آئینی ترمیم سپر ہائی برڈ بندوبست/ارشد بٹ

کیا ملک میں سیاسی تضادات ناقابل مصالحت مرحلہ تک آپہنچے ہیں یا اشرافیہ کے درمیان مفادات کا ٹکراو سیاسی قوتوں اور مقتدرہ کے درمیان مفاہمت کے راستے میں حائل ہو رہا ہے۔
ناقابل حل سیاسی تضادات اپنی انتہائی شکل میں ، متحارب طبقوں اور گروہوں میں کھلے تصادم، خانہ جنگی، ریاستی بندوبست میں توڑ پھوڑ وغیرہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بکھیرتا ہوا ریاستی بندوبست ناقابل مفاہمت تضادات کا حل کسی انقلاب میں ڈھونڈتا ہے۔منتشر ہوتی ہوئی کمزور ریاست کو بلآخر تاریخی قوتوں کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑتے ہیں۔ پاکستان میں ایسی صورت حال صرف ۱۹۷۱ میں پیدا ہوئی تھی۔ جب مقتدرہ اور سیاسی قوتیں ملک کو درپیش گھمبیر سیاسی مسائل سیاسی انداز میں حل کرنے میں ناکام رہیں تھیں۔ ملک ناقابل مفاہمت سیاسی کشمکش سے دوچار ہوتا ہوا خانہ جنگی، فوجی آپریشن اور بیرونی مداخلت کا شکار ہو کر دو لخت ہو گیا تھا۔
ستر کی دہائی سے اب تک پاکستان کئی سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزرتا رہا ہے۔ مگر ۱۹۷۳ کے متفقہ آئین نے وفاق پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت کا کام کیا ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں، مذہبی جماعتیں اور سول سوسائٹی ۱۹۷۳ کے اصل آئین پر متفق ہیں۔ یاد رہے کہ جنرل ضیاء نے ۱۹۷۷ میں آئین کو معطل کیا اور آئین میں غیر جمہوری ترامیم کیں۔ جنرل مشرف نے ۱۹۹۹ کے بعد دوبار اس آئین کو معطل کرنے کا عمل دہرایا۔ مگر آئین کی اصل صورت میں بحالی کی جدوجہد جاری رہی۔ جنرل مشرف حکومت خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے آصف زرداری کی زیر قیادت پارلیمانی اتفاق رائے سے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ۱۹۷۳ کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا تھا۔
پاکستان میں ۱۹۷۳ کے آئین کے نام پر ۲۰۱۸ سے جاری ہائی برڈ سسٹم کو چھبیسویں اور حالیہ ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے آئینی اختیارات اور دائرہ عمل میں ترامیم سے عدلیہ پر ا نتظامیہ کی بالادستی قائم ہونے کے واضع آثار پائے جاتے ہیں۔یہ سابقہ چیف جسٹسوں افتخار چوہدری، ثاقب نثار ، کھوسہ اور بندیال کے ہائپر جوڈیشل ایکٹویزم اور ماورائے آئین فیصلوں کے جواب میں ایگزیکٹو کی قوت کا اظہار ہے ۔ اب ججوں کے پر کاٹنے میں حکمران سیاسی، سول اور عسکری اشرافیہ ایک صفحہ پر یکجا ہیں۔ آئینی ترامیم کے ذریعے آرمی چیف کے عہدے میں اختیارات کے ارتکاز پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جمہوری طرز حکومت میں ریاستی اداروں کی شخصیات میں اختیارات کا ارتکاز جمہوریت اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مگر جمہوریت کی دعویدار نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور حکمران اتحاد میں شامل سب سیاسی جماعتوں نے بڑے اہتمام سے متذکرہ آئینی ترامیم کو پارلیمان سے منظور کرایا ہے۔ مبصرین نے متذکرہ آئینی ترامیم کو غیر جمہوری قوتوں کے جمہوری قوتوں پر غلبہ حاصل کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک متذکرہ ترامیم سیاسی اور انتظامی امور چلانے میں حکومت کے لئے نیا توازن قائم کریں گی۔
پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی اور سیاسی عدم استحکام کے تواتر کی وجہ سیاسی قوتوں کی موقعہ پرستی، اقتدار کی ہوس، ہٹ دہرمی، ناپختہ سیاسی ذہنیت اور ریاستی معاملات میں مقتدرہ کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوز کو گردانہ جاتا ہے۔ یہ ناقابل مفاہمت یا اصولی تضادات نہیں بلکہ مفاد پرست اشرافیہ کے گروہوں کے درمیان اقتدار کے لئے کشمکش کا اظہار ہے۔ جمہوریت کے نام پر اقتدار پر براجمان حکومتی اتحاد اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مقتدرہ کی خوشنودی میں تمام حدود پار کر چکا ہے۔ وفاقی اقتدار سے محروم کیا گیا اشرافیہ کا گروہ جس کی نمائندگی پی ٹی آئی کرتی ہے ، صوبہ خیبر پختون خواہ میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے باوجود وفاقی حکومت کےاقتدار کا ہر صورت خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔مگر پی ٹی آئی کو مقتدرہ سے معاملات طے کرنے میں بار بار ناکامی کا سامنا ہے۔ مقتدرہ کی ایک دو شخصیات سے اختلافات کے علاوہ پی ٹی آئی کو مقتدرہ کے ریاستی معاملات میں مداخلت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
حالیہ آئینی ترامیم سے فی الوقت ہائی برڈ نظام پر حکومت اور مقتدرہ کی گرفت مضبوط ہو سکتی ہے۔ ہائی برڈ نظام اب سپر ہائی برڈ نظام کی سطح پر براجمان ہو چکا ہے۔یاد رہے کہ عدلیہ اور عسکری امور کے متعلق ستائیسویں آئینی ترمیم پارلیمانی اتفاق رائےسے نہیں کی گئیں ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے پارلیمانی اتفاق رائے سے ترامیم منظور کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حکومت ہر صورت جلد از جلد آئین میں ترامیم منظور کرانا چاہتی تھی۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ، جے یو آئی اور بلوچ قوم پرست جماعتوں نے پارلیمنٹ میں متذکرہ ترامیم کی مخالفت کی ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی صوبہ خیبر پختون خواہ کی حکمران جماعت ہے جو وفاقی پارلیمنٹ میں نمایاں نمائندگی رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کے راہنماوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آکر ان ترامیم کو واپس کر دے گی۔ اس صورت حال میں آئینی ترامیم نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید وسیع کر دی ہے۔
آئینی ترامیم حکمران اشرافیہ کے لئے اقتدار کو طول دینے کا ایک کھیل ہے جس میں پچیس کروڑ عوام کی دلچسپی کے لئے کچھ نہیں ہے۔ حکمران اشرافیہ سمجھتی ہے کہ آئینی ترامیم سے انکی اقتدار پر گرفت مضبوط ہو گی جس سے ملک میں سیاسی استحکام آئیگا اور معاشی ترقی کے لئے راہ ہموار ہو گی۔ مگر حکمران سیاسی اشرافیہ اور مقتدرہ کو خوش فہمی ہے کہ طویل اور مضبوط اقتدار ملک میں سیاسی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں۔ یہاں صرف اتنا یاد دلانا کافی ہو گا کہ جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دس دس سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ شدید معاشی اور سیاسی بحرانوں پر منتج ہوا تھا۔
ملک کی بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے علاوہ جماعت کے بیسیوں راہنما دو سال سے زیادہ عرصہ جیلوں میں بند ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کو ریاستی ہتھکنڈوں سے سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا گیا ہے۔ سندھ او ر بلوچستان میں پی ٹی آئی کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی اقتدار کے کھیل کا حصہ ہے۔ متذکرہ صورت حال کے علاوہ دگرگوں تنظیمی مسائل اور سیاسی کنفیوژن میں گھری ہوئی پی ٹی آئی ملک میں جمہوری تحریک چلانے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ ان حالات میں مضبوط اقتدار کی طوالت کا تاثر ابھارکر حکمران اشرافیہ اور مقتدرہ اپنی شرائط پر پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کو مفاہمت پر آمادہ کرنے کی کاوشوں کا ڈول ڈال سکتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply