نفس پرستی اور خدا پرستی/ڈاکٹر اظہر وحید

انسان اپنے نفس کی پرستش کرتا ہے یا پھر خدا کی … اس کا نفس اور خدا بیک وقت اس کے قلب پر استویٰ نہیں ہو سکتے۔ باہر کی ماسوائیت اس کے اپنے نفس کی فرمائشیں ہوتی ہیں۔ باہر کی تصویریں اس وقت بت بنتی ہیں جب وہ سینے میں چھپ چھپ کر ہوس کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ باہر کسی ماسوائے اللہ، یا غیر اللہ کے سامنے جھکنے والا درحقیقت پہلے اپنی ہوائے نفس کے سامنے سجدہ ریز ہو چکا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ غیر … انسان کے اپنے خیال کے اندر ہے … باہر سب اسی کا جلوہ ہے۔ اگر اندر سے غیر نکل جائے تو باہر نظر آنے والے رنگ رنگ کے روپ اسی بے رنگ کے بہروپ ہیں۔
جب یہ کہا گیا کہ ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ تو اس سے کیا مراد ہے … اس سے بہت کچھ مراد ہو گا، لیکن ایک امر واقع جو اس سے مراد ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کی نفی کو پہچان اور مان، پھر تجھے اپنے رب کی پہچان میسر ہو گی۔ جب تُو اپنے نفس کو پہچان لے گا تو تجھ پر اِس کی فنا آشکار ہو جائے گی، تجھ پر اِس کا کذب اور غرور (دھوکا) آشکار ہو جائے، پھر تو اپنے سچے رب کو پہچاننے کا اہل ہو جائے گا، پھر تجھ پر کھلے گا کہ تیرا رب کیسے بقا یافتہ ہے۔
تزکیہ نفس سے مراد بھی یہی ہے کہ نفس اپنے فانی پن کو پہچان لے … وہ جھوٹ سن سن کر، اپنی جھوٹی تعریفیں دوسروں کے منہ سے سن کر فخر سے پھول کر کپا ہوا پڑا ہے۔ تجھے جو صفت دی گئی تھی، وہ مستعار تھی … وہ تیری ذاتی صفت ہرگز نہ تھی۔ مخلوقِ خدا صفات کی دنیا میں رہتی میں، وہ ایک اچھوتی صفت دیکھ کر اس صفت پر فدا ہو گئی … اور تُو سمجھتا رہا کہ یہ تیری ذات کے تابع ہو گئی۔ افسوس! تُو صفات کی دنیا سے نکل کر ذات کی دنیا میں داخل نہ ہو سکا … ذات کی دنیا میں فقط ایک ہی ذات جلوہ نما ہے … اور وہ تیری ذات ہرگز نہیں۔ بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ:
جلوہِ ذات سے آگے تھی فقط ذات ہی ذات
بندگی رقصِ سرِ دار سے آگے نہ بڑھی
فقراء کے ہاں کوچہِ ملامت سے گزرنا ایک خاص واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ ملامت کی گلی سے گزرنے والا اپنے نفس کی نفی کا ادراک جلد حاصل کر لیتا ہے۔ اس کا تیز رفتار اشہبِ نفس ملامت کی گلی سے گزرتے ہوئے سست رو ہو جاتا ہے …
وہم اور زعم کا بوجھ جو اس کی پیٹھ پر لادا ہوتا تھا، یہاں اتر جاتا ہے۔ اس کو اپنے ہونے کا وہم تھا، ملامت نے اس کا یہ وہم دور کر دیا ہے۔ اس کو زعمِ آگہی تھی، ملامت چسپاں کرنے والوں نے اس کو اس زعم سے آزاد کر دیا۔ اب وہ بندہِ آزاد ہے … دولت، شہرت اور منصب کی ہوس سے وہ پہلے ہی آزاد تھا … لیکن اپنے راستے میں وہ خود رکاوٹ بنا ہوا تھا، اور یہ ایک ناقابل عبور سنگِ میل تھا جو طے نہیں ہوتا تھا … وہ اپنے راہزن کو دعا دیتا ہے کہ اس سے سرمایہِ فخر و کبر لوٹ کر لے گیا۔ اب وہ رات کو بے خبر سوتا ہے … اور غالب کا ہم زبان ہو کر کہتا ہے:
نہ لٹتا دن کو تو رات کو کیوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو
سیّدِ ہجویرؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں آج سے ایک ہزار برس قبل لکھ چکے ہیں: ’’نفس کی فریب کاریوں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور انسان کے اپنے نفس کے فریب بھی اُس پر ظاہر نہیں ہو پاتے‘‘۔ دراصل انسان اپنے نفس کا تزکیہ خود نہیں کر سکتا۔ تزکیہ نفس کوئی ذی نفس ہی کرتا ہے۔ کتاب تزکیہ نہیں کرتی، کوئی ریاضت اور زیارت نفس کو زیرِ دام نہیں لاتی۔ اگر مطالعہِ کتبِ تصوف سے تزکیہ نفس ممکن ہوتا تو ڈاکٹر این میری شمل حلقہ بگوشِ اسلام ضرور ہو جاتی، لیکن اس نے اس دنیا سے جاتے جاتے یہ اعلان کیا کہ میرے متعلق یہ بات غلط مشہور ہو گئی ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ صد شکر یہ اعلان ان حلقوں کے لیے کافی اطمینان کا باعث ہوا جو کلمے سے آزاد کسی ’’تصوف‘‘ کے قائل تھے۔ اگر زیاراتِ مقدسہ کا سفر نفس کے کس بل نکال سکتا تو حج اور عمرہ کرانے والی ٹریول ایجنسیوں کے مالکان و ملازمین اولیاء اللہ کے درجے پر ضرور فائز ہو چکے ہوتے۔ اگر خانقاہوں پر قیام تزکیہِ نفس کی ضمانت ہوتا تو محکمہ اوقاف کے ملازمین اور مجاورین اصفیاء و اتقیاء کے مرتبے پر پہنچ چکے ہوتے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ کوئی کتابِ ہدایت بھی ہدایت کی سو فیصد ضمانت نہیں … کتاب راہِ ہدایت کی نشاندہی ضرور کرتی ہے، لیکن ہدایت ہادی سے میسر آتی ہے … اور ہادی کوئی ذی نفس ذات ہوتی ہے۔
آیات سے بھرا ہوا قرآن اور نشانیوں سے بھری ہوئی یہ کائنات … یہ دونوں قرآن اس راہرو کی راہ روشن کرتے ہیں … جو امام مبین کی اقتدا میں سفر کرتا ہے۔ کتابِ مبین … امام مبین کے ہاتھ میں ہو تو قرأت سنائی دیتی ہے … وگرنہ قرأت مقابلہِ قرأت سے آگے نہیں بڑھتی۔ قرآن صاحبِ قرآن کی معیت میں اپنے معانی آشکار کرتا ہے … بصورتِ دیگر تمام معانی یا لغت کے محتاج ہوتے ہیں یا نفس کی کسی اکساہٹ کے۔ کتاب میں کیا کچھ ہے، یہ جاننے کے لیے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کتاب سے پہلے کیا تھا … کتاب کس کے ہاتھ میں ہے، اور یہ کہ کتاب کس پر نازل ہوئی ہے۔ جب تک ہم صاحبِ قرآن پر ایمان نہ لائیں، قرآن پر ایمان نہیں لا سکتے۔ قرآن اس کے لیے ایک زندہ کتاب ہے، جس کے نزدیک صاحبِ قرآن بھی ایک زندہ ہستی ہے۔
جس ذاتؐ پر نزولِ کلامِ مجید ہو
وہ ذات کم نہیں ہے مقدس کتاب سے
القصہ! تہذیبِ نفس کے بغیر کسی عبادت، ریاضت اور زیارت کی وہ افادیت نہیں رہتی جو افادہ دراصل مطلوب ہوتا ہے۔ سجدہِ عبادت اگر سجدہِ تسلیم نہ بنے تو بات نہیں بنتی۔ مدعائے عبادت تقربِ ذاتِ خداوندی ہے … اور یہ تقرب طالب کے نفس کی نفی کا تقاضا کرتا ہے۔ نفس کی نفی سے مراد یہ ہے کہ حکمِ خداوندی کے سامنے اپنے نفس کی ضد ختم کر دی جائے۔ نفس کا کبر تفہیمِ دین میں سدِّ راہ ہے۔ نفس اپنی پرستش کرانے کے نت نئے راستے تراش لیتا ہے۔ کہنے کو آدمی خدا کی پرستش کرتا ہے لیکن درپردہ وہ اپنے نفس کی تسکین کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی نیکی اس کی ضد بن جاتی ہے … اس کی تبلیغ اس کی اپنی تفہیمِ دین کے ابلاغ کا سامان ہوتا ہے۔ بسا اوقات وہ اپنی تہذیبی روایات کو دینی روایات کا نام دیتا ہے، اپنے غصے کو غیرت کا نام دیتا ہے … اپنے تعصب کو محبت کا نام دیتا ہے اور بزعمِ خویش دین کا پرچارک ہوتا ہے۔ جب تک نفس کی تہذیب کا سامان میسر نہ ہو، تبلیغِ دین کی دھن خطرے سے خالی نہیں۔ تزکیہ شدہ نفوس خود کو کسی فرقے کا مبلغ نہیں بناتے۔ اپنے مکتبہِ فکر کی تبلیغ دین کی تبلیغ نہیں ہوتی۔
راہِ حق کے راہ رو کو یہاں قدم قدم پر ایک دوراہے کا سامنا ہے۔ متلاشیِ حق جب کسی دوراہے پر قدم رکھے تو خود سے ضروریہ سوال کرے: وہ دین کے راستے پر چل رہا ہے یا اپنے نفس کی تسکین کے راستے پر؟ وہ اپنے مزاج اور مفاد کو دین کا لباس پہنانے کا مرتکب تو نہیں ہو رہا؟ اگر اس سے بہتر کوئی مبلغ میسر ہے تو وہ اس کے حق میں دستبردار ہونے کو تیار ہے؟۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply