ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم شخصیت پرست ہیں۔ جب ہم کسی جماعت یا تنظیم میں شامل ہوتے ہیں تو پھر اس جماعت کے رہنما کو عقل و دانش کا سرچشمہ، انصاف کا سب سے بڑا معیار اور تقویٰ و پرہیزگاری کا پیکر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہی رہنما عوام کا اصل خیر خواہ اور جمہوریت کا سچا علمبردار ہوتا ہے۔ ہم اس کے ہر فیصلے کو حرفِ آخر مانتے ہیں اور اس کے ہر اقدام کو برحق تصور کرتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اس رہنما کے فیصلے درست ہیں یا غلط۔ ہم نہ اس پر تنقید کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے اعمال کو عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ یوں ہم اپنی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ایک شخصیت کے ہاتھوں گروی رکھ دیتے ہیں۔
حالاں کہ تاریخ کا اصول یہ ہے کہ وہ ہر شخصیت کو ہر پہلو سے پرکھتی ہے۔ تاریخ اندھی عقیدت کی اسیر نہیں ہوتی بلکہ عدل کے ساتھ اچھے اور برے پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ اسی لیے قوموں کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب افراد شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر حق اور باطل میں فرق کریں اور رہنماؤں کے فیصلوں کو تنقید و تحقیق کی نظر سے دیکھیں۔
خان عبدالغفار خان، عالمی سطح پر باچا خان کے نام سے جانے جاتے ہیں، پختونوں کے ایک بڑے سیاسی رہنما، اور خدائی خدمتگار تحریک کے بانی تھے۔ تاریخ میں ان کا نام تعلیم، اصلاح اور عدم تشدد کے ساتھ منسلک ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا وہ واقعی اصولی لیڈر تھے یا اقتدار کی خواہش نے ان کی سیاست کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا تھا؟ ان کے سیاسی فیصلے اور تاریخی مؤقف اس گتھی کو سلجھانے کے لیے بہت سی مثالیں فراہم کرتے ہیں۔
عزیزانِ من ۔
باچا خان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے اور مقامی پرائمری سکول سے شروع ہوئی۔ بعد میں انہوں نے اتمانزئی مشن سکول میں داخلہ لیا اور میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ تاہم میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم ترک کر دی، جس کی بنیادی وجہ خاندان کی مالی مشکلات اور اس وقت کے معاشرتی رویے بتائے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ ایک طرف تو تعلیمی جدوجہد میں رکاوٹ تھا، لیکن دوسری طرف اس نے ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے تعلیم اور اصلاح کا کام ان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے چناں چہ انہوں نے 1910میں پہلا آزاد سکول قائم کیا ۔
اس کے بعد باچا خان نے 1929ء میں خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کا مقصد پختون سماج میں تعلیم، اصلاح، اور سماجی خدمت کے ذریعے تبدیلی لانا تھا۔
باچا خان نے اس تحریک کے تحت تقریباً ستر سے زائد آزاد سکول قائم کیے۔ یہاں عام پختون بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی لیکن اپنی اولاد کو وہ انگریزوں کے اسکولوں اور کالجوں میں بھیجتے تھے جو ایک تضاد اور اقتدار پسندانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
اور یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کیجیے کہ 1919 میں برطانوی ہند کے افغان سرحد پر شدید لڑائیاں ہوئیں لیکن باچا خان نے ایک لفظ افغانستان کے حق میں نہیں بولا بلکہ افغانستان کے حکمران اور سرحد کے پختون قبائل پر شدید تنقید کرتے اور ان کے آخری حد تک مخالفت کرتے تھے اس وقت باچا خان اکھنڈ بھارت کے حامی تھے ابھی فخر افغان نہیں بنے تھے ۔
1929 کے بعد باچا خان نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا۔
باچا خان کی سیاسی حکمتِ عملی میں عدم تشدد ایک بنیادی عنصر تھا۔ 1936 میں جب فقیر ایپی جیسے رہنما انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے تھے، اس وقت باچا خان نے پختونوں کو ان کے ساتھ مل کر لڑنے سے روکا۔ انہوں نے عدم تشدد کا فلسفہ اس لیے اپنایا تاکہ گاندھی جی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد مضبوط رہے اور ساتھ ہی انگریز بھی پُرامن رویے کی وجہ سے کسی سخت کارروائی سے گریز کریں، کیونکہ 1937 میں انتخابات ہونے والے تھے۔
کانگریس کے ساتھ اتحاد نے انہیں ملکی سیاست میں ایک مضبوط مقام دیا اس وقت باچا خان اکھنڈ بھارت میں پختون قوم کے تہذیب ، ثقافت اور روایات کے لیے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے البتہ آزادی کے بعد پاکستان میں مذکورہ خطرہ زیادہ محسوس کرتے تھے۔
اسی اتحاد کے ذریعے، تقسیم سے پہلے انہوں نے صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) میں پہلی مرتبہ اپنی حکومت بنائی۔ اس حکومت میں وہ پختون عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
“انہوں نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کر کے 1946 میں دوسری حکومت بھی قائم کی، لیکن تاریخ کے کسی ایک ورق پر مجھے یہ جملہ لکھا ہوا نہیں ملا کہ باچا خان نے کبھی انگریزوں یا کانگریس سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونستان رکھا جائے۔ کیا اس کی وجہ صرف اقتدار تھا؟ کیونکہ یہ حکومتیں بنیادی طور پر کانگریس کے ساتھ سیاسی اتحاد کے نتیجے میں قائم ہوئی تھیں۔”
1942 میں جب جاپانی فوج میانمار کے قریب پہنچ گئی اور انگریز پسپائی اختیار کر رہے تھے، افغانستان سے وفود سرحدی علاقوں میں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انگریز دفاع نہیں کر سکتے تو پشتون خود اپنی حفاظت کریں گے، لر او بر یو افغان اور آزاد پختونستان کے نعروں کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔
لیکن باچا خان، نے آزاد پختونستان کے تصور کی شدید مخالفت کی اور کہا:
“ہم ان بھوکے ننگے افغانوں کے ساتھ نہیں رہیں گے بلکہ ہم اکھنڈ بھارت میں رہیں گے۔”
یہ واضح کرتا ہے کہ باچا خان کی سیاست میں عوامی جذبات اور علاقائی شناخت کے بجائے اقتدار، سیاسی مفادات اور حکمت عملی اہمیت رکھتے تھے۔
عزیزانِ من ۔
1947 کے قریب جب پاکستان کا قیام یقینی ہوا، اور ماؤنٹ بیٹن چھ نشستوں میں بھی جناح صاحب کو اکھنڈ بھارت یعنی متحدہ ہندوستان پر قائل نہیں کرسکا تو باچا خان نے اچانک آزاد پختونستان کے نعرے کو ریفرنڈم میں شامل کرنے کی تجویز دی، اور راتوں رات فخر افغان بن گئے ۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے اکھنڈ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی سیاست صرف اصول پر مبنی نہیں تھی، بلکہ اقتدار اور اثرورسوخ کے لیے لچکدار بھی تھی۔
اگر پاکستان نہ بنتا، تو سوال یہ ہے کہ کیا باچا خان اپنی تہذیب، ثقافت اور روایات کو بچا لیتے؟ تاریخی اور لسانی حقائق کے مطابق، نہیں۔ آج ہندوستان میں لاکھوں پختون آباد ہیں، لیکن سروے بتاتے ہیں کہ صرف بیس ہزار کے قریب پشتو زبان بولنے والے ہیں، باقی سب نے اپنی زبان اور روایات بھلا دی ہیں۔ دلچسپ تضاد یہ ہے کہ باچا خان کو اکھنڈ بھارت میں سینکڑوں قومیتوں کے درمیان پختون روایات محفوظ نظر آئیں، لیکن سندھ، بلوچ اور پنجاب کے ساتھ غیر محفوظ۔ وجہ صرف اقتدار کا حصول تھا۔
عزیزانِ من ۔ 14 اگست 47 کو پاکستان آزاد ہوا 17 اگست کو باچا خان جناح صاحب سے ملنے گئے اور صوبائی خودمختاری ، علیحدگی کا اختیار اور متصل علاقوں کے انضمام جیسے مطالبات کر دیے اور پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانے کو شرائط سے جوڑ دیا جسے جناح صاحب نے یکسر مسترد کردیا نتیجہ: نوزائیدہ پاکستان سے پہلا ٹکراؤ صوبہ میں ان کے حکومت کے خاتمے کی وجہ بنی ۔
حکومت کے خاتمے کے بعد کل کے سرحدی گاندھی آج کے فخر افغان باچا خان نے جلسے جلوسوں اور آزاد پختونستان کے نعرے کو پوری قوت کے ساتھ تحریک دی اور افغانستان کے ساتھ ملکر نوزائیدہ پاکستان پر اندرونی اور بیرونی دباؤ ڈالا۔
افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا
ریڈیو کابل پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا،
قوم پرست رہنماؤں کو مالی اور سیاسی مدد فراہم کیا گیا
اور پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں جس کا سرحد کے عوام نے بھرپور جواب دیا یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیں کہ پختون عوام کی اکثریت تب بھی پاکستان کے ساتھ تھی اور آج بھی ہے ۔
یہ سب اقدامات باچا خان اور ان کے ہم خیال رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کے نتیجے میں ممکن ہوئے تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اقتدار حاصل کیا جا سکے۔
لیکن پختون عوام اور ریاست نے ان کے عزائم کو پورا نہیں ہونے دیا ریاست نے ان پر سختیاں بھی کیں لیکن ان کی سیاست کو ختم نہیں کیا گیا ان کا یہ حق ملحوظ رکھا گیا ۔
عزیزانِ من! آزادی کے بعد پختونستان کی شورش بدستور جاری رہی، لیکن بالآخر 1972 میں جب باچا خان کی جماعت نے سرحد اور بلوچستان میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تو اقتدار میں آتے ہی پختونستان کے نعرے مدھم پڑ گئے اور اچانک پاکستان ہی پختونوں کے لیے ایک محفوظ ملک قرار پانے لگا۔
لیکن جو ہی ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلیاں تحلیل کر دی تو پختونستان کے نعرے دوبارہ شروع ہوئے لیکن اب باچا خان نے نعرے کا مفہوم بدل دیا کہ آزادی کا مطلب صوبائی خودمختاری ہے اور پختونستان پاکستان کے اندر پختونوں کی شناخت ہے اب ان کو سمجھ آگئی تھی کیوں کہ عمر رسیدہ ہوگئے تھے لیکن یہ دوسرے نعرے ، خپلہ خاورہ خپل اختیار ، پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور پختونوں کے وسائل پر قبضہ وغیرہ سب محض سیاسی نعرے ہے جو آج تک جاری ہے۔
الغرض ۔ان کے سیاسی فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ باچا خان کی سیاست اصول سے زیادہ اقتدار کے گرد گھومتی تھی۔ اقتدار کی اس خواہش نے انہیں عوامی جذبات اور تاریخی حقائق کے برخلاف فیصلے کرنے پر مجبور کیا، اور یہی پہلو آج بھی تاریخی بحث کا موضوع ہے:
کیا باچا خان واقعی ایک عظیم اصولی لیڈر تھے یا اقتدار کے رسیا؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں