مادر علمی کے احاطے میں
چشمِ تصور کے سامنے موجود تصویروں کو لفظوں کے قالب میں ڈھالنا اک سیماب طبیعت شخص کےلیے نہایت مشکل ہے۔وہ منظر تازہ ہے۔اک سادہ دل، معصومیت سے بھرپور پہاڑی لڑکا،جس نے بلند بالا پہاڑوں، شور مچاتے ندی نالوں، صاف و شفاف آبشاروں،مٹی کے کچے گھروں میں زندگی کی ہو۔اک طویل مسافت روزانہ پیدل سفر کرکے سکول جاتے ہو ،سکول چھٹی ہوتے ہی دنیا کی رعنائیوں ،غم روزگار سے بے فکر ہو کر دن بھر مٹی کے گھر بناتے پھر خراب کرتے، گلی ڈنڈا کھیلتے ،آنکھ مچولی ،پتنگ بازی ،سردیوں میں برف کے گولے بناتے ،ہزار شوخیاں کرتے زندگی جینے کا عادی ہو۔ اچانک شہر کی بے ہنگم فضا میں پہنچے تو حیرات و استعجاب کی کیا کیفیت ہوگی۔ پرندوں کی سُریلی آوازوں کے بدلے ٹریفک کے شور ،سربفلک پہاڑوں کے بدلے بلند و بالا عمارتیں،اک دوسرے سے آگے جانے کا ریس ،نہ محبت نہ سادگی نہ جفاکشی بلکہ اک تصنوع سے بھری دنیا اک حبس سے بھرپور فضا میں سانسیں لینا دشوار ہو ایسے میں اک خوبصورت فضا میسر ہو تو فرحت و مسرت کی انتہا نہیں رہتی۔کل ہی لگتا ہے یہ سب یادیں لیکن پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو 13سال گزر چکے ہیں۔
3مارچ 2013ء،کو جس مادر علمی میں اک طالب علم کی حثییت سے داخلہ ہوا تھا۔گردشِ ایام نے اسی مادر علمی میں اک طویل عرصے بعد تدریسی و تبلیغی خدمات سر انجام دینے کا موقع ملے تو یادوں کا اک طویل سلسلہ آنکھوں کے سامنے رقصاں ہونے لگتا ہے۔ مادر علمی سے داخلہ ہونے سے لے کر اب تک اک اٹوٹ رشتہ قائم ہے۔ دیار غیر میں آنے کے باوجود جب بھی چھٹیوں پر جانا ہوا اس مادر علمی نے اپنے آغوش محبت میں جگہ دی۔ لیکن۔ اس دفعہ اک طویل عرصہ تدریسی خدمت کا موقع ملا ۔جہاں اک ذمہ داری نبھانے کا خوبصورت تجربہ ،اک احساس، اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو جانچنے کا پیمانہ ملا۔ جہاں صبح کی سپیدی پھیلنے سے لے کر شب کی سیاہی پھیلنے تک خوابوں کو تعبیر دینے ،لفظوں کو تصویر میں ڈھالنے کا موقع ملا۔ جہاں علامہ شیخ سکندر کی بارعب، جلالی شخصیت اور علامہ شیخ شیخ محسن اشراقی کی جمالی شخصیت کے امتزاج سے اک خوبصورت ادارے کی نظم و نسق ،کامیابی و کامرانی کا راز جاننے کا غنیم موقع ملا۔اس ادارے میں موجود طالب علموں کی محبت ،خلوص ،ہمدردی نے مجھے تادم مرگ انکی محبتوں کا مقروض کیا۔
چند ایسے لڑکوں کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے مجھے میری ذمہ داری نبھانے کی خاطر آسانیاں اور سہولیات فراہم کی۔ جناب ساجد کھرکوی اور عبد المجید صاحب ،اصغر علی ارمانی و شفقت علی صاحبان نے اس طویل عرصے میں مجھے بروقت ناشتہ،کھانا، ریفرشمینٹ پہنچانے میں ہمہ وقت کوشاں رہے۔ وہ کمرہ جہاں میری سکونت تھی ۔اسکی در و دیواریں انکے حسین یادوں سے مہک رہے ہوں گے۔اس نفسا نفسی اور مادیتی پرستی کے عہد میں ایسے مخلص ،بے لوث،دیانت دار اشخاص کا ملنا خدا تعالی کی نعمت ہے۔اک اور بے لوث اور جہد مسلسل شخص فرقان علی حوائج جن کی فنی و تکنیکی تعاون نے اس عرصے کی علمی و فکری مباحث کو جدید آلات کے ذریعے سوشل میڈیا کی زینت بنانے اور دنیا کے گوش و کنار میں اپنے مقصد کو پہنچانے میں نہایت آسانی ہوئی۔ ان تمام احباب کے ساتھ صرف استاد شاگردی کا روایتی تعلق نہیں بلکہ صمیمانہ و دوستانہ تعلق رہا۔اس ردیف میں حسنین حیدری ،شرافت علی ،سید زیشان ،مزمل کا نام نہ لوں تو شاید یہ باب ادھورا رہے گا۔حسنین حیدری شکل و شمائل میں نہایت سنجیدہ و خشک مزاج مگر محفل ومجلس میں زعفران زار ،لطیف و خوبصورت گفتگو بلکہ دینی و علاقائی درد سے معمور علم و دانش سے شغف رکھنے والا مختلف علمی و فکری مباحث کے حوالے سے سوالات پوچھنا،فرصت کے لمحوں میں طویل بحثوں میں شرکت ان کا وطیرہ رہا۔
شرافت علی مخصوص شگری لہجے میں گفتگو کرتے ،مسکراہٹ ہمیشہ بشرے سے ظاہر جب بھی انکو موقع ملتے قرآنی آیات سے مربوط کوئی سوال کرنے آتے رہے۔میری مطالعاتی و تحریری سفر کے حوالے سے پوچھتے محلے میں ہونے والی کئی علمی و فکری نشستوں میں فرقان حوائج کے ساتھ ہمکاری کرتے رہے۔سید زیشان اور مزمل دونوں کا مجھ سے علاقائی نسبت بھی اُس سے بڑھ کر گھریلو آمد و رفت بھی اس طویل عرصے میں دونوں صاحبان ہمہ وقت میری نجی و دیگر کاموں میں شانہ بشانہ ممد و معاون بنے رہے۔
لکھ رہا ہوں میں داستانِ حیات
مجھ سے پوچھے کوئی دلیلِ حیات
مادر علمی کے احاطے میں زندگی کے حسِین ترین ایام گزرے ،جہاں سے پڑھنا ،لکھنا ،گنگنانا سیکھا ،مادر علمی کے در و دیواریں ہمارے یادوں سے معمور ہیں۔وہ کتابخانہ جہاں راتوں کو رتجگے کرتے کتابوں سے دوستی کی۔جہاں سے لفظوں کے پرتوں کو کھول معانی کی گہرائی میں غوطہ زن ہونے کا سلیقہ سیکھا۔
جاری ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں