14 اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جب ایک خواب حقیقت میں ڈھلا، جب قربانیوں کے ان گنت چراغ جلائے گئے اور جب ایک قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر اپنی شناخت کا پرچم بلند کیا۔ یہ دن صرف جشن کا دن نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید کا لمحہ ہے، ایک ایسا موقع جب ہم ماضی کی جدوجہد کو یاد کر کے اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنانے کا عزم کریں۔ اس دن کی بنیاد لاکھوں جانوں کی قربانی، ہزاروں گھروں کے اجڑنے اور ان تھک جدوجہد پر رکھی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہر مسلمان کے دل میں ایک ہی خواہش تھی کہ ہمیں ایک آزاد سرزمین ملے جہاں ہم اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قائداعظم محمد علی جناح وہ عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اس خواب کو عملی شکل دی۔ انہوں نے اصولوں، ایمان اور مسلسل محنت سے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد مضبوط ہو تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔ قائداعظم کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کا ایمان، اتحاد اور قربانی کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا آزادی کے دن تھا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ کامیابی کا راستہ صرف ایمانداری، نظم و ضبط اور مقصد پر قائم رہنے میں ہے۔ آج اگر ہم سچ مچ پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں قائداعظم کے ان سنہری اصولوں کو اپنانا ہوگا۔
علامہ اقبال وہ مردِ درویش تھے جن کی شاعری اور فکر نے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی کا شعور بیدار کیا۔ انہوں نے اپنے خوابوں میں ایک ایسی سرزمین دیکھی جہاں مسلمان آزاد ہوں، جہاں علم، محبت، برداشت اور عدل کا راج ہو۔ اقبال کا پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، اور یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے رکنا نہیں، آگے بڑھنا ہے۔ اقبال نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر ہم اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، علم کو اپنا ہتھیار بنائیں اور محنت کو اپنا شعار بنائیں تو کوئی طاقت ہمیں غلام نہیں بنا سکتی۔
آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادی صرف جھنڈے لہرانے یا آتشبازی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ آزادی کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں، اس کی ترقی میں کردار ادا کریں اور اسے دنیا میں ایک باوقار مقام دلائیں۔ بدقسمتی سے آج کے پاکستان میں ہم نے اپنے اکابرین کے اصولوں کو بھلا دیا ہے۔ ہم نے اتحاد کی جگہ انتشار کو، ایمان کی جگہ مفاد پرستی کو، اور قربانی کی جگہ خود غرضی کو اپنا لیا ہے۔ یہ روش وہ نہیں جو ہمیں منزل تک پہنچا سکے، بلکہ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں پیچھے دھکیل دے گا۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ آج کا پاکستان ان خوابوں کے مطابق ہے جو اقبال نے دیکھے تھے اور جن کے لیے قائداعظم نے جدوجہد کی تھی؟ کیا آج کا نوجوان اپنی ذمہ داری کو پہچانتا ہے؟ کیا ہم نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہے؟ کیا ہم نے انصاف کو اپنی زندگی کا اصول بنایا ہے؟ اگر ہم ایمانداری سے جواب دیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم اپنے رہنماؤں کی تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب کی دیواروں کو گرا کر ایک قوم کی طرح سوچیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قائداعظم نے پاکستان کو “اسلامی فلاحی ریاست” بنانے کا خواب دیکھا تھا جہاں سب شہری برابر ہوں۔ اگر ہم نے واقعی اپنے رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے تو ہمیں اپنے کردار اور اعمال سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ان کے وارث ہیں۔
تعلیم کو عام کرنا، کرپشن کا خاتمہ کرنا، انصاف کو یقینی بنانا، اور نوجوانوں کو مثبت سمت دینا آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیے تو ہم اپنی آزادی کا حق ادا نہیں کر سکیں گے۔ آج کا نوجوان جدید ٹیکنالوجی، علم اور محنت کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم اقبال اور جناح کی طرح خواب دیکھیں اور ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے محنت کریں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کی حفاظت قربانی مانگتی ہے۔ جیسے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان، مال اور گھر قربان کر کے یہ ملک بنایا، ویسے ہی آج ہمیں اپنی خواہشات اور ذاتی مفادات قربان کر کے پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنی سوچ کو مثبت بنایا، ایمانداری کو اپنایا اور محنت کو اپنا شعار بنایا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا۔
آیئے آج اس 14 اگست پر یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر بنائیں گے۔ ہم تعلیم، انصاف اور اتحاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ ہم فرقہ واریت، کرپشن اور نفرت کو جڑ سے ختم کریں گے۔ ہم پاکستان کو وہ ملک بنائیں گے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی بنیاد قائداعظم نے رکھی تھی۔
یقین، قربانی اور اتحاد وہ طاقت ہیں جن سے پاکستان وجود میں آیا تھا اور یہی طاقت ہمیں دنیا میں ایک بلند مقام دلائے گی۔ اگر ہم نے یہ تین اصول اپنا لیے تو کوئی طاقت ہمیں ترقی سے نہیں روک سکتی۔ یہ زمین ہماری امانت ہے اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی عزت، حفاظت اور ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دیں۔ آج کا دن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ہے، اور ہم سب کو مل کر اس کو وہ مقام دینا ہے جو اس کا حق ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں