9اگست 1980کی رات کا سناٹا ۔۔کراچی کے ماڑی پور انویسٹی گیشن سینٹر کی سرد دیواروں کے بیچ کہیں ایک چیخ گونجتی ہے۔۔یہ چیخ وردی پوش درندوں کے تشدد کے نتیجے میں پیدا ہونے اوردیواروں سے ٹکرا کر فضا میں تحلیل ہوجانے والی چیخ نہیں بلکہ صدیوں کی صدا تھی ۔کامریڈ نذیر عباسی شہید کی صدا ۔۔طبقات میں منقسم ہونے کے بعد معرضِ وجود میں آئے سماجوں میں گونجنے والی انقلابی صداﺅں کا تسلسل جنھیں ہمیشہ گلوں میں دبانے کی روش اپنائی گئی ۔لیکن یہ چیخ ،یہ صدا ،یہ آواز صدیوں تک سنائی دینے والی تھی۔یہ صدا قدیم روم کے ان میدانوں سے بلند ہوئی تھی جہاں اسپارٹیکس اور اس کے باغی غلام ساتھیوں کو مصلوب کیا گیا ،یہ صدا ایران کے کسان انقلابیوں مزدک اور بابک خرم دینی کے مقتل میں گونجی تھی اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے سندھ کی سرزمین پر صوفی شاہ عنایت شہیدکے نعرے ”جو کھیڑے سو کھائے“ کی صورت متشکل ومجسم ہوئی تھی ۔یہ صدا صدیوں کے ناتے سے بندھی 1871کے کشتگانِ پیرس کمیون کی صدا تھی جسے یوجین پوتئے جیسے انقلابی شاعر نے مزدوروں کے عالمی گیت ”انٹر نیشنل “ کی زبان عطا کی ۔یہ وہ صدا تھی جس نے شکاگو کی قتل گاہ میں یکم مئی 1886کے ایک مزدور شہید کی زبان سے کہا تھا کہ ” سرمایہ دار حاکمو! مزدوروں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گی ۔“یہ وہی صدا تھی جسے زارِ روس نے سینٹ پیٹرز برگ اور پال کے قلعوں سے سائبیریا کے یخ بستہ زندانوں تک میں دبانے کی کوشش کی لیکن یہ 1917 میں شعلہءقضا بن کر اسقف وزار پر لپکی اورلینن اور اسٹالین جیسے انقلابی اساتذہ کی قیادت میں دنیا کے پہلے مزدور انقلاب کی کامرانی کا شادیانہ بن گئی ۔یہ صدا انسانی تاریخ کی سب سے بڑے طبقاتی تحرک چین کے لانگ مارچ کے عظیم شہیدوں کی صدا تھی۔یہ ہٹلر جیسے فاشسٹ درندے کی نازی یلغار کے خلاف سوویت دیس کے سرخ سپاہیوں کی صدا تھی جو برلن میں نازیت کے لیے صورِ اسرافیل بنی ۔یہ جرمنی سے لے کر مشرقی یورپ اور بلقان خطے کے دیس دیس کے انقلابی مزاحمت کاروں کی صدا تھی ۔یہ کوریا سے لے کرکیوبا، ویت نام ،لاﺅس اور کمبوڈیا تک کے جنگلوں ، پہاڑوں میں سرمایہ دارانہ سامراجیت کے خلاف بندوق بدست مصروفِ جہد سربازوں کی صدا تھی ۔یہ صدا ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے استحصال کے خاتمے کی صدا تھی جو دنیا بھر میں گونجی ۔یہ صدا سامراجیت اور اس کے پروردہ آمروں اٹلی کے مسولینی ،اسپین کے فرانکو،نکارا گوا کے سموزا،انڈونیشیا کے سوہارتو، فلپائن کے مارکوس ،چلی کے پنوشے ،کانگو کے مبوتو ، بولیویا کے بیرن توس اور ان جیسوں کے خلاف بلند ہوئی تھی ۔
1980کے پاکستان پر بھی انہی بدترین آمروں کا ایک پیٹی بھائی جنرل ضیاء قابض تھا ۔وہ دنیا بھر کے انہی خونی اور سفاک آمروں کی طرح امریکی سامراجیت کی تائید وایما سے ایک منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کر کے راج سنگھاسن تک پہنچا تھا ۔ خود ساختہ امیر المومنین ہونے کا مدعی۔۔۔۔۔مذہب کے مقدس نام کو اپنے راج کے طول کا وسیلہ بنانے کا مجرم۔۔۔۔۔سیاہ کاریوں کی ایک طویل فہرست۔۔۔۔۔ اور آج تک ہمارے سماج پر اپنی منحوس روح پھیلائے اس کی مہیب بدروح۔۔۔۔۔ایک منتخب وزیر اعظم کی برطرفی ،اس کے عدالتی قتل اور ملکی آئین کو محض کاغذ کا ایک پرزہ قرار دے کر ڈسٹ بن میں ڈالنے والا جنرل ضیاء سمجھتا تھا کہ جب اس کے فوجی بوٹ زمین پر پڑتے ہیں تو جمہور کی ہڈیاں بجنے لگتی ہیں۔وہ پاکستان کو کمیونسٹوں کے لیے دوسرا انڈونیشیا بنانے کا متمنی تھا لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی ۔کمیونسٹوں کو تو اس کا آقا انکل سام بھی میکارتھی ازم کی تلوار سے خود امریکا میں نابود نہیں کر پایا تھا ۔
9اگست1980کی اس اندھیری رات کو ضیاءآمریت کے عقوبت خانے میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے انقلابی سپوت کامریڈ نذیر عباسی کو دارورسن کی آزمائشوں پر پورا اترنا تھا ۔ یہ تاریخ کے امتحان کی ایک ایسی شب ِ تیرہ وتار تھی جس میں ایک کمیونسٹ سورما کو اپنے آدرشوں کے لیے ان استعاروں میں شامل ہوناتھا جو دیس دیس میں طبقاتی جدوجہد کی رزم گاہوں میں روشنی بن کر چمکے اور امر ہو گئے ۔
نذیر عباسی۔۔۔۔وہ جو سندھ کے گوٹھوں کے گرم مٹیالے راستوں پر ننگے پاؤں ہاریوں کے بیچ چلتا تھا، جو کالج میں طالبعلم تھا لیکن شام کو چنگی ناکے پر روزی کمانے والا ایک مزدور بھی تھا۔ وہ جو کتاب پڑھتے پڑھتے نظریہ بنا اور نظریہ بنتے بنتے تحریک کا نعرہ بنا ۔جو شہر شہر جا کر مزدوروں کو منظم کرتا تھا ۔جس نے اپنی ایک انقلابی رفیق سے شادی کی اور فوراََ ہی پارٹی کی ہدایت پر بلوچستان کے پٹ فیڈر علاقے میں ہاریوں کی تحریک میں شامل ہو گیا۔ وہ جیون جسے عام لوگ چار دیواری میں باندھتے ہیں، نذیرعباسی اور حمیدہ گھانگرو نے اسے قافلے کی صورت میں قیدیوں کے کیمپوں، مچھ جیل کی کوٹھڑیوں اور قلی کیمپ کی گرد آلود فضا میں جیا۔
جب اسے پہلی بار گرفتار کیا گیا توایک فوجی افسر نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا”اگر دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں نظر آئے تو جان سے جاؤ گے۔“
نذیر مسکرایا۔ گویا کہہ رہا ہو”یہ جسم تمھارے حوالے لیکن خواب ۔۔۔۔۔ میرے انقلابی خواب کبھی تمھارے نہیں ہو سکتے!۔“
وہ انقلابی جدوجہد کے میدان میں واپس آیا، مگر اب وہ نذیر عباسی نہیں”مشتاق“تھا۔ایک فرضی نام،فرضی شناخت ، فرضی حلیہ، مگر نظریہ؟ وہ تو ویسا ہی تھا، کمیونزم کا جیتا جاگتا اور توانا نظریہ ۔وہ کافی عرصہ جنرل ضیاءکی آمریت کے لیے دردِ سر بنا رہا اور آخر کار30 جولائی 1980 کو کراچی میں گرفتار ہوا ۔کراچی کے فوجی عقوبت خانے کامنتظم،قاتلوں کے اس ٹولے کا سربراہ بریگیڈئیر امتیاز بلا اس سچے کمیونسٹ انقلابی کی زبان سے کچھ نہ اگلوا سکا ۔ہاں۔۔۔۔۔اس کے جسم پر اس کا اختیار ضرور تھا ،سو اس کے جسم کی ٹوٹتی ہڈیوں کی آوازیں ضرور سنی گئیں ۔تیز دھار آلوں سے اس کے بدن پر چرکے لگائے گئے لیکن اس سے صرف سرخ لہو ہی وصولا جا سکا ۔سرخ رنگ ۔۔۔۔۔انقلاب کا رنگ ،جو ہر انقلابی کی طرح کامریڈ نذیر عباسی کا بھی محبوب رنگ تھا۔دس دن بعد ۔۔۔۔۔وحشیانہ اور جان لیوا تشدد کے دس دن بعد وہ تختہءدار پر اپنے انقلابی بانکپن کے ساتھ سربلند تھا ۔وہ نہ بکا اور نہ جھکا ۔۔۔۔۔اس کا کمیونسٹ غرور سلامت رہا ۔
معلوم نہیں زندگی کی آخری سانسوں میں کامریڈ نذیر عباسی کے کیا احساسات تھے ؟۔جب اس کے جسم کو تیز آروں سے چیرکر اذیت دی گئی تو شاید اس کی آنکھوں میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کا پرچم لہرا رہا تھا۔شاید اس کے کانوں میں چے گویرا کی سرگوشی ہو ” فتح یا موت“ یا شاید بولیویا کے گھنے درختوں کے بیچ نمائش کے لیے رکھی گئی چے گویرا کی لاش یا پھر اس کی زندگی سے بھرپور آنکھوں والی مشہور تصویر اس کے ذہن کے پردے پر ابھری ہو ۔چے گویرا کی وہی تصویر جو آج تک ایک نظریہ بن کر زندہ ہے۔ شایدلاہور اور سکھر کے پھانسی گھاٹ سے بلند ہونے والے بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی کے نعرے ” انقلاب زندہ باد“ کی گونج اس ساعت ِ مرگ میں بھی اس کے ہمراہ ہو ۔شاید زمان ومکان کی مسافت طے کرتے ہوئے لاہور کے شاہی قلعے سے حسن ناصر شہید نے اپنی لافانی مسکان اس کی سمت اچھالی ہوگی ۔یا شاید نذیر عباسی کے دم ِ واپسیں پر چلی کا ممتاز کمیونسٹ شاعر اور موسیقار وکٹر جارا اپنا اکتارا لیے وہی گیت گا رہا ہو جو اس نے جنرل پنوشے کے فوجی درندوں کے سامنے اس عالم میں گایا تھا کہ اس کی انگلیاں تک بندوقوں سے کچل دی گئی تھیں اور پھر خود بھی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا ۔
میرا راگ نہیں ہے درباری
کیوں دھن کی تال پہ رقص کروں
میرے گیت میں کل کی آشا ہے
میری تان میں جھانجھ ستاروں کی
میں آخری پل تک جنگ کروں
میرے سُر سچے نکلیں.
بہر حال 9 اگست1980کی اس قاتل رات کو قاتلوں کے سامنے رکھی نذیر عباسی کی لاش محض ایک جسم نہیں ایک استعارہ تھا۔ان لاکھوں انقلابیوں کا جو اپنے خوابوں کی قیمت ادا کر کے زمین کو سرخ کرتے رہے۔جب اسے دفنایا گیا، تو نہ کوئی ماتم تھا نہ بین اور نہ کوئی جلوس۔وہ جو کروڑوں مزدوروں ،کسانوں اور مظلوموں کا وارث تھا اسے کراچی کے سخی حسن قبرستان میں رات کے اندھیرے میں کسی لاوارث شخص کی طرح دفنا دیا گیا۔ لیکن زمین جانتی تھی کہ کون آ رہا ہے۔ مٹی نے اسے چپکے سے سینے سے لگا لیا اور فضاﺅں میں وقت کی آغوش میں زندہ عالمی کمیونسٹ تحریک کے شہداءکی صدا بلند ہوئی کہ ”ہم سب کی چیخیں ایک دن نغمہ بنیں گی۔“
کامریڈنذیرعباسی کا قاتل کبھی بھی صرف ایک فوجی افسر نہ تھا۔ وہ ایک نظام تھا اور ہےجو ہر انقلابی کو دفنانا چاہتا ہے، ہر سوال کونوکِ خنجر سے چپ کروانا چاہتا ہے، ہر مزاحمت کو غائب کرنا چاہتا ہے۔لیکن ۔۔۔۔۔کچھ نام غائب ہو کر اور بھی گونجنے لگتے ہیں۔ وہ سب جو مسخ شدہ لاشوں میں تبدیل کیے گئے انھیں دیکھو کہ وہ اب بھی سوال بن کر زندہ ہیں۔انقلاب کی راہوں پر جلنے والے، دفن ہونے والے، غائب کیے جانے والے، سب نذیر عباسی کے قافلے میں شامل ہو چکے ہیں۔
نذیر عباسی آج بھی انقلابی صدا کی صورت زندہ اور توانا ہے۔اور جنرل ضیاء۔۔۔۔۔وہ بھی ایک دن اسی اگست کے مہینے میں اپنے نامہ ءسیاہ کے ساتھ ایسی حالت میں جل مرا کہ اس کا طیارہ ہی اس کی چتا میں تبدیل ہو گیا ۔البتہ بریگڈئیر امتیاز بلا اس قتل کے بے شرمانہ اعترافات کے باوجود اس کے بوجھ سے آزاد،ٹی وی چینلز پر جھوٹ اور فریب کا کاروبار چلاتا رہا تاوقتیکہ تاریخ کے اسٹیج پر عبرت کا نشانہ بن گیا ۔
کامریڈ نذیر عباسی کی شہادت کو ایک دہائی گزر چکی تھی۔۔۔۔۔سوویت یونین ۔۔۔۔۔دنیا کے نقشے پر وہ ملک جو نذیر عباسی کو بہت عزیزتھا ،جو اس کے طبقاتی مبارزے کے مستند حوالوں میں سے ایک تھا ،وہی سوویت یونین اپنی منحرف اور ترمیم پسند قیادت کے ہاتھوں خودکشی پر مجبور ہو چکا تھا ۔اور پھر سوویت یونین بکھر گیا، سوشلسٹ ریاستوں پر سرمایہ داری کے عفریت ٹوٹ پڑے، سرخ پرچم اتار لیے گئے اور بائیں بازو کے بہت سے انقلابی مساعی پسند،سکہ بند انقلابی رہنما اور دانشوریا تو راتوں رات مشرف بہ سرمایہ داری ہو گئے یا ”اصلاحات “کی راہ پر چل نکلے۔ مگر نذیر عباسی کے خواب کیا ہوئے؟کیا وہ بھی مٹی میں دفن ہو گئے؟کیا اس کی انقلابی صدا بھی سوویت یونین اور کمیونسٹ بلاک کے گرنے کے شور میں تحلیل ہو گئی ؟۔کیا اس کے انقلابی آدرش نے بھی خود کشی کر لی جس کے لیے وہ دار پر بھی سرافراز رہا تھا؟۔
نہیں۔۔کمیونسٹ بلاک کے انہدام کا گردوغبار اس کے خوابوں کو دھندلا سکا نہ دفنا سکا ۔اس کے خواب لکھوکھا ہاریوں، کسانوں، مزدوروں اور محنت کاروں کی درانتیوں اور ہتھوڑوں پر مجسم ہو گئے ۔اس کے خواب انقلابی مزاحمت کار شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں کے حرف حرف میں زندہ رہے ۔اس کی صدا انقلابی طالب علموں اورباغی نوجوانوں کی شعلہ نوائی میں جاوداں رہی ۔
آج کے نوجوان جب ”نذیر عباسی کا راستہ ہمارا راستہ “کا نعرہ لگاتے ہیں، تو تاریخ تھم کر ان کی طرف دیکھتی ہے اور نذیر عباسی کی زبان سے گویا ہوتی ہے کہ ”نعرہ کافی نہیں، عمل کرو۔علم سے سچائی تلاش کرواور سچائی کے ساتھ مرنے کا حوصلہ پیدا کرو۔“
انقلاب کے نام پر متحرک انقلاب دشمن گروہوں ،ترمیم پسندوں اور مارکسی منحرفین کی طرف سے گمراہ کیے جانے والے کتنے ہی نوجوان ہیں جوآج نیو لیفٹ کا راگ الاپتے ہیں، انھیں انقلابی پارٹی کا ڈسپلن ، پرولتاری طبقے کی آمریت اور طبقاتی جنگ ”دقیانوسی“ لگتی ہے ۔انھیں کامریڈ حسن ناصر سے لے کر نذیر عباسی تک کی جدوجہد اور شہادت ازکار رفتہ قصے معلوم ہوتے ہیں توتاریخ انہیں خاموشی سے ٹوکتی ہے کہ ”تمہیں اپنا خون نہیں دینا پڑا اس لیے تم سوال کرنے سے پہلے سچ کو مذاق سمجھتے ہو!۔کامریڈنذیر عباسی کا لباس کبھی نیا نہ تھا، اس کے جوتے گھسے ہوئے تھے لیکن اس کے خواب نئی دنیا کی بنیادوں پر کھڑے تھے۔اگر تم سچے ہو، تو تمہیں بھی وہی سادگی اپنانی ہو گی، وہی قربانی، وہی فولادی ڈسپلن۔۔۔۔ورنہ نعرے صرف شور ہیں اور شور کبھی انقلاب کے دھماکوں میں نہیں ڈھلتا۔”
آج یہ کہنے والوں کی کوئی کمی نہیں کہ کمیونزم مر چکا ہے اور مارکسزم لینن ازم قصہ ءپارینہ ہے ۔ان میں ایسے نام بھی شامل ہیں جو کبھی نذیر عباسی کے قافلے میں شامل رہے ۔یہ لوگ شاید نذیر عباسی کی قبر پر اگنے والے سرخ گلابوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔لیکن کرہ ارض پر جب تک بھوک، نابرابری اور استحصال موجود ہے نذیرعباسی جیسے انقلابی شہید زندہ رہیں گے ۔ان کے لہو سے جو سرخ لکیر وجود میں آئی تھی اب وہ ایک دریا میں بدل چکی ہے جو جبر واستبداد کے ہر قلعے کو بہا لے جائے گا۔ یہی وہ لمحہ ہو گا جب نذیر عباسی کی کہانی مکمل ہو گی۔۔۔۔۔جب کسان اپنی زمین واپس لے گا،جب مزدور کا خون مشین سے زیادہ قیمتی مانا جائے گا،جب کسی نذیرعباسی کو لاپتہ اورمسخ شدہ لاشے میں تبدیل نہیں کیا جا سکے گا اور جب یہ نظام اپنے ہی وزن تلے دفن ہو جائے گا۔تب کہیں جا کرکامریڈ نذیر عباسی کی قبر پر اگنے والا سرخ گلاب واقعی مکمل کھلے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں