اِقتِدَار (2)-مرزا مدثر نواز

کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ ”اقتدار‘ طاقت اور دولت ملنے کے بعد لوگ بدلتے نہیں ہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتے ہیں“۔ اقتدار نصیب ہوتے ہی سب سے پہلے بینائی متاثر ہوتی ہے۔ وہ لوگ نظر ہی نہیں آتے جن کے سوا پہلے کوئی نظر ہی نہیں آتا تھا‘ اچانک اپنا قد بڑا اور دوسروں کا چھوٹا لگنے لگتا ہے۔ بینائی کی کمزوری دور کرنے کے لیے جو عینک لگوائی جاتی ہے اس میں سے بھی ہرا ہرا اور سرخ سرخ دکھائی نہیں دیتا بلکہ وہی نظر آتا ہے جو عینک کا رنگدار شیشہ دکھاتا ہے۔ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ تمام صاحبِ اقتدار ایک ہی عینک ساز کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی اور دور کے ڈھول سہانے یا دور کے تماشے سہانے یا غائب کی تعریف کے مصداق‘ اقتدار کی عمارت دور سے بہت خوبصورت و بلند و بالا نظر آتی ہے لیکن قریب سے سکڑ کر ایک اینٹ بن جاتی ہے۔ دیکھنے والا جب اقتدار سے دور ہٹتا جاتا ہے‘ اقتدار کا قد و قامت دوبارہ بلند ہونے لگتا ہے یعنی اقتدار کوئی الاسٹک قسم کی چیز ہے۔
صاحبِ اقتدار لوگوں کا ردِّ عمل بھی مختلف ہوتا ہے‘ شاید ہی کوئی اسے قید خانہ سمجھ کر اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور تقریباََ سارے ہی اسے ماں کے پیٹ کی طرح محفوظ سمجھ کر باقی ایّام زندگی وہیں بسر کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ شکمِ مادر میں بھی قیام کی حد ہوتی ہے‘ بچّہ وقت پر باہر نہ نکلے تو ماں اور بچّے دونوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایک دفعہ اقتدار کے ایوانوں یا راہداریوں سے گزرنے والے پھر وہیں اپنا بسیرا چاہتے ہیں اور اس کے بعد انہیں یورپ کے حسین محلات و رونق و پیسے کی ریل پیل‘ عرب کے بابرکت شہر‘ اپنے فارم ہاؤسز وغیرہ کچھ بھی نہیں بھاتا۔صاحبِ اقتدار لوگ جب خود عمر رسیدہ ہو جاتے ہیں تو پھر کوشش کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں ان کی جگہ لے لیں تا کہ وہ قریب سے اقتدار کے ایوانوں کو کم از کم دیکھتے ہی رہیں۔
کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اقتدار کی عمارت ساؤنڈ پروف اور مکمل ایئر کنڈیشنڈ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس میں بسنے والے باہر کے شوروغل اور موسمی تبدیلیوں سے بے نیاز رہتے ہیں لیکن اگر برقی رو بند ہو جائے تو پھر صاحبِ عمارت کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ برقی رو کا بٹن عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ سیانے و سمجھ دار و صاحبِ عقل و بصیرت لوگ اپنے آپ کو اقتدار کی عمارت میں بند نہیں کرتے بلکہ تازہ ہوامیں دم لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے حواسِ خمسہ تیز رہتے ہیں۔ وہ آسانی سے لوگوں کی نیّتوں کو سونگھ سکتے ہیں‘ ان کے دلوں کی دھڑکن سن سکتے ہیں اور مشکوک افراد کو کیفر کردار تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماََ کامیاب رہتے ہیں کیونکہ انہیں جہاں کہیں بیوفائی کی بو آئے‘ خوشامد کا ذائقہ پسند نہ آئے یا کسی کا طرزِ عمل کھردرا لگے وہ جھٹ مریض کو عالمِ برزخ یا کم از کم شفاخانہ میں پہنچا دیتے ہیں۔
زیادہ تر صاحبِ اقتدار لوگ عام لوگوں پر ترس کھا کر ان کا کام بھی کرواتے ہیں اور اس کے عوض کچھ نہ کچھ نذرانہ بھی وصول کرتے ہیں اور ان کے اثاثہ جات میں کبھی کبھار بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر ان کے اثاثہ جات میں اضافہ نہ ہو تو ان کے قریبی لوگوں کے اثاثہ جات پرایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ سادہ لوح لوگ اسے رشوت کے زمرے میں گردانتے ہیں لیکن اعلیٰ حلقوں میں اسے تحفے تحائف کہا جاتا ہے اور اس کی تائید میں یہ اسلامی حکم دہرایا جاتا ہے کہ آپس میں تحفے تحائف دیا کرو‘ کیونکہ اس طرح آپس میں محبت بڑھتی ہے۔
جاری ہے

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply