• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ریاستی کریک ڈاؤن اور عمران خان کا سیاسی مستقبل/ارشد بٹ

ریاستی کریک ڈاؤن اور عمران خان کا سیاسی مستقبل/ارشد بٹ

تحریک انصاف کے خلاف ریاستی کریک ڈاون، کارکنوں کی گرفتاریوں، پی ٹی آئی میں تنظیمی بحران، ٹھوس فیصلہ سازی کے فقدان، پارٹی لیڈروں کے باہمی اختلافات، اور عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ۵۔ اگست کو عمران خان رہائی تحریک حکومت اور ریاستی اداروں پر دباو ڈالنے میں بری طرح ناکام رہی۔ اس صورت حال میں یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ۱۴۔ اگست کا احتجاج بھی ۵۔ اگست کے ناکام احتجاج سے مختلف نہیں ہو گا۔ پی ٹی آئی کے ۱۰۸ راہنماوں کو دس دس سال قید کی سزاوں اور عمران خان رہائی تحریک کی ناکامی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جلد رہائی کے لئے یہ اچھا شگون نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی ۹ مئی ۲۰۲۳ کو ریاستی اداروں کے خلاف پرتشدد ہنگامہ آرائی کے بعد ریاستی غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ریاست ۹ ۔مئی کے مبینہ جرائم کو معاف کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ گذشتہ دو سالوں سے پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی کریک ڈاون تسلسل سے جاری ہے۔ ریاستی کریک ڈاون کا نشانہ بننے والوں میں پی ٹی آئی کے عام کارکنوں سے لے کر اعلیٰ قیادت جن میں صوبائی و قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین کے علاوہ پارٹی کے صوبائی اور مرکزی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ اسی تسلسل میں گذشتہ دنوں پی ٹی آئی کے ۱۰۸ کارکنوں اور راہنماوں کو دہشت گردی عدالت سے دس دس سال کی قید سزا سنا دی۔ سزا پانے والوں میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، سینٹ میں قائد حزب اختلاف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیسیوں کے تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکن جیلوں میں یا جیلوں سے باہر دہشت گردی کے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر ہیں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کی سزاوں میں قانون و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ ان سزاوں کو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کی سطح پر ختم کئے جانے کی وجوہات موجود ہیں۔ ۹۔ مئی کے پر تشدد واقعات اپنی جگہ ایک حقیقت ، مگر پی ٹی آئی کے متعد راہنماوں کے خلاف مقدمات کی سیاسی نوعیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی کے خللاف کریک ڈاون پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی جبر کا پہلا واقع نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ سیاستدانوں او ر سیاسی جماعتوں کے خلاف جابرانہ ہتھکنڈوں سے بھری پڑی ہے۔ تاریخی پس منظر میں قیام پاکستان سے آج تک ریاست کو مروجہ معنوں میں عوام کی نمائندہ جمہوری ریاست کہنا درست نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی سیاسی مخالفین کی بیخ کنی کرنے کا آغاز ہو گیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے انڈین ایکٹ ۱۹۳۵ کے تحت حاصل گورنر جنرل کے آمرانہ اختیارات استعمال کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔ قائد اعظم نے آزادی کے پہلے مہینے اگست میں گورنر جنرل کے آمرانہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد یعنی خیبر پختون خواہ کی منتخب صوبائی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے بھی اسی کالونیل آئینی و قانونی آمرانہ اختیارات کا استعمال جاری رکھا۔ لیاقت علی خان نے پروڈا نام کے بد نام زمانہ کالے قانون کے تحت متعد سیاسی مخالفیں کو سیاست سے نا اہل کرا دیا تھا۔ ملکی تاریخ میں پہلا ریاستی کریک ڈاون کمونسٹ پارٹی آف پاکستان کے خلاف ۱۹۵۱ میں کیا گیا۔ کمونسٹ پارٹی کے متعد راہنماوں اور کارکنوں کو کئی سالوں کی قید بامشقت کی سزائیں دی گئیں۔ سزا پانے والوں میں پاکستان کے نامور شاعر فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔ بلآخر کمونسٹ پارٹی کو ۱۹۵۴ میں کلعدم قرار دے دیا گیا۔ کریک ڈاون کی ایک اور مثال مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلہ دیش میں ۱۹۵۴ کو جمہوری متحدہ محاذ کی منتخب مقبول حکومت کا خاتمہ ہے۔ مشرقی پاکستان میں جمہوری متحدہ محاذ نے ۱۹۵۴ کے صوبائی انتخابات میں پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کو شکست سے دور چار کر دیا تھا۔ ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض سول افسر شاہی کے کارندے گورنر جنرل غلام محمد نے کالونیل آمرانہ اختیارات کے تحت ایک ماہ کے اندر جمہوری متحدہ محاذ کی منتخب صوبائی حکومت کا خاتمہ کرکے مشرقی پاکستان میں گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔

کالونیل آئینی انڈین ایکٹ ۱۹۳۵ کا براہ راست نفاذ ۱۹۵۶ تک جاری رہا۔ مارچ ۱۹۵۶ میں نئے آئین کے تحت سول و خاکی افسر شاہی کے کرتا دھرتا سکندر مرزا نےپاکستان کے پہلے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ یہ آئین فقط تقریبا دوسال اپنا وجود برقرار رکھ سکا۔ آئین کے نافذ ہونے کے بعد ملکی سطح کے پہلے انتخابات کا انعقاد ۱۹۵۹ میں طے پایا تھا۔ مگر ملک کے پہلے پاکستانی آرمی چیف جنرل ایوب خان نے آئینی بندوبست کا بوریا بسترگول کرکے ملک پر مارشل لاء مسلط کر دیا۔ ایوبی مارشل لاء کو کالونیل آمرانہ نظام کا تسلسل سمجھا جا نا چاہے۔ ایوبی مارشل لاء کا کریک ڈاون سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا مقدر ٹہرا۔ مارشل لاء کے مخالف سیاستدانوں کو ایک جابرانہ قانون ایبڈو کے تحت نا اہل قراردے کر انکے لئے جمہوری سیاست کے دروازے بند کر دئے گئے۔ ایوبی آمرانہ نظام ۱۹۶۹ تک ریاست پر مسلط رہا۔ مارچ ۱۹۶۹ کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحیٰ خان نے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار اعلیٰ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس طرح ملک میں دوسرے مارشل لا ء کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ دسمبر ۱۹۷۱ میں ملک دو لخت ہونے کے ساتھ جنرل یحیٰ خان کی فوجی آمریت کا خاتمہ ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد کالونیل آئینی و قانونی نظام کے تحت اقتدار کے مزے لوٹنے والی سول و خاکی افسر شاہی کی براہ راست حاکمیت کا آمرانہ دور دسمبر ۱۹۷۱ میں پاکستان کو دو لخت کرکے اختتام پذیر ہوا۔ پاکستانی تاریخ کے ابتدائی چوبیس سالوں میں سول افسر شاہی اور فوجی آمرانہ حکمرانوں کے زیر سایہ ریاستی اداروں میں غیر جمہوری اور عوام دشمن سوچ کی جڑیں گہری ہوتی گئیں۔ جن کے اثرات کو آج تک ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس دوران منتخب جمہوری ادارے، آزاد عدلیہ، اظہار رائے کی آزادی اورانسانی حقوق کا حصول ناممکنات میں شامل تھے۔ جبکہ محنت کشوں کے حقوق، روزگار کے حصول، محروم طبقوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب طبی سہولتوں کا مطالبہ کرنا ریاستی جبر کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

بچے کچھے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین ملک کے معرض وجود میں آنے کے چھبیس سال بعد ۱۹۷۳ کو پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کاوشوں سے میسر آیا۔ ۱۹۷۳سے ۱۹۷۷ کے چار سال کو آئینی جمہوریت کا دور کہا جا سکتا ہے۔ مگر متفقہ آئینی نظام کے نفاذ کے باوجود ریاستی اداروں میں سرائیت کر چکے غیر جمہوری اثرات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری سول حکومت میں بھی حکومت اور ریاستی اداروں کا غیر جمہوری کردار ماند نہ پڑ سکا۔ اس دور میں پاکستان کی ایک مقبول سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی، نیپ تھی۔ جس نے ۱۹۷۰ کے انتخابات میں صوبہ سرحد یعنی خیبر پختون خواہ اور صوبہ بلوچستان میں کامیابی حاصل کرکے صوبائی حکومتیں تشکیل دیں تھیں۔ مگر نیشنل عوامی پارٹی بہت جلد ریاستی و حکومتی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو گئی۔ نیپ کو پہلے دو نوں صوبوں کے اقتدار سے محروم کیا گیا اور پھر اس پر پابندی لگا کر سیاست سے باہر نکال دیا گیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت اور ملک کے نامور راہنماوں خان عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل، خیر بخش مری کے علاوہ پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت پر غداری کے مقدمات قائم کرکے جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ سیاسی مورخوں کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کی ایک بڑی سیاسی غلطی نیپ پر پابندی لگا کر اسکے راہنماوں کو ناجائز پابند سلاسل کرنا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو نیپ پر پابندی لگانے کے بعد ریاستی جبر کا شکار بننے کے لئے زیادہ عرصہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ جولائی ۱۹۷۷ میں ایک بار پھر آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر تیسرے مارشل لاء کو ملک پر مسلط کر دیا۔ بھٹو تختہ دار پر جھوم کر شہید جمہوریت کہلائے۔ پی پی پی کےہزاروں کارکن عقوبت خانوں اور سلاخوں کے پیچھے بند کر دئے گئے۔ متعد کارکنوں کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پھانسیوں کا حقدار ٹھرایا گیا۔ بیسیوں کارکنوں کو کوڑوں کی سزاوں سے نوازا گیا۔ جنرل ضیاء مارشل لاء کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتحاد ایم آر ڈی کی بحالی جموریت کی طویل جدوجہد بھی سیاسی کارکنوں اور راہنماوں کی قربانیوں سے عبارت ہے۔

جنرل ضیاء مارشل لاء کے خاتمے کے بعد نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو شہید کی دو اور میاں نواز شریف کی ایک منتخب حکومت کو آئینی عرصہ پورا نہ کرنے دیا گیا۔ تین منتخب حکومتوں اور پارلیمنٹوں کو اسٹبلشمنٹ کے نمائیندہ غیر منتخب صدر اسحاق خان نے آمرانہ صدارتی اختیارات کے تحت ختم کیا تھا۔ یاد رہے ۱۹۷۳ کے آئین میں آمرانہ صدارتی اختیارات جنرل ضیاء کی مارشل لاء حکومت کی آمرانہ سوچ کی پیداوار تھے۔ آمرانہ صدارتی اختیارات کا خاتمہ پیپلز پارٹی کی زرداری، گیلانی حکومت کے دور میں آئین کی اٹھارویں ترمیم میں کر دیا گیا ہے۔

جنرل ضیا ء الحق نے ایک بار کہا تھا پنجاب میں میاں نواز شریف کا کلہ بہت مضبوط ہے۔ مگر جنرل ضیاء کے مضبوط کلے کو ایک اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکھاڑ کر ملک سے باہر پھینک دیا۔ اکتوبر ۱۹۹۹ میں ایک بار پھر ایک طالع آزما جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں چوتھے فوجی راج مسلط کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف اور بے نظیر شہید کو ملک بدر کر دیا۔ میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ پر کریک ڈاون کے ذریعے جماعت کو تتر بتر کر دیا اور بیچ میں سے ایک پٹھو جماعت مسلم لیگ ق برآمد کر لی۔ پیپلز پارٹی پر کریک ڈاون کے نتیجہ میں مشرف کی ہمنوا پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا جنم ہوا۔ مشرف آمریت میں آمرانہ ہتھکنڈوں کا سلسلہ یہاں نہیں رکا۔ اس دور میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے متعد راہنماوں کو کالے نیب قانون کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۲۰۱۲ اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ۲۰۱۷ میں غیر قانونی عدالتی فیصلوں کے بل بوتے پر اقتدار سے بیدخل کیا گیا۔ جسے خفیہ ہاتھوں کی طاقت کا شاخسانہ کہا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کی آبیاری اور الطاف حسین کے طلسم کے پیچھے بھی کرشمہ سازی کارفرما تھی۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاون اور الطاف حسین کو مائنس کرنے کی داستان تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

عمران خان کا عروج و زوال بھی کرشمہ سازوں کی کرامات کا مرہون منت ہے۔ عمران خان نے مقتدرہ کی پشت پناہی سے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ کی مہم برپا کرکے سیاست میں محاذ آرائی کا ماحول پیدا کیا تھا۔ مقتدرہ کی بیساکھیوں کے سہارے اقتدرا کے ایوانوں میں براجمان ہو کر عمران خان تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ بلآخر اقتدار سے محروم کر دئے گئے۔

اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت نے عمران مخالف سیاستدانوں اورمقتدرہ کو ایک پیج پر یکجا کرنے کا کام کیا ہے۔ اس وقت عمران مخالف سیاسی جماعتیں ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم وغیرہ مقتدرہ کے ساتھ شریک اقتدار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی اپوزیشن کا موثر کردار ادا کرنے سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عمران خان کے دور کا ہائی برڈ نظام، وزیر اعظم شہباز شریف کی بظاہر سربراہی میں سپر ہائی برڈ کی صورت رواں دواں ہے۔ سول اور منتخب اداروں کی بالادستی پر آنکھیں بند کر لی گی ہیں۔ جبکہ آئین و قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کے لئے ماحول روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ جمہوری سیاسی قوتوں کے لئے موجودہ ہائی برڈ سسٹم میں جگہ سکڑتی جا رہی ہے اور مقتدرہ کے لئے میدان میں وسعتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ سیاسی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی نے مقتدرہ کے لئے کھل کر کھیل کھیلنے کا سنہری موقع فراہم کر رکھا ہے۔

پاکستان کی مقبول سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی کی پیشرو نیشنل عوامی پارٹی، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ نواز نے ایک عرصہ ریاستی اداروں کی ریشہ دوانیوں اور کریک ڈاون کا جبر برداشت کیا ہے۔ گذ شتہ دو سالوں سے پی ٹی آئی ریاستی کریک ڈاون کی زد میں ہے۔ مگر پی ٹی آئی کی قیادت کریک ڈاون کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ پی ٹی آئی نے ابھی تک سیاسی قوتوں کی طرف ڈائیلاگ کا ہاتھ بڑھانے سے گریز کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ عمران خان اب تک مخالف سیاسی قوتوں کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ سیاسی قوتوں کے درمیان ڈائیلاگ کا فقدان اور محاذ آرائی کا ماحول مقتدرہ کے لئے سکون اور اطمنان کا باعث ہے۔ عمران خان کی صرف مقتدرہ سے مذاکرات کرنے کی سوچ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سیاسی آپشنز محدود ہوتی جارہی ہیں۔یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت اور ووٹ پاور کو سٹریٹ پاور میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے پی ٹی آئی کی قیادت محروم ہے۔ اس سے کوئی باشعور سیاسی کارکن انکار نہیں کر سکتا کہ پنجاب اور سندھ میں نمایاں سیاسی ابھار پیدا کئے بغیر عمران خان کی رہائی اور مقتدرہ سے ڈیل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

آج کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عمران خان کو فرصت کے لمحات میں ماضی کی جمہوری تحریکوں کا مختصر جائزہ لینا چاہئے۔ پاکستان میں چار فوجی ڈکٹیٹروں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے خلاف سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے طویل جدوجہد کی ہے۔ یاد رہے ڈکٹیٹروں کے خلاف جمہوریت بحالی کی ساری تحریکیں سیاسی جماعتوں کے وسیع تر متحدہ محاذ کے بینر تلے چلائی گئیں تھیں۔ سیاسی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایک سیاسی پارٹی اپنی تنظیمی قوت کی بنیاد پر عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ چاروں فوجی آمروں کے خلاف سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ قائم ہونے کے بعد عوام، وکلاء، طلبہ اور معاشرے کے دیگر طبقات نے حکومت مخالف تحریکوں میں پرجوش شرکت اختیار کی۔ یاد رہے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف نو پارٹیوں کا اتحاد عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوا تھا۔

محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تحریک انصاف اور چند چھوٹی جماعتوں کا اتحاد تحریک تحفط آئین ایک اچھی سیاسی پیش رفت کہی جا سکتی ہے۔ محمود خان اچکزئی ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان کی شہرت رکھتے ہیں۔ گذشتہ دنوں انکی قیادت میں ایک آل پارٹی کانفرنس میں چند قراردادیں منظور کی گئیں۔ قراردادوں میں آئین و قانون کی حکمرانی کی بحالی، آزاد عدلیہ اور اظہار رائے کی آزادی کے علاوہ متعد مطالبات کئے گئے۔ ایک اہم قرار داد میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ قراداد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان قراردادوں کو منظور کرانے میں تحریک انصاف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عمران خان نے اب تک ان قرادادوں کو مسترد نہیں کیا۔

امید کرنی چاہے کہ عمران خان کی تائید سے محمود خان اچکزئی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کا آغاز کرنے کی کوشش کریں گے۔ سیاسی ڈائیلاگ سے اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی فضا ختم کرنے میں مدد ملے گئی۔ اس سے سیاسی قوتوں کے درمیان ایک نئے میثاق جمہوریت کی طرف بڑھنے کے لئے سنہری موقع میسر آ سکتا ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کے جمہوری عمل سے سیاسی قوتوں کے لئے جمہوری میدان میں پیش رفت کے لئے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق کی قوت سے مقتدرہ کی غیر آئینی پیش رفت کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کے جمہوری عمل کے ذریعے اتفاق رائے سے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے مزید سپیس حاصل کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

عمران خان کیلئے مقتدرہ کے خلاف مزاحمت کے ذریعے مفاہمت تک پہنچنے کے راستے کی دیوار کافی اونچی ہو چکی ہے۔ عمران خان کی بار بار درخواستوں کے باوجود مقتدرہ کی موجودہ ٹیم اس دیوار میں کوئی در کھولنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ریاستی کریک ڈاون کا شکار پی ٹی آئی کی بچی کھچی قیادت کو زمینی حقائق کا ادراک ہوتا جا رہا ہے اور ان میں سیاسی ڈائیلاگ کی طرف بڑھنے کی سوچ تقویت پکڑ رہی ہے۔ آل پارٹی کانفرنس کا اعلامیہ اس بدلتی ہوئی سوچ کا کھلا اظہارہے۔ بدلتے ہوئے حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی قوتوں سے ڈائیلاگ کے علاوہ عمران خان کے لئے دیگر آپشنز پر عمل کرنا بہت دشوار ہوتا جائے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply