پر روشنی کا جھماکا بن کر اُبھر آتی ہے۔

julia rana solicitors london

شاید انسان انہی دو انتہاؤں کے درمیان بنتا ہے- ایک وہ خاموشی جو خود کو ظاہر کرتی ہے، اور ایک وہ شور جو خود کو چھپاتا ہے۔ اور میں انہی دونوں میں سے نکل کر وہ بنتا ہوں جو میں ہوں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply