• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بائبل اور مسیحیت ‘مرزا جہلمی کے موقف کاجائزہ/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

بائبل اور مسیحیت ‘مرزا جہلمی کے موقف کاجائزہ/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے، اور اس کی تمام آیات اسی حالت میں ہم تک پہنچی ہیں جس حالت میں وہ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ یہی ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ اس یقین کے بغیر کوئی شخص مومن نہیں رہ سکتا اور نہ ہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قرآن سے پہلے جتنی بھی کتابیں اور صحائف اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں، ان سب پر ایمان لائیں۔ ساتھ ہی قرآن مومنین کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کرتا ہے کہ ان کتابوں میں ان کے پیروکاروں کی جانب سے تحریف بھی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان صحائف میں جو تعلیمات قرآن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں، ہم انہیں قبول اور بیان کر سکتے ہیں، لیکن جو مضامین قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہوں، ہم ان کا رد کریں گے اور ہرگز بغیر تردید کے بیان نہیں کریں گے۔
پچھلے دنوں ایک نامور مذہبی اسکالر، انجینئر محمد علی مرزا صاحب جہلمی، کی ایک دل آزاری پر مبنی گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس کے بعد مرزا صاحب جہلمی گرفتار ہوئے اور ان کی گرفتاری کی خبر تیزی سے سوشل میڈیا پر  پھیل گئی۔ بڑے بڑے علما اور دانشوروں کی مختلف آرا سامنے آئیں۔ کسی نے مرزا صاحب جہلمی کو توہینِ رسالت کا مرتکب قرار دیا، تو کسی نے ان کے بارے میں نرمی اختیار کرنے کی تلقین کی۔
• مرزا صاحب جہلمی کا انجام کیا ہوگا، یہ تو پروردگارِ عالم ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب جہلمی نے بائبل کا حوالہ دے کر جو گفتگو کی تھی، کیا وہ واقعی بائبل میں موجود ہے؟ کیا مسیحی واقعی ایسا عقیدہ رکھتے ہیں؟ یا یہ مرزا صاحب جہلمی کی اپنی فہم ہے جو انہوں نے بائبل  سے اخذ کی ہے؟

بائبل   میں سیدنا مسیح علیہ السلام  نے اپنے شاگردوں کو تنبیہ کی کہ اُن کے بعد جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح پیدا ہوں گے۔ اس بات کا ذکر پوری بائبل میں صرف تین اناجیل یعنی متی ، مرقس اور لوقا کی  پانچ مختلف آیات میں ملتا ہے۔
انجیل متی کے باب 24 آیت 11 میں لکھا ہے
“اور بہت سے جھوٹے نبی اُٹھیں گے اور بہت سوں کو گمراہ کریں گے۔”
اسی باب کی آیت 24 میں مزید فرمایا:
“کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجائبات دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔”
اسی طرح انجیل مرقس کے باب 13 آیت 22اورانجیلِ لوقا باب 21 آیت 8 میں بھی یہی بات درج ہے۔

سوال یہ ہے کہ کوئی مسیحی مذکورہ آیات کی تفسیر مرزا صاحب جہلمی سے سمجھے گا یا اپنے مذہب کے عالم سے؟ ظاہر ہے، وہ اپنے پادریوں ہی سے رجوع کرے گا۔ تو آئیے، ہم بھی دیکھتے ہیں کہ مسیحی علما ان آیات کی کیا تشریح کرتے ہیں۔

17ویں صدی کے مشہور مسیحی عالم اور بائبل کے مفسر میتھیو ہنری کے مطابق جھوٹے نبی صرف غیب گوئی کرنے والے نہیں بلکہ ایسے افراد ہیں جو خدا کی طرف سے پیغام لانے کا دعویٰ کر کے لوگوں کو بہکاتے ہیں۔
BibleRef
جیسے جدید مفسرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ
سیدنا مسیح کے یہ الفاظ براہِ راست شاگردوں کو متنبہ کرنے کے لیے تھے۔
مقصد یہ تھا کہ جب وہ کسی فتنہ، جنگ، یا جھوٹے مدعی کو دیکھیں تو فوراً قیامت یا مسیح کی دوبارہ آمد نہ سمجھیں۔

19ویں صدی کے معتبر تفسیر پپلٹ کمنٹری کے مطابق پہلی صدی کے یہودی سماج میں ایسے مدعیانِ الہام کثرت سے اٹھے جنہوں نے رومیوں کے خلاف فتح اور نجات کی نوید سنائی۔ یوسفُس، یہودی مورخ، نے بھی اپنی تحریروں میں ان کرداروں کا ذکر کیا ہے۔

بائبل کے یہ مفسرین ان آیات کی تشریح میں پہلی صدی عیسوی سے لیکر چوتھی صدی تک تمام افراد کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے نبوت یا الہامی حیثیت کا دعویٰ کیا تھا مثال کے طور پر
سائمن مجوسی:
اعمالِ رسول )Acts 8:9–24)جس کا ذکر میں ملتا ہے.
اس نے جادوگری کے ذریعے لوگوں کو متاثر کیا اور روح القدس کی قدرت کو خریدنے کی کوشش کی۔
مسیحی روایات میں اسے پہلا “جھوٹا نبی” کہا جاتا ہے۔
ڈوسیتھیسٹ تحریک: پہلی صدی کے آخرمیں،
یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام تھا۔
ان کا عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام جسمانی طور پر نہیں آئے بلکہ صرف ایک روحانی مظہر کی صورت میں ظاہر ہوئے۔
(مونتانُس ) – دوسری صدی
ایشیائے کوچک (آج کا ترکی) کے علاقے فریجیہ میں ظاہر ہوا۔
اس نے خود کو “نبی” کہا اور اپنی دو خواتین ساتھیوں کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا اس کی تحریک کومونتانس کہا جاتا ہے
تیسری صدی ۔ (مانی) یہ ایران میں پیدا ہوا اس نے ایک نیا مذہب “مانویت” قائم کیا جو مسیحیت ، زرتشتیت اور بدھ مت کا امتزاج تھا ۔
وہ اپنے آپ کو “روح القدس کا نبی” کہتا تھا اور اپنی تعلیمات کو الہامی قرار دیتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح ابتدائی صدیوں ہی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے اور کلیسیا نے انہیں ہمیشہ “فتنہ” اور “گمراہی” قرار دیا۔

بائبل کے مفسرین مذکورہ پانچ آیات کی یہ تفسیر کرتے ہیں کہ سیدنا مسیح کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد جھوٹے لوگوں نے نبوت یا مسیح ہونے کا دعویٰ کیا
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بائبل کی  آیات میں لفظ جھوٹا لکھا گیا ہے اور مسیحی مفسرین بھی وہی لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن مرزا صاحب جہلمی اپنے اُردو سامعین کو انگریزی بائبل کے لفظ کا غلط ترجمہ عربی لفظ دجال سے کرتاہے دجال لفظ مسلمانوں کی اصطلاح ہے جسے ہم دجال کہتے ہیں بائبل اسے “اینٹی کرائسٹ ” مسیح دشمن کہتا ہے ۔
اور اس دجال کوجو قرب قیامت میں آئے گا اس کو تو کہتے ہی “المسیح الدجال” اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا تم انتظار کررہے تھے ۔
ان آیات میں سیدنا مسیح نے یہ نہیں کہا کہ میرے بعد نبوت ختم ہوئی اب ہر کسی کا دعویٰ نبوت جھوٹ پر مبنی ہوگا ۔ بلکہ یہ کہا کہ لوگ جھوٹی نبوت ، یا مسیح ہونے کا دعویٰ کریں گے ۔
عزیزانِ من ۔
پوری بائبل مقدس میں ایسی ایک بھی آیت نہیں ملتی کہ جس میں سیدنا مسیح علیہ السلام نے کہا ہو: “میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
بلکہ اس کے برخلاف یوحنا کی انجیل میں مسیح علیہ السلام نے “پیرکلیت” یا “مددگار” کے آنے کی خبر دی:
“میں باپ (یعنی رب )سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں ایک اور مددگار دے  گا، وہ روحِ حق ہے” (یوحنا ۔ باب 14 آیت 16-17 )
انجیل یوحنا میں چار مقامات پر ‘پیرکلیت’ کے آنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ دراصل یونانی لفظ ہے جسے بعد میں ‘مددگار’ یا ‘تسلی دینے والا’ کے معنی میں ترجمہ کیا گیا۔ اگر اس لفظ کو اس کی پرانی حالت میں یعنی ‘پیرکلیتوس’)Periklutos )
کے طور پر بحال کیا جائے تو اس کے معنی بالکل وہی ہیں جو عربی میں ‘احمد’ کے ہیں۔ اس طرح سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے شاگردوں کو آنے والے ‘احمد’ یعنی حضرت محمد ﷺ کی بشارت دی تھی۔
جس کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۃ الصف میں بھی موجود ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کا ہر لفظ سچا ہے۔
لیکن مرزا صاحب جہلمی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل کے مطابق سیدنا مسیح علیہ السلام کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ (نعوذ باللہ) جھوٹا ہوگا۔ (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)۔ اگر صرف بائبلِ مقدس کو موضوعِ بحث بنایا جائے تو بھی یہ بات بالکل غلط اور من گھڑت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا جہلمی نے بائبل اور تمام مسیحیوں پر بہتان باندھا ہے۔ یہ مرزا جہلمی کا الزام ہے، نہ یہ مسیحیوں کا عقیدہ ہے اور نہ ہی بائبل کی تعلیمات میں سے ہے۔
مسیحیت کے بعض فرقے تو آج تک نبوت کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایل ڈی ایس مورمن چرچ ایک زندہ نبی پر ایمان رکھتا ہے ۔ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ ایلن جی۔ وائٹ کو نبوی عطیہ یافتہ شخصیت مانتا ہے۔ نیو اپاسٹولک چرچ میں آج بھی رسولوں اور نبیوں کا تصور موجود ہے۔ اسی طرح پینتیکستل اور کرزماتک روایت میں نبوت کو ایک روحانی عطیہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

حاصلِ بحث یہ ہے کہ مرزا صاحب جہلمی نے اس ویڈیو میں بائبل کو بنیاد بنا کر جو کچھ کہا، وہ مسیحیت پر صریح بہتان ہے، جس کے نتائج نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ عین ممکن تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بڑا فساد کھڑا ہو جاتا، مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ معاملہ وہاں تک نہیں پہنچا اور اب یہ مسئلہ مسلمانوں کے آپس کا رہ گیا ہے۔

julia rana solicitors

مرزا صاحب کی تمام گفتگو دراصل ان کی اپنی فہم و تشریح کا نتیجہ ہے، اس لیے اس کے اثرات کے وہ خود ہی ذمہ دار ہوں گے،دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ میری گزارش ہے کہ محض وقتی شہرت کے لیے اپنی عاقبت کو خطرے میں نہ ڈالیں، الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتیں اور اپنے غلط مؤقف کو قائم رکھنے کے لیے حدود سے تجاوز نہ کریں۔”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply