سماج میں بدلتی اقدار اور ماحول کے متعلق تو ہم اکثر سنتے ہیں کہ فلاں ایجاد پہلے نہیں تھی اور اب ہے یا پہلے ایسا نہیں ہوا کرتا تھا اب ایسے ہونے لگا ہے۔ اصل میں سماجیات کا نیا تصور کسی پہلے سے موجود چیز، رسم یا ایجاد کو نیا یا وسیع کرنے کا نام نہیں بلکہ یک سر نئی دنیا میں ڈھلنے کا عمل ہے۔ نئے سماج کا مرحلہ نئے تصورات اور حالات میں نئے چیلنجز سے نمٹنے کا عمل ہے۔پرانی سماجیات کو نیا بنانے یا اسے وسعت دینے سے ’’نیا سماج‘‘نہیں بنتا۔ مثلاً پرانی سماجیات میں لوگ مٹی کی دیواروں والے گھروں میں رہتے تھے، اب سیمنٹ والے گھروں میں قیام پذیر ہیں یا پہلے تعلیم کسی شخص کے پاس بیٹھ کے حاصل کرتے تھے اب کلاس روم کلچر ہے۔ پہلے کپڑوں ہاتھ سے بُنتے تھے اب مشینوں پر بُنے جاتے ہیں۔یہ سب پرانی سماجیات کو وسعت دینے کاعمل ہے مگر نیا سماج نئی سماجیات لاتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ نئے سماج کے تصور میں یک سر تبدیلی ٹیکنالوجی یا مشین کلچر سے آئی جیسے تصویروں یا سکرین میں ہر گزرتے عمل کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔مشین، ٹیلی فون، انٹرنیٹ وغیرہ کی ایجادات نے سماج کی کُلی ہئیت کو بدل کے رکھ دیا ہے ، مگر بہت بڑی سطح پر دیکھا جائے تو یہ پرانوں کی وسعت یا جدید بنانے کا ہی عمل ہے۔ پہلے خط تھا اب فون ہے۔پہلے مٹی کے برتن تھے اب چینی برتن یا شیشے کے ظروف ہیں۔ تو پھر سماج کے تصور حیات میں اصل تبدیلی کہاں سے آئی؟یک سر تبدیلی سے میری مرادradical یا structural change ہے۔
فوکو تو کہتا ہے کہ سماجی تبدیلی طاقت اور علم کے نئے ڈھانچوں سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ نظری سطح پر یہ بات درست ہے مگر عملی سطح پر کیسے؟
پچھلے دنوں میرے بیٹے فائز نے ایک ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے کہا کہ دیکھیں ہمیں پیسوں کے بدلے کھانا ملتا ہے اگر پیسے نہ ہوں تو یہ ہمیں کبھی کھانا نہ دیں۔ بات تو کچھ اور ہو رہی تھی اور کہیں اور ہوتی رہی مگر بعد میں، میں سوچتا رہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ کھانا پیسوں کا ملتا ہے۔ یہ بالکل جدید تصورِ حیات ہے۔ چند سو سال پیشتر کھانا خرید کر کھانے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ریسٹورینٹ کلچر مکمل طور پر جدید تصور ہے۔ یعنی پیسے دیں اور کھونا کھا لیں۔سو دو سال پہلے تک یہ تصور ناپید تھاکہ سرِ راہ جگہ جگہ کھانے کی عمارات ہوں۔
رہائش کا تصور بھی جدید ہے۔ چند سو سال پیشتر ایسا تصور نہیں ملتا کہ پیسے دے کر کسی جگہ کو اپنی رہائش بنا لی جائے۔ رینٹ پر رہائش اختیار کرنے کا کلچر بالکل نیا تصورِ حیات ہے جو گذشتہ صدی میں اپنے عروج پر چلا گیا۔
کسی ایک جگہ رہنے کی پابندی بھی نئے سماجیات کی دین ہے۔ ایک خطہ ایک ملک کے تصور سے جوڑا گیا۔ جس کی محض نظریاتی حد بندی ہی نہیں بلکہ فزیکل حد بندی بھی ہے۔ اس قدر فزیکل کہ ایک قدم بھی اِدھرسے اُدھر نہیں جایا جا سکتا۔ اس حدبندی کو بارڈرز کہا گیا۔زمین کے ایک خطے میں یہاں سے وہاں تک قید رہنےکا یہ تصور نئے سماج نے دیا۔ ایسا تصور چند سو سال پہلے نہیں تھا۔پہلے زمانے کا انسان ایک خطے سے نکل کے دنیا میں کہیں بھی جا سکتا تھا۔ البتہ ریاستوں یا نظم حکومت کا تصور صدیوں سے موجود رہا ہے مگر ان حکومتوں کے زیرِ انتظام فرد بھی ایک جگہ مقید رہے، ایسا تصور پہلے بالکل نہیں تھا۔
نئی ایجادات سے نئی سماجیات تو بنتی رہتی ہے مگر گاڑی کی ایجاد نے واقعی نیا سماج بنایا۔ دورانِ مسافرت حادثات کا تصور بھی بالکل نیا تصور ہے۔ ایک دو سال پہلے تک انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھوڑوں یا خچروں کے ٹکرانے سے انسان مر سکتے ہیں یا یہ آپس میں ٹکرا بھی سکتے ہیں؟ آج انسان کو ایک بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ جہازوں، گاڑیوں اور ٹرینوں کے آپس میں ٹکرانے سے وقوع پذیر ہونے والے حادثات کا ہے۔
نئی سماجیات محض ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کے تصور کو بدل کے رکھ دیتی ہے۔ ہم نہایت سادگی سے قدیم اقدار، تصورات یا نظریات سے جدید سماجی زندگی کی تشریح کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں