جنرل باجوہ اور عمران خان موجودہ ہائی برڈ سسٹم کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔ فروری ۲۰۲۴ کے انتخابات کے بعد پاکستان کی تقریباً سبھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے شریک اقتدار ہو کر ہائی برڈ سسٹم کو جاری رکھا ہوا ہے۔ وفاق میں نواز لیگ کی شہباز حکومت ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ تن تنہا وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے کی حکمران ہے۔ صوبہ سندھ کی حکومت، صدر مملکت، چیئرمین سینٹ، پنجاب اور خیبر پختون خوا کی گورنرشپ جیسے آئینی عہدوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اس سسٹم میں دوسری بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختون خوا کی حکمرانی کے ساتھ سسٹم کا حصہ بننا قبول کیا ہے ۔مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی پہلے ہی شہباز حکومت میں شامل ہوکر ہائی برڈ نظام کے تسلسل میں اپنا حصہ ڈال چکی ہے۔ خیبر پختون خوا کے گورنر کا عہدہ اور بلوچستان حکومت میں حسب خواہش حصہ نہ ملنے پر جے یو آئی سسٹم کی برکات سے محروم رہ گئی ہے۔بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے نام پر سرداروں کے مختلف گروہ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں جبکہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو مقتدرہ صوبہ میں شریک اقتدار نہیں دیکھنا چاہتی۔ منتخب ایوانوں میں مناسب نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی اور اے این پی نظام کے فیوض سے مستفید نہیں ہو سکتیں۔

تقریباَتمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں کے اقتدار کی بندر بانٹ میں حصہ دار ہونے کے نتیجہ میں منتخب ایوانوں کے اندر یا باہر جمہوری اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی۔مقتدرہ کی پشت پناہی سے وفاقی حکومت یک جماعتی طرز حکومت کا منفرد نمونہ ہے۔ چاروں صوبائی حکومتیں بھی اسی طرز حکمرانی کا پرتو ہیں۔ نہ صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن کا موثر کردار نظر آتا ہے اور نہ اسمبلیوں سے باہر اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ کبھی کبھی جماعت اسلامی حسب روایت ادھر ادھر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتی یا کبھی مولانا فضل الرحمن کسی مذہبی اجتماع میں سیاسی خطاب کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ پیپلز پارٹی، نواز لیگ، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم وغیرہ ملک کے کسی حصے میں سیاسی جمہوری عمل کرتی نہیں دیکھی جاتیں۔ نام نہاد سیاسی مکالمہ صرف نجی ٹیلی ویژن کی سکرینوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور سیاسی کارکن نام کی چیز نا پید ہوتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کے موثر کردار کے بغیر جمہوریت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ اپوزیشن کے سر گرمی سے جمہوری عمل میں شرکت نہ کرنے سے جمہوریت کا وجود خطروں سے خالی نہیں کہا جا سکتا ۔
مقتدرہ سے مفاہمت کے نام پر موقعہ پرستی نے ہوس اقتدار، طبقاتی اور ذاتی مفادات کی سیاست پروان چڑھائی ہے۔ سیاسی اشرافیہ اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے ہر غیر جمہوری قدم کو قومی سلامتی کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتی ہے۔بلا استثنا ء حکومت یا اپوزیشن ، کہیں سے آئین و قانون کی حکمرانی اور سول منتخب اداروں کی بالادستی قائم کرنے کی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ گنے چنے چند صحافیوں، دانشوروں اور وکلاء کے علاوہ کہیں سے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی حمائت میں بات نہیں کی جاتی۔ ہائی برڈ سسٹم میں غیر جمہوری قوتوں کا غلبہ پوری آب وتاب سے جلوہ افروز ہے۔
اصولی طور پر عمران خان ہائی برڈ سسٹم میں مقتدرہ کے غلبہ کے حامی ہیں۔ عمران خان کی مقتدرہ کے ایک دو اعلیٰ عہدیداروں سے اختلاف کی وجہ محض انکا رہا نہ کیا جانا ہے۔ ان کے لئے حکومت میں شامل سیاستدانوں سے مکالمہ کرنا اہمیت نہیں رکھتا۔ عمران خان کی عوامی مقبولیت سے کسی کو انکار نہیں مگر انکا طرز سیاست ایک طرف انکی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے تودوسری طرف سسٹم پر مقتدرہ کی گرفت مضبوط تر ہو رہی ہے۔ مختلف الخیال سیاسی قوتوں کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ جمہوری عمل کی روح ہوتی ہے۔ اورسیاسی ڈائیلاگ سے جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہتا ہے۔آج جمہوری عمل نہ صرف رک چکا ہے بلکہ دن بدن پسپائی اختیار کئے ہوئے ہے۔ بد قسمتی سے سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس وقت ملک میں جمہوری سیاسی قیادت کا قحط ہے۔ اب یہاں نہ بے نظیر بھٹو جیسے ویژنری راہنما ہیں، نہ خان عبدالولی خان جیسے زیرک سیاستدان، نہ غوث بخش بزنجو جیسے جمہوری ڈائیلاگ کی روح سمجھنے والے ، نہ نوابزادہ نصراللہ خان جیسے سیاسی اتحادوں کے ماہر اور نہ معراج محمد خان جیسے جمہوری جدوجہد کرنے والے انقلابی راہنما موجود ہیں۔ اقتدار کے بھوکے موقعہ پرست سیاسی بونے موقع پرستیوں کی قلع بازیوں سے اقتدار کی ہوس تو پوری کر سکتے ہیں مگر جمہوریت، آئین و قانون کی حکمرانی، اورغریب طبقوں کے معاشی مسائل حل کرنے سے انکا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں