• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • باچا خان: عظیم لیڈر کی عظیم جدوجہد اور سیاسی لغزشیں/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

باچا خان: عظیم لیڈر کی عظیم جدوجہد اور سیاسی لغزشیں/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

خان عبدالغفار خان، جنہیں دنیا “باچا خان” اور “سرحدی گاندھی” کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی تاریخ کے ان چند نایاب رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ظلم اور غلامی کے خلاف جدوجہد میں گزار دی۔ انگریز سامراج کے خلاف ان کی تحریک، خدائی خدمتگار کا قیام، عدم تشدد کا فلسفہ، اور پختونوں کو تعلیم و شعور کی راہ پر ڈالنے کی کوششیں وہ روشن پہلو ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ باچا خان نے انگریز کے مقابلے میں وہ کردار ادا کیا جو بڑے بڑے سیاسی لیڈر بھی نہ کرسکے۔ ان کی جیلیں بھگتنے کی قربانیاں، جدوجہد کی استقامت اور پختونوں کی بیداری کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
لیکن تاریخ صرف کامیابیوں سے نہیں لکھی جاتی، اس میں کمزوریاں اور غلط فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باچا خان جیسے عظیم لیڈر کی سیاسی لغزشیں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں، اور ان کا جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ تاریخ سے سبق سیکھا جا سکے۔
عزیزانِ من ۔ باچا خان کی پہلی لغزش یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ کشمکش اختیار کی اور ریفرنڈم میں تیسری تجویز پیش کی۔
پاکستان بننے کے وقت باچا خان کھل کر پاکستان کے مخالف کھڑے تھے۔ انہوں نے ریفرنڈم میں یہ مطالبہ کیا کہ صوبہ سرحد “موجودہ پختون خواہ” کے عوام کو “آزاد پختونستان” کا آپشن بھی دیا جائے۔ یہ باچا خان کی پہلی بڑی سیاسی لغزش تھی۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں ایک طرف ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کا سوال تھا، وہاں ایک تیسرا راستہ نکالنے کی ضد حقیقت پسندی سے کوسوں دور تھی۔
دوسری لغزش یہ تھی کہ جب آزاد پختونستان کا مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو باچا خان نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کردیا۔ حالانکہ ایک مدبر اور بڑے لیڈر کو یہ زیب دیتا کہ وہ میدان میں ڈٹ کر کھڑا رہتا، چاہے نتیجہ اس کے خلاف ہی کیوں نہ آتا۔ اگر وہ اپنے ماننے والوں کو ریفرنڈم میں شامل کرتے اور پاکستان کے خلاف ووٹ ڈالتے، تو ان کی سیاسی ساکھ کہیں زیادہ مضبوط ہوتی۔ لیکن بائیکاٹ نے انہیں سیاسی طور پر کمزور اور عوامی حمایت سے محروم کردیا۔
پاکستان کے قیام کے بعد باچا خان کو اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت خود تحلیل کر دینی چاہیے تھی اور مسلم لیگ کو دعوت دینی چاہیے تھی کہ وہ اب صوبہ سرحد میں حکومت بنائے کیونکہ عوامی فیصلہ پاکستان کے حق میں آ چکا تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ایک بڑے لیڈر کی طرح عوام کے سامنے سرخرو ہوتے۔ انہیں چاہیے تھا کہ کچھ وقت کے لیے سیاست سے دور رہتے اور پختونوں کی اصلاح اور تعلیم کا کام کرتےاور چند برس بعد دوبارہ سیاست میں داخل ہوجاتے۔ لیکن انہوں نے یہ راستہ اختیار نہ کیا اور مسلسل محاذ آرائی میں الجھے رہے۔
چوتھی بڑی لغزش یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد وہ اچانک قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس جا پہنچے اور کہا کہ اب تو پاکستان بن گیا ہے، اب ہمیں مل جل کر پاکستان کو آگے بڑھانا چاہیے۔ سیاست کے بڑے اصول ہوتے ہیں، اور جناح صاحب جیسے مدبر لیڈر کی نظر میں یہ رویہ کمزوری کے مترادف تھا۔ کل تک جو شخص پاکستان کا شدید مخالف تھا، آج اچانک اس کا خیرخواہ کیسے بن سکتا ہے؟ یہ رویہ فطری طور پر انسان کے قد کو گرا دیتا ہے ۔
“میرے منہ میں خاک، لیکن آج کی سیاسی اصطلاح میں ایسے کرنے والے کو ‘لوٹا’ کہا جاتا ہے۔”
جب قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈاکٹر خان عبد الجبار خان “باچا خان کے بھائی” کی حکومت ختم کی تو یہ قدم بالکل فطری اور درست فیصلہ تھا۔ ہر نئی ریاست کے سربراہ کی اولین ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے۔ جناح صاحب کا یہ فیصلہ ایک قدرتی اور سیاسی طور پر لازمی اقدام تھا۔ اور میں تو کہتا ہوں اگر اس وقت جناح صاحب کی جگہ محترم جاوید احمد غامدی جیسا شریف بندہ بھی ہوتا وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ اس موقع پر باچا خان کا احتجاج غیر ضروری اور غیر حقیقی تھا۔
عزیزانِ من ۔
سانحہ بابڑہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ سینکڑوں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ ظلم عظیم تھا جسے کسی صورت درست نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ باچا خان جیسے بڑے لیڈر نے حالات کو اس نہج تک کیوں جانے دیا؟ پاکستان اس وقت نوزائیدہ ملک تھا، روزانہ سرحد پار سے لاشوں سے بھری ٹرینیں آ رہی تھیں، ملک عدم استحکام کا شکار تھا، اور ایسے وقت میں ایک نیا محاذ کھول کر “مجھے کیوں نکالا” کی سیاست کرنا کسی بھی طور دانشمندی نہیں تھی۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی سے چند ماہ پہلے باچا خان کے سیاسی رشتہ دار جماعت کانگریس نے آسام میں مسلم لیگ کی حکومت ختم کر دی تھی۔ وزیرِاعلیٰ سر محمد سعد اللہ کو ہٹا کر اپنی حکومت بنا لی، حالانکہ تقسیم ابھی عمل میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس کے مقابلے میں جناح صاحب نے صوبہ سرحد کی حکومت تقسیم کے بعد ختم کی۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف کانگریس نے غیر منصفانہ طور پر مسلم لیگ کو اقتدار سے محروم کیا، جبکہ دوسری طرف جناح صاحب نے نئی ریاست کی وحدت اور رٹ قائم کرنے کے لیے لازمی فیصلہ کیا۔
باچا خان کی پانچویں بڑی لغزش یہ تھی کہ انہوں نے پختونوں کو روزِ اول سے پاکستان سے بدظن کیا۔ انہوں نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا:
“ہمیں ہماری مرضی کے بغیر پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے، ہم پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے۔”
جب پختونوں کا سب سے بڑا لیڈر یہ اعلان کرے گا تو عوام کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور بداعتمادی ہی پروان چڑھے گی۔ پھر یہی نظریہ “پختونستان” کے نعرے کی شکل میں دہائیوں تک سنائی دیتا رہا بلکہ اج تک لر او بر جیسا بے معنی نعرہ فضاؤں میں گونجتا رہا ہے ۔ اور یہاں تک کہ باچا خان نے وصیت بھی کی کہ انہیں پاکستان میں دفن نہ کیا جائے کیوں کہ یہ مٹی غلام ہے بلکہ افغانستان میں دفن کیا جائے۔ یہ وہ بیج تھے جنہوں نے پختونوں کے دل میں پاکستان سے دوری اور شک و شبہات کی فصل بوئی۔
یہی وجہ ہے کہ آج پختون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکیں پختونوں کے اندر سے نکلتی ہیں، جو ریاست مخالف بیانیہ اپناتی ہیں۔ اس تحریک کی فکری غذا براہِ راست باچا خان کے نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔ نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ پختون ہی مر رہے ہیں، پختون ہی بے گھر ہو رہے ہیں، اور پختون ہی تباہ ہو رہے ہیں۔
عزیزانِ من ۔
باچا خان ایک عظیم لیڈر تھے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن وہ انسان تھے، اور انسان غلطی سے مبرا نہیں۔ ان کی سیاسی لغزشوں نے پختون قوم کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جو آج تک انتشار اور بداعتمادی کی تصویر ہے۔
آج ان کے پیروکاروں سے درخواست ہے کہ وہ باچا خان کی خدمات کو یاد ضرور رکھیں، مگر ان کی سیاسی کمزوریوں کو درست قرار دے کر پختون نسلوں کو مزید تباہی کے راستے پر نہ ڈالیں۔ غلطیوں سے رجوع کرنا ہی اصل عظمت ہے۔ پختون قوم کو پاکستان کے اندر رہ کر اپنی اصلاح اور ترقی کی راہ اختیار کرنی ہوگی، یہی ان کے لیے سب سے بہتر راستہ ہے۔
باچا خان نے انگریز سامراج کے خلاف قربانیاں ضرور دیں، لیکن پاکستان کے خلاف ان کی ضد اور سیاسی لغزشوں نے پختونوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عظیم لیڈر وہی ہے جو وقت کے تقاضے پہچان لے اور اپنی قوم کو ٹکراؤ نہیں بلکہ اتحاد اور ترقی کی راہ پر ڈالے۔”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply