عذاب یا آزمائش ؟- یوحناجان

ہندوستان کی تاریخ کا یہ انوکھا فلسفہ جو مذہب ، عقیدہ ، ایمان ، بے ایمان ، جنگی ، بھنگی ، رنگی ، کنگھی اور سنگی سب کے سب من گھڑت اور جھوٹی تسلی لینے اور دینے میں محو ہیں۔ اسی نے تاریخ کے اوراق پر وہ سیاہی کے سیاہ دھبے قلم بند کیے جس کا سر نہ پاوں سوائے شور کے اور کچھ بھی نہیں۔ اٹھاوریں صدیں کے آغاز میں باقاعدہ انگریز ہندوستان میں آیا اور اس کے ٹھیک ستاون سال کے بعد وہ اس خطے کامالک بن گیا۔ اس کی دلیل کچھ اور نہیں آغاز میں کی گئی بات ہی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اس خطے کے مالک ہونے کا حق بھی ادا کیا جو آج بھی ثبوت کے ساتھ وثوق سے بیان کیا جاتا ہے۔ اسی وثوق نے زلزلے ، سونامی ، سیلاب اور کئی اس جیسی آفات کا آتے ہوئے استقبال کیا۔ خود چشم دید گواہ بنے اور ان کے اثرات قلم بند کیے۔ وہ سڑکیں ہیں یا ان سڑکوں پر موجود بنے پُل ، دیواریں ہیں یا ان دیواروں پر بنائے ہوئے نقش و نگار ، علم کا جلایا ہوا چراغ یا اس سے نکلنے والی کرنیں ، محنت کے ذریعے کامیابی یا اس سے ملحقہ تاثرات ، نیچ قوم کا مسئلہ یا ان کو بلاوجہ دی جانے والی جاگیریں، انصاف کا محور یا اس کُرسی سے جڑنے کے القابات ، بہترین نہری نظام یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج ، خوشخالی کا دور یا اس سے پیدا ہونے والی خوشی کی لہر سب کے سب جوں کے توں خود با آواز بلند ایمان ، اُمید، بھروسا یا کسی اور کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چمچ جس تھالی میں ہوتا ہے وہ اسی کو خالی کر دیتا ہے۔ محاورہ کے طور پر کیا گیا۔ کچھ یہی تسلسل سے ہوتا ہوا اٹھہتر سال کا دورانیہ گزر گیا پر ہوش اب بھی نہیں آیا۔ اس بے ہوشی کے عالم میں بیدار ہونے کی بجائے مزید جدید انتخاب خرگوش والوں نے خواب خرگوش کو تھالی میں سجائے کالی شلوار پہن لی ہے۔ انھوں نے انڈر گراونڈ تک کالی آندھی کا ہُو مچایا ہوا ہے۔ اس ہُو کے عالم میں عالم کا رنگ بے رنگ ہو گیا۔ تب عالمی وبا کا جھونکا ایک دم سیلاب کا ریلا بن کر نکھرا۔ اس نکھرنے کی گونج نے اس تہ کو تہ در تہ کھولا جہاں بکھرنے کا بیج بویا گیا، بے معانی وطیرہ سمایا، گزر اوقات کی بجائے لمبی تان کر سویا ، تسلسل زندگی کے الم نے کھویا ہوا یہ منظر اُمیدوں پر پانی بہا گیا۔ تب مختلف آرا میں کچھ قیاس آرائی ، کچھ کے ہاں چچا تائی ، جو رہ گئے اُن کے ہاں ہاتھا پائی۔ باقی جو کسی کونے کُھدرے میں چھپے رہے وہاں مُلا پنڈت ، سیاست دان اور چور اُچکے کی رسائی۔ جو زور زور سے مائیک میں یہ کہتا پایا کہ اب ہی تو آیا موسم کمائی۔
کہیں کٹورا اُٹھاِے کھڑا میں مانگنے نہیں آیا پر مجبوری ہے بھائی۔ بھائی کے بھائی داستان پچھلی تاریخ پہ بھی دے رہی ہے دوہائی۔ اب کی بار کرنا نہ ان پر اعتماد ، وجہ پوچھی تو بولا بھائی !
بیٹی ، دادی ، ماں تایا ، چچا نائی ،قصائی، دھوبی اور حلوائی سارے خاندان نے قسم ہے کھائی۔ تب یہ سب ماجرا سمجھ میں آیا کیوں نہیں کرتا یہ خطہ ترقی سوائے منجی کی ٹھکائی۔
اس کے عقب میں دور دور تک نسل در نسل کھا رہے ہیں سب کے سب حرام کی کمائی۔ چھوٹا ہے یا بڑا جو مرضی کرو ، کھاو پیو کرو عیش ، بُرائی دیکھنے پر کر لو بند آنکھیں کیونکہ تمھارے باپ داد نے تمھاری جنت کی ٹکٹ ہے کٹوائی۔
اس نظریہ کی آڑ میں اب کرو یاد وہ زمانہ جب قوم نوح علیہ اسلام پر عذاب کی وبا آئی، نہ تھا روٹی کپڑا اور مکان صرف بچا خدا اور رب کریم کا نام۔ اُس قوم کے ہاں بھی تم جیسے بڑے پڑھے لکھے تھے مگر جاہل۔ گناہ کو گناہ نہ سمجھا سب ہوئے تمھاری طرح برباد۔ اب ہو نہ سکو تم بھی اہل علم وجہ کہی تو ہوئی اک فلم۔ جو فلمیں دیکھ دیکھ کر دوسروں کو ہی فلم سمجھتے ہیں۔ ایک قوم کی نسبت یہاں اصناف اقوام کا بسیرا، جن کے چہروں سے ٹپکتا ہے روایت، جذبہ ، نسل اور نسلی ہونے کا سویرا – اہل مدرس پر اُٹھا کے جوتے سمجھتے ہیں کوئی نہیں ہم جیسا، دیکھے تو جانب چاروں، ایسے ایسے پڑے جن کی کانپیں ٹانگ گئیں میرے بھائی۔ بارشوں نے کیا ایک اتحاد کا وعدہ، اس اتفاق نے نکالا سب بے اتفاقوں کا جنازہ۔ بزم جہاں میں جلائی اک شمع ، سُنایا پیام اور رب کریم کا لازاول نام۔ ان سب کی نظروں میں آفتابِ صبح تھا۔ اُفق کی ادا ، خدائے قدوس کی ثنا ، بارش ، رحمت ، کثرتِ سیل اور آب دونوں کا اتحاد بنا ایک مجموعہ، جس کو بخشی ہوئی قوم نے دیا کباب ، شباب ، جلاب اور سیلاب۔

julia rana solicitors

اے مضمون تفریق ! تو پھنسا ہوا ایک امتیاز حرم ، جلتی کو نہ تو بجھا سکا دل بے قرار اب، ہے انتہائے فریب خیال سب کے سب یکساں بُت کدے میں مگر نہیں یکساں تو دلستان۔ قید، قفس ، غربت ، شرر ، سوز پر ناز تیرا ہے مگر نتیجہ ہے اس کا اب صرف اور صرف بکھرنا ، اُجڑنا ، محرومی اور سراپاِ سیلاب ۔ ان سب کے عوض اب کیا کہوں جو کہتے تھے ہم آزاد ہیں، ہم ایک رنگ ، چمن اور باپ کی اولاد ہیں۔ یہاں تو سب اس کے متضاد اور زحمت کا بازار ہے۔ جہاں پر رحمت بسنے والوں کے لیے زحمت بن کر ثابت ہو وہاں برق نو نہیں ہوتی، وہاں تصویرِ کا دوسرا رُخ زور زور سے بتاتا ہے چمن والوں نے لوٹ لی ہے طرز فغاں۔ ایک طرف رو کر التجا کرنے کے معانی ہیں دوسری طرف اپنے نااہل ہونے پر سراپا درد ہونا ہے۔ اب معلوم نہیں یہ کون سا رونا رو رہے ہیں۔ بگڑی ہوئی کو روتے ہیں یا اہنے بگاڑے ہوئے پر لبِ شرمندہ ہیں۔ آنسو خوشی کے بھی ہوتے ہیں اور غم کے بھی مگر دونوں کا رنگ ایک ہی ہے۔
محنت چور بھی چوری کرنے کے لیے کرتا ہے اور مزدور بھی۔ ماں کے مرنے پر بھی اولاد آہیں لیتی ہے گھر ویران ہوتا ہے۔ ہرطرف سُنسان ہونے کا المیہ ہے پر سیلاب آنے پر بھی کچھ یہی ہو رہا ہے۔ کیا یہ ریاکاری ہے یا آئین فطرت ، اسلوب فطرت یا بلاوجہ وظیفہ پڑھنے کا آئینہ۔ جنون فتنہ یا رزمِِ غافل۔۔۔۔۔
اے غافل کی صدا ! اب تو ہی کچھ بتا تمھاری داستان ہے یہ یا امن کے پُجاریوں کے مٹنے کی ادا۔ دونوں جانب کچھ ہویدا ہے۔ زخم پنہاں نہیں پر شغل اشغال بھی نہیں۔ پھر یہ نہیں وہ نہیں تو یہ ہے کیا؟
داغِ محبت کو چھوڑ کر داغ آئینہ دیا۔ اس نے سوز زندگی کو کچھ یوں مثال دی۔ عمر گزری پر طبیعت میں حرام کا لقمہ ہے تیرے لبوں پہ اب بھی کیا بے مقصد فتنہ ہے۔ اس کم بخت فتنے نے خود بھی ایک مکڑی کی طرح خود کو جال میں پھنسا لیا ہے ماننے کو تیار نہ جاننے کو۔ اب میرا ایک ہی ان سے سوال کیا یہ ہے آزمائش ، عذاب یا سیلاب ؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply