تعلیم و تربیت : شخصیت سازی کا جامع نظام (1)-وحید مراد

مشرقی تعلیمی روایت میں تعلیم کو محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ کردار سازی اور انسان کی مکمل شخصیت کی تشکیل کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ “تربیت” کو ہمیشہ لازم و ملزوم مانا گیا۔ لیکن جب اس پر عمل درآمد کی بات آتی ہے تو اکثر اس کا دائرہ محدود کر دیا جاتا ہے۔ کوئی اسے صرف خاندان کی ذمہ داری کہہ کر سبک دوش ہو جاتا ہے تو کوئی اسے استاد، تعلیمی اداروں یا مذہبی مراکز کے سپرد کر دیتا ہے۔ بعض اوقات ریاست بھی اسے اپنی پالیسیوں کے تابع کر کے مخصوص نظریات کی ترویج کا ذریعہ بناتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمہ جہت انسانی زندگی کی تربیت صرف ایک ادارہ انجام دے سکتا ہے؟

جب ہر خاندان کی اقدار و اہداف الگ ہوں، ریاست کی ترجیحات سیاسی ہوں اور معاشرہ مذہبی و ثقافتی طور پر منقسم ہو تو ایسی صورت میں تربیت کا کوئی جامع و متفقہ تصور پیدا کرنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ اگر خاندان، اسکول، مذہب اور ریاست الگ الگ بلکہ بسا اوقات ایک دوسرے کے متضاد پیغام دیں تو ایک معصوم ذہن کس کی سنے، کس پر عمل کرے اور اپنے کردار کی بنیاد کہاں سے لے؟

اسلامی روایت میں “تربیت” ایک جامع اور ہمہ جہت تصور ہے۔ یہ محض نصیحت یا تلقین کا نام نہیں، بلکہ تدریجی، مسلسل اور ہم آہنگ عمل ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، ذہنی، سماجی اور جسمانی تشکیل کرتا ہے۔ قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، صحابہ کرامؓ اور مسلم مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم اگر تربیت سے خالی ہو تو وہ محض معلومات کا بوجھ ہے نہ کہ علم۔

تربیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ادب سکھایا جائے بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ سچ کو کیسے پہچانا جائے، اختلاف کو کس طور برداشت کیا جائے، سوال کیسے اٹھایا جائے اور رائے کو کس مہذب انداز میں پیش کیا جائے۔ تربیت انسان کی اخلاقی سمت متعین کرتی ہے بغیر اس کی انفرادیت کو ختم کیے۔

یقیناً، خاندان بچے کی پہلی درسگاہ ہے جہاں زبان، روایات، عادات اور ابتدائی اقدار سکھائی جاتی ہیں۔ لیکن آج کا خاندان بھی فکری الجھن، ذہنی دباؤ اور سماجی تقسیم کا شکار ہے۔ اگر ایک خاندان دنیاوی کامیابی کو اولین اہمیت دیتا ہے اور دوسرا صرف رسوم و رواج کا پیروکار ہے۔ انفرادی اقدار کا تضاد مجموعی سماجی ہم آہنگی کو ممکن نہیں بننے دیتا۔ اس لیے تربیت کو صرف گھریلو ذمہ داری کہہ دینا مسئلے کا حل نہیں ۔ یہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

تعلیمی ادارے جو کبھی تربیت گاہیں ہوا کرتے تھے اب صرف امتحانات، گریڈز اور نمبرز کے مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں بچوں کو رٹنے اور مقابلہ کرنے کی دوڑ سکھائی جاتی ہے لیکن سوچنا، محسوس کرنا، برداشت کرنا اور صحیح و غلط میں فرق کرنا کم سکھایا جاتا ہے۔ استاد کا کام صرف سلیبس پڑھانا نہیں بلکہ سوچنے کی جرات دینا، سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کرنا اور کردار میں وقار پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اگر استاد محض تدریسی مشین بن جائے تو تربیت کا عمل رک جاتا ہے۔

ریاستی پالیسیاں، نصاب، میڈیا اور عدالتی نظام بھی عوامی شعور کو متأثر کرتے ہیں۔ اگر ریاست تربیت کے نام پر صرف اپنا سیاسی بیانیہ مسلط کرے، نعرے اور جذبات ابھارے، تنقیدی شعور کی بجائے اطاعت کا درس دے تو یہ تربیت نہیں، ذہنی غلامی ہے۔ ایک مہذب ریاست کو چاہیے کہ وہ شہری تربیت کو حب الوطنی، انصاف، تحقیق، رواداری اور اخلاقی اصولوں پر استوار کرے نہ کہ کسی مخصوص جماعت، عقیدے یا قوم پرستی کی بنیاد پر۔

میڈیا، جسے آج کے دور کا سب سے طاقتور استاد سمجھا جا سکتا ہے، اگر صرف سنسنی، تفریح اور اشتہارات کی دوڑ میں مصروف ہو جائے تو تربیت کی تمام کوششیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ نوجوان آج اسکول سے زیادہ میڈیا سے سیکھتا ہے مگر وہ کیا سیکھتا ہے؟ یہ سوال اب والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ بن چکا ہے۔

مذہبی ادارے، مدارس، مساجد اور علماء کرام بھی اس فکری و اخلاقی تربیت کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ فقہی مباحث اور مسلکی اختلافات سے آگے بڑھ کر روحانی تربیت، اخلاقیات، انسان دوستی، فکری وسعت اور خدا خوفی کو اپنی ترجیح بنائیں۔آرٹ، ادب، کہانی، شاعری اور ثقافت بھی تربیت کا موثر ذریعہ بن سکتے ہیں اگر وہ انسان کو سچ، ہمدردی، قربانی اور محبت کا درس دیں۔

تربیت ایک مربوط سماجی نظام کا نام ہے جو صرف مدرسے، اسکول یا ماں باپ کے سہارے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو اخلاقی اصولوں پر متفق ہونا ہوگا۔ اگر معاشرے کے تمام ادارے خاندان، اسکول، ریاست، میڈیا، مذہب — انسانی عظمت، سچائی، انصاف، دیانت اور احترام جیسی اقدار پر یکجا ہو جائیں تو تربیت کا عمل بامعنی نتیجہ خیز اور دیرپا بن سکتا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تربیت کو اپنے سیاسی مفادات سے بلند کر کے ایک آفاقی انسانی ضرورت کے طور پر اپنائے۔ تعلیمی نصاب میں سائنسی اور لسانی علوم کے ساتھ کردار سازی، تنقیدی سوچ، اخلاقی آداب، دوسروں کی رائے کا احترام اور خود احتسابی جیسے موضوعات شامل کیے جائیں۔ اساتذہ کی تربیت میں علمی مہارت کے ساتھ ساتھ اخلاقی شعور اور تربیتی پہلو کو بھی شامل کیا جائے۔ خاندانوں کی رہنمائی کی جائے کہ وہ رسم و رواج کے ساتھ ساتھ بنیادی اقدار بھی سکھائیں ۔ میڈیا کو بھی ذمہ دار بنایا جائے کہ وہ محض منافع نہیں بلکہ سماجی شعور کی ترویج کا ذریعہ بنے۔

تربیت کوئی علیحدہ شے نہیں بلکہ تعلیم ہی کی روح، جوہر اور اصل مقصود ہے۔ اگر تعلیم ایک جسم ہے تو تربیت اسے زندگی، سمت اور معنی عطا کرتی ہے۔ اگر ہم معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال، فکری انحطاط اور سماجی بےحسی کا سدباب کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم اور تربیت کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کے بجائے ایک باہم مربوط اور لازم و ملزوم عمل کے طور پر اپنانا ہوگا۔

اسلامی مفکرین جہاں تزکیۂ نفس، اخلاقیات اور ایمان داری کو تربیت کی بنیاد قرار دیتے ہیں وہیں مغربی ماہرین تعلیم بھی شخصی ترقی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور جیسے تصورات کے ذریعے اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ آج اگر ہم ایک جامع اور متوازن نظامِ تربیت وضع کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اس کی ضرورت سے ہی انکار کر دیں ۔ درحقیقت، موجودہ زمانے میں تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے جو انسان کو محض معلومات نہیں بلکہ مقصد، شعور، کردار اور احساس ذمہ داری عطا کرتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply