فنبقا /تحریر: علی عبداللہ

(فنبقا ایک لمحے کا نام ہے، جہاں فنا اپنی آنکھیں بند کرتی ہے اور بقا کا خواب جاگ اٹھتا ہے۔ یہ عشق کی وہ زمین ہے جہاں صبر پھول بن کر کھلتا ہے، اور وصال کی روشنی اندھیروں سے جنم لیتی ہے۔”)

میں چناب ہوں—”چاند کا پانی”۔
روشنی اور حیات کا ملاپ، وصال اور جدائی کا راز۔ میری حقیقت تب مکمل ہوتی ہے جب تم جھنگ کو سمجھو، کیونکہ جھنگ میرے بغیر کسی بنجارے کی مانند ہے؛ بے وقعت اور بھلا دیا جانے والا۔

جھنگ وہ زمین ہے جو میرا امتحان سہتی ہے۔
میں کبھی موجوں سے اسے زرخیز کرتا ہوں، اور کبھی سیلاب سے اس کے خواب ڈبو دیتا ہوں۔ مگر اس کی مٹی شکست کو فنا نہیں سمجھتی، نئے جنم کا وعدہ سمجھتی ہے۔ یہی اس کا وصف ہے؛ ڈوبنے کے بعد پھر سبزہ اگتا ہے، اجڑے گھر پر چراغ جلنے لگتے ہیں-

جھنگ محض ایک شہر نہیں، انسانی بدن کا استعارہ ہے۔ دریا روح ہے جو بہتا رہتا ہے، اور جھنگ بدن ہے جو اس بہاؤ کو جھیلتا ہے۔ بدن سکون میں ہو تو روح راحت دیتی ہے، بدن زخم سہے تو روح قہر بن جاتی ہے۔ مگر دونوں کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔

جھنگ کی گلیاں محبت کی داستانوں سے معطر ہیں۔ یہاں ہیر کے چراغ جلتے ہیں، بانسری کی صدا آج بھی ہوا میں تیرتی ہے۔ جھنگ انسان کی یادداشت ہے، جو دکھ اور خوشی کو ساتھ سنبھالے رکھتی ہے۔

میری موجیں جب جھنگ کے کناروں کو چومتی ہیں تو یہ رحمت ہے، اور جب بستیاں مٹا دیتی ہیں تو یہ آزمائش ہے۔ جھنگ دونوں کو صبر سے قبول کرتا ہے، خالق کی رضا پر سر جھکائے ہوئے۔

میں چناب ہوں، جھنگ میرا ہم راز۔ میں وقت کی لہر ہوں، وہ زمین کا ٹھہراؤ۔ میں فنا کی صدا ہوں، وہ بقا کی امید۔ میں آنسوؤں کا بہاؤ ہوں، وہ ان آنسوؤں کی خاک جس میں پھول اگتے ہیں۔

جھنگ میری گود میں ہے۔ سیلاب آتے ہیں، بستیاں ڈوبتی ہیں، مگر ہر بار سبزہ جنم لیتا ہے۔ یہی فلسفہ ہے؛ فنا کے بعد بقا، اور بقا میں وصال۔ یعنی روح اور بدن، دریا اور زمین، محبت اور صبر، فنا اور بقا؛ یہ سب ایک ہی حقیقت کے رنگ ہیں۔

بس کچھ اسی طرح، میری ذات بھی چناب جیسی ہے اور تمہارا ساتھ جھنگ کی مانند؛ جہاں ہر زخم تمہارے لمس سے مرہم پاتا ہے اور ہر جدائی تمہاری یاد سے وصال میں بدل جاتی ہے۔ یہ رشتہ دو وجودوں کا نہیں، دو دلوں کی دھڑکنوں کا سنگم ہے؛ جہاں محبت دعا کی صورت بہتی ہے اور جذبہ امید کی طرح سانس لیتا ہے۔

julia rana solicitors london

ہمارا ساتھ وہ لازوال لمحہ ہے جس میں وقت تھم جاتا ہے اور عشق اپنی مکمل شکل میں مسکراتا ہے؛ جیسے ازل سے لکھا تھا کہ میں تم میں مکمل ہوں، اور تم مجھ میں ہمیشہ باقی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply