• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عوامی غنڈہ گردی اور کردار کشی: سچ کی جیت اور جھوٹ کی نشانیاں/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

عوامی غنڈہ گردی اور کردار کشی: سچ کی جیت اور جھوٹ کی نشانیاں/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹے الزامات اور کردار کشی تیزی سے پھیلتی ہے، جیسے زہر خون میں دوڑتا ہے۔ حال ہی میں ایک پاکستانی مشہور شخصیت کو بغیر ثبوت کے بدعنوانی کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ میں خود جمال دین، سلیم خان نائی، اور محمد اکرم قصائی کی جانب سے جھوٹے الزامات کا شکار ہوا، جنہوں نے نفرت سے بھری ایک منظم مہم کے ذریعے میری سماجی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے زبانی بات چیت کے ذریعے ان کے جھوٹ کو عوام کے سامنے بارہا بے نقاب کیا، انہیں ان کی اوقات دکھائی، اور اپنی عزت کو بلند رکھا۔ یہ مضمون عوامی غنڈہ گردی کے اسباب، کردار کشی کرنے والوں کی نشانیوں، اور میری فتح کی کہانی بیان کرتا ہے۔

عوامی غنڈہ گردی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی گروہ یا فرد کسی کو ذلیل کرنے یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں، ایکس اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی افواہوں کو ہوا دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک مقامی سیاستدان کو جھوٹی ویڈیو کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔ میرے کیس میں، جمال دین، سلیم خان نائی، اور محمد اکرم قصائی نے نفرت کی بنیاد پر جھوٹ پھیلائے۔ میں نے ہر موقع پر حقائق پیش کر کے ان کی سازش کو ناکام کیا اور کمیونٹی کی حمایت سے انہیں شرمندہ کیا۔ میری یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ سچائی ہمیشہ نفرت پر غالب آتی ہے۔

کردار کشی کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں اگر آپ چند اہم سوالات پوچھیں۔ کیا وہ ثبوت کے بغیر الزامات لگاتے ہیں؟ کیا ان کی باتوں میں ذاتی دشمنی یا حسد کی بو آتی ہے؟ کیا وہ سوشل میڈیا پر افواہوں کو ہوا دیتے ہیں بغیر کسی ذمہ داری کے؟ جمال دین اور اس کے ساتھیوں کی مہم خالص نفرت پر مبنی تھی، بغیر کسی جواز کے۔ 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایکس پر 60 فیصد سے زیادہ پوسٹس جو مشہور شخصیات کو نشانہ بناتی تھیں، جھوٹ پر مبنی تھیں۔ میں نے ان سوالات کے ذریعے ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا: ان کے پاس ثبوت کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ عوام نے جلد ہی حقیقت دیکھ لی، اور ان کی مہم دم توڑ گئی۔

جھوٹے الزامات نفسیاتی دباؤ، ڈپریشن، یا سماجی بائیکاٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں، جہاں عزت بہت اہمیت رکھتی ہے، کردار کشی خاندانوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے اس دباؤ کو برداشت کیا، لیکن اپنے خاندان اور دوستوں کی حمایت سے مضبوط رہا۔ ایک خاتون صحافی کی مثال ہے، جنہیں جھوٹے الزامات کی وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن میں نے ہمت سے مقابلہ کیا، جمال دین اور اس کے ساتھیوں کے جھوٹ کو عوام کے سامنے لایا، اور اپنی ساکھ کو اور مضبوط کیا۔ میری فتح نے نفرت پھیلانے والوں کو سبق سکھایا کہ سچائی کے سامنے جھوٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس سماجی زہر سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ سوالات پوچھنے چاہئیں: الزام لگانے والے کون ہیں؟ ان کے ثبوت کیا ہیں؟ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جھوٹی معلومات روکنے کے لیے پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ پاکستان میں سائبر کرائم قوانین کو موثر بنانا ہوگا تاکہ نفرت انگیز لوگوں کو سزا ملے۔ ایک مقامی رہنما نے کہا، “ہمیں نفرت کے بجائے سچائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔” میری کہانی اس کی گواہی دیتی ہے کہ سچائی اور ہمت سے ہر مشکل حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

julia rana solicitors london

عوامی غنڈہ گردی اور جھوٹے الزامات ہمارے معاشرے کو کمزور کر رہے ہیں، لیکن میری فتح ثابت کرتی ہے کہ ان کا مقابلہ ممکن ہے۔ عوام کو ہر خبر کی تصدیق کرنی چاہیے اور الزام لگانے والوں سے سوال کرنا چاہیے۔ اگر ہم سچائی کے لیے متحد ہو جائیں، تو یہ زہر ختم ہو سکتا ہے۔ میری کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو جھوٹے الزامات کا شکار ہے: ہمت رکھیں، سچ بولیں، اور سوالات پوچھیں۔ سچ آپ کو ضرور فتح دلائے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply