تاریخ کا غیر اخلاقی مطالعہ/قاسم یعقوب

(سیاسی جبر سے پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیاں)

ہمارے ہاں کولونی کے ادوار کو عموماً سیاست، جبر اور دفاعی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں بہت عمدہ کام بھی سامنے آیا ہے۔ ایک زاویہ اشیا کو ان کے فطری نظام میں سمجھنے کا بھی ہے۔ کالونئیل مطالعات کو آثاریاتی مطالعہ بھی کہا جاتا ہے یعنی اشیا ، نظریات یا اعمال کو ان کے پس منظری تناظرات کے اندر جا کے گہرائی سے سمجھنا۔اگرچہ آرکیالوجیکل اسٹڈی میں یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پرانوں زمانوں میں لوگ کیسے رہتے تھے، کیا کھاتے تھے، کیا سوچتے تھے، ان کے عقائد، زبان، اور سماجی ڈھانچے کیسے تھے۔ اس ضمن میں ایک طریقہ فطری بہائو کا بھی ہے۔ یعنی جب کوئی سماج ایک عرصے سے جمود کا شکار ہو تو اس میں تحرک پیدا ہونا فطری ہے۔ یہ تحرک اس سماج کے شخصی وجود کے لیے منفی ہی کیوں نہ ہومگر اُس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں تحرک یا تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اور صرف ایسا نہیں ہوتا کہ یہ تحریک منفی نتائج ہی پیدا کرے۔کچھ اور نہیں تو کم از کم سماج کو اپنی پہلی سطح سے ہٹا کے نئے عمل کا آغاز کر دیتی ہے۔یوں اپنی اصل میں یہ تحرک مثبت ہی ثابت ہوتا ہے۔مثلاً جنوب ایشیائی ممالک پر کالونی کا دور دورا رہا جو جبر ، استحصال کی ایک طویل داستان لئے ہوئے ہے مگر دوسری سمت تاریخ کے بہائومیں یہی دور ہے جب ان خطوں کو قوم پرستی، خود مختاری اور جدیدیت جیسے تجربات سے آشنائی ہوئی۔(یہاں جدیدیت سے مراد جدت یا نیا طرز حیات ہے)
دوسرے الفاظ میں ہم یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بالفرض کسی شخص پر طاقت ور نے ظلم کیا اور اسے بے گھر کرکے نکال دیا، جب کہ (نتیجتاً) یہی بے گھری اور بے دخلی اُس شخص کے مجموعی تشخص کو بدلنے کا سامان بن گئی۔ وہ شخص کہیں اور جاکے بسا اور تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا۔ بعض اوقات منفی عمل مثبت ردعمل کا باعث بھی بنتا ہے۔ مجموعی تناظر میں ایک قوم کی تاریخ مختلف انداز سے مطالعہ کی جاتی ہے۔ ایک مطالعہ یہ بھی ہے کہ Moral Condemnation ہی سے ہر شے کو نہیں دیکھا جائے بلکہ تبدیلی کے کچھ اثرات کو مثبت لیا جائے خواہ اس کے پیچھے منفی عمل ہی کیوں نہ موجود ہو۔ جیسے اوپر ایک مثال میں بے گھری اور جبر نے ایک شخص کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ گویا ان معنوں میں یہ تبدیلی مثبت ثابت ہوئی۔
جنوب ایشیا میں کالونیئل مطالعات میں پارتھا چٹرجی کا نام بہت کم سننے میں آیا ہے حالاں کہ انھوں نے جنوب ایشیا میں کالونی کے ادوار کو ایک نئے طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔چٹرجی نے نوآبادیاتی عہد کو صرف جبر کے تناظر میں نہیں دیکھا بلکہ اسےColonial Modernity کے طور پر سمجھا۔ چیٹر جی کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی دور میں ہر کالونی (مثلاً ہندوستان) کے اندر دو متوازی دنیائیں(Domains) قائم رہی ہیں۔ یہ دور بیرونی اور اندرونی دومینز میں تقسیم ہو گیا تھا۔
ہم عموماً بیرونی ڈومین کی بات کرتے ہیں کہ انگریزوں نے فلاں قانون نافذ کر دیا، فلاں نظام رائج کرکے ظلم کیا وغیرہ۔ حکومت، جبر، تسلط اور ادارہ جاتی طاقت وغیرہ کا ذکر آوٹر ڈومین کے طور پر کیا جاتا ہے مگر اس کے ردعمل میں ایک اور ڈومین پیدا ہوتی ہے جو اصل سماجی تبدیلی ہوتی ہے، ہم اس کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ ہے اندرونی ڈومین یعنی گھر، مذہب، اخلاق ، ثقافتیوں کا تہ دار نظام جو نیچے نیچے زور پکڑ رہا ہوتا ہے۔مزے والی بات یہ کہ یہ انر ڈومین ، آوٹر ڈومین سے براہِ راست اثر لے رہی ہوتی ہے۔ آوٹر ڈومین آتی جاتی رہتی ہے مگر اندرونی یا Inner Domain اصل ہے جو اپنے وجود کو اپنے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ خیر اس پہ بہت تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے۔ (اگرچہ پارتھا چیٹر جی نے اوٹر اور انر ڈومین کو اس طرح پیش نہیں کیا، اس کی تشریح میں اپنے انداز می کر رہا ہوں)
جب کوئی غاصب یا طاقت ور مسلط ہوتا ہے تو اس جبر کے نتیجے میں بہت سی مثبت تبدیلیاں بھی آتی ہیں، ہم جنھیں قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ تبدیلیاں مقامی ثقافتوں کو طاقت ور کرنے کا باعث بنتی ہیں، تاریخ کے مجموعی دھارے میں ترقی اور تبدیلی کو اخلاقی پیمانوں سے نہیں جانچا جا سکتا بلکہ ان کے اثرات سے ماپا جاتا ہے۔ یوں دکھا جائے تو جنوب ایشیا کا پورا سماج کالونی کے دور میں بدل کے رہ گیا، جہاں ہماری اقدار کو نقصان پہنچا وہیں درجنوں ایسے واقعات یا نظریات یا اعمال ہماری روزمرہ زندگی میں شامل ہوئے جو مثبت طور پر ثقافتوں کا حصہ بنے۔ آئیے کچھ کا جائزہ لیں:
۱۔ اپ کو شاید حیرانی ہو کہ پھل، سبریاں اور میوہ جات میں گوبھی، ٹماٹر، آلو، گاجر، امرود پپیتا، انناس، کاجو اور چائے کالونی کے دور میں ہمارے سماج کا حصہ بنے۔یہ یہاں کے قمامی ہیں ہی نہیں باہر سے آئے اور پہلی بار اس خطے میں انھی ظالموں کے ہاتھوں کاشت ہوئے۔ ویسے ہم بھی بڑے چالاک لوگ ہیں دن رات انگریزوں، پرتگالیوں کو گالیاں دیتے نہیں تھکتے مگر اپنی پوری ثقافت ان سبزیوں پھلوں اور میوہ جات پر کھڑی کر کے بیٹھے ہیں۔
۲۔ہم کہتے نہیں تھکتے کہ کالونی نے ہماری ثقافت تباہ کر دی وغیرہ وغیرہ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ قرآن پاک کے اردو تراجم سے لے کر اس کی اشاعت اور تبلیغ کا سب سے اہم دوربھی یہی ہے۔ اسی دور میں ہماری ایشیائی ثقافت کی عظیم نشانی داستانوں کو سب سے زیادہ شائع کیا گیا۔ اسی دور میں نظم جیسی صنف کو فروغ ملا جس نے شاعری کو علامتی غزل گوئی سے نکال کر براہِ راست ’’حملہ کرنے‘‘ کی صلاحیت پیدا کی جس نے ہماری قومی امنگوں کی ترجمانی شروع کی اور اقبال ، حالی اور حسرت پیدا کئے۔ گویا صنف نظم نے ہمارا مقدمہ لڑا جو انگریزوں کے سیاسی جبر کی پیدا وار ہے۔
۳۔انگریزوں کے دور ہی میں ہماری ثقافتوں کی کھوج کی کہانی شروع ہوئی اور ہم نے سندھ ، گنگا جمنی تہذیب کا ڈول ڈال۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اس سے پہلےیہ بحث ہی نہیں ملتی کہ کوئی سندھو تہذیب بھی تھی جو ہمیں ہزاروں سال پرانی اقدار سے جوڑتی ہے۔ یہ بھی اپنی طرز کا تناقض ہے کہ ہم کالونی کے خلاف اپنی اقدار کو پیش تو کر رہے ہیں جو کالونی کے دورہی میں ، کالونی اقدامات کے نتیجے میں ہم پر منکشف ہوئیں۔

julia rana solicitors london

ایسا ہونا کوئی غلط نہیں، ایسا ہوتا ہے کہ جب سماج میں تحرک پیدا ہوتا ہے تو اس کے ڈانڈے بعض اوقات زیادتی، جبر، ظلم اور تحقیر سے مل رہے ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انگریز یا اس سے پہلے پرتگالیوں کے کالونی ادوار میں یہاں نفرت، حقارت اور فاصلہ قائم رکھنے کی طویل روایت موجود ہے جس نے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا تھا مگر سماج کا مطالعہ محض اخلاقی پیمانوں سے نہیں کیا جاتا بلکہ اسے تبدیلی یا تحرک کے غیر سیاسی زاویوں سے بھی دیکھا جانا چاہیئے۔
اگر یہ غلط ہے یا ایسا ممکن نہیں تو برصغیر میں آرئین سے لے کر فارسی تہذیب کے شاہی غلبےتک کو جبر یا ظلم کی عینک سے کیوں نہیں دیکھا جاتا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply