سفرنامے لکھنے کے حوالے سے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک پُرمعنی جملہ ذہن میں گونج رہا ہے۔ مفہوم اس کا کچھ یوں ہے کہ جب خیال کمزور ہو جاتا ہے تو لکھنے والا خود کو واقعات لکھنے میں مصروف کر لیتا ہے۔ گزشتہ کالموں میں پے در پے ترکی کے سفر کے احوال قلم بند ہونے لگے تو معاً یہ جملہ یاد آگیا۔ اگر پڑھنے والے کو خود احتسابی کا درس دیا جاتا ہے تو لکھنے والے پر اس سبق کا اطلاق دو چند ہو جاتا ہے۔ خیال وارد ہوا کہ اس قول کے کٹہرے میں خود کو کھڑا کر کے دیکھا جائے۔ جو شخص اندر کی عدالت میں خود کو پیش نہیں کرتا اسے باہر کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جو ضمیر کی عدالت میں کھڑا نہیں ہوتا، اسے قانون کی عدالت سے سمن جاری ہو جاتے ہیں۔ خود کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا تو معلوم ہوا کہ واقعی ہم قصور وار ہیں۔ مصروفیت بروزنِ غفلت نے خود کو خیال سے فرقت کی حالت میں ڈال رکھا ہے:
کچھ دیر تری یاد سے غافل رہا تھا میں
وہ لمحے کر رہے ہیں مجھے شرمسار سے
ایسے میں ملزم فردِ جرم کا انکار نہیں کر سکتا، بلکہ برضا و رغبت اقبالِ جرم کرتا ہے بس رحم کی اس التماس کے ساتھ کہ محبوب کبھی محجوب نہ کرے۔ کشف المحجوب میں حضرت سری سقطی کا ایک قول درج ہے: خدایا! اگر تو نے مجھے کسی شے کا عذاب دینا ہی ہے، تو مجھے حجاب کی ذلت کا عذاب نہ دینا۔ چنانچہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق ہم حالتِ امید میں ہیں۔ امید واثق ہے، بزرگوں سے مروی یہ درخواست بابِ رحمت میں باریاب ہو گی۔ کہ اس درخواست کے ساتھ ایک نسبت موجود ہے نسبت سے مراد ہے ’’ریفرنس‘‘۔ آج کے طالب علموں کو جدید الفاظ میں سمجھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک لفظ ’’لنگر‘‘ اور ’’نیاز‘‘ ہے یہ بھی انہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا ترجمہ و تفہیم ان الفاظ میں کیا جا سکتا ہے: It is a meal with a reference.۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس کی رحمت انصاف پر غالب ہو گی۔ دراصل جہاں سے خیال آتا ہے، رحم کی درخواست بھی وہیں پہنچتی ہیں۔ اس لیے امید ہے، خیال بھی بحال ہو گا اور کمزوری قوت میں بدل جائے گی، سییات کا حسنات میں بدلنا، معصیت کا مغفرت میں تبدیل ہو جانا اس ذات کے لیے کیا دشوار ہے، جو عرشِ صمدیت پر تخت نشیں ہے ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لیے! یہاں حضرت واصف علی واصفؒ کا امید افزا جملہ ٹوٹتے ہوئے حوصلے کو پھر سے بحال کر رہا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: دامنِ عمل
خالی ہو تو ہو، دامنِ رحمت تو بھرا ہوا ہے۔
بہرکیف متعلقین کی فرمائش تھی کہ ایک سفر نامہ اس طرح ترتیب دیا جائے جو باہر کے سفر کو اندر کے سفر کے ساتھ منطبق کر دے تا آن کہ واقعات اور افراد کے خوگر اذہان خیال اور نظریے سے آگہی حاصل کر سکیں۔ عالمِ امثال میں ترتیب یہی ہوتی ہے۔ شعور کو تجسیم سے تجرید تک رسائی کی ترکیب یونہی کی جاتی ہے۔ خیال کی ترتیب قائم رہے تو انسان کا یہی زمینی سفر آسمانی سفر بن جاتا ہے۔ دراصل کسی بھی ترتیب کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود قائم رہے۔ کوئی خواہش، کوئی طلب، کوئی ضرورت اسے اس کے خیال سے انحراف کی اجازت نہ دے۔ خواہش بے ترتیب کرتی ہے خواہش سے بے نیازی ترتیب کو راسخ کرتی ہے۔ رنگ، راگ اور خوشبو سب ترتیب کے کرشمے ہیں۔ پھول میں خوشبو اس کی پتیوں کے ترتیب میں پوشیدہ ہے۔ تجربہ کر لیں خوشبو پھول میں ہوتی ہے، اس کی پتیوں میں نہیں۔ اگر پتیاں نوچ لی جائیں تو خوشبو روٹھ جاتی ہے۔ گلستانِ ہستی میں انسان بھی ایک پھول کی مانند ہے۔ احساسات اس پھول کی پتیاں ہیں۔ کسی کے احساسات کو مسل دیا جائے تو خوشبو ہجرت کر جاتی ہے۔ اگر کوئی کھِل اٹھے تو خوشبو بحال ہو جاتی ہے۔
اب زمینی سفر کے طر ف چلتے ہیں۔ حضرت یونس ایمرے کی قیام گاہ کی وادیٔ پُرکیف سے واپس شاہراہ کا سفر پُرلطف بھی تھا اور پُر خطر بھی۔ تقریباً چھبیس کلو میٹر بل کھاتی ہوئی سڑک کبھی اونچائی کی طرف جا رہی تھی اور کبھی گہرائی کی طرف۔ شام ڈھل رہی تھی۔ بیٹے کی کوشش تھی کہ کسی طرح سورج ڈوبنے سے پہلے ہم قونیہ کی طرف جانے والی بڑی شاہراہ کی طرف پہنچ جائیں۔ گوگل نے اسے ایک شارٹ کٹ راستہ سجھایا۔ وہ راستہ کچھ یوں تھا کہ اس چھوٹی شاہراہ سے بڑی شاہراہ تک پہنچنے کے لیے ایک گاؤں سے گزرنا ہو گا۔ اس طرح ہم تقریباً ستر کلومیٹر سفر مختصر کر لیں گے۔ چنانچہ ہم گوگل میاں کی سربراہی میں چل پڑے۔ اصل شاہراہ سے اتر کر سڑک کی دوسری جانب دوبارہ اسی طرح کی بل کھاتی ہوئی سڑک پر اتر گئے۔ ترکی کے گاؤں کیا ہیں، ہمارے شہروں کو مات کرتے ہیں۔ گاؤں کی طرف جانے والی سڑکیں بھی اتنی عمدہ ہیں کہ ایک انچ بھی کہیں سے ٹوٹی ہوئی نہ ملیں۔ یہاں گاؤں کی طرف جانے والی سڑک چوڑائی میں چھوٹی ضرور ہو جاتی ہے، لیکن اپنی پائیداری میں بڑی شاہراہوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ اس لہراتی ہوئی سڑک پر گاڑی ہموار اور بلاآواز چل رہی تھی۔ عقلمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم اپنے بیٹے کو چھوٹی سڑکوں کی طرف نکلنے سے منع کرتے اور بڑی سڑک ہی پر چلتے رہنے کا کہتے، لیکن خیال تھا کہ چلو اس شارٹ کٹ کے چکر میں ہم ترکی کے چند گاؤں قریب سے دیکھ لیں گے۔ ہوا تیز تھی، گاڑی اس سے بھی تیز صاف نتھری ہوئی ہوا، کھیتوں کی قدرتی بو باس لیے ہوئے ہمارے نتھنوں سے گزر کر پھپھڑوں کی ایک ایک رگ کو سرشار کر رہی تھی۔ یہ ایک وسیع وادی تھی بہت دور پہاڑیوں کے دو سلسلوں کے درمیان ایک وسیع میدانی علاقہ تھا اور اس کے بیچوں بیچ سڑک پر ہماری اکلوتی گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ اردگرد دونوں طرف تاحدِ نظر کھیتوں میں ترک دہقانوں کی محنت کا ثمرہ لہلہا رہا تھا۔ قومیں محنتوں سے ترقی کرتی ہیں، باتوں سے نہیں۔ ہم باتیں کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔ باتیں اور محض باتیں منتشر کرتی ہیں۔ عمل اور پیہم عمل مجتمع کرتا ہے۔ انتشار کمزوری ہے، اجتماع قوت۔ ہم فرداً فرداً تو شاید اچھے ہوں، لیکن ہماری اجتماعی اچھائی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک قائد سے محروم ہیں۔ ہجوم کو قوم بنانے کے لیے ایک قائد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قومی سطح پر ہم اپنا قائد کھو چکے ہیں اور نیا قائد ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا۔ قومیں قائد کے رخصت ہونے سے قائد سے محروم نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے قائد کی تعلیمات فراموش کرنے سے قائد سے محروم ہو جاتی ہیں۔ قائدِ اعظم کے کتنے فرمان ہیں جو ہمیں یاد ہیں؟ قائد کے کتنے فرمان ہیں جن پر ہم عمل کرتے ہیں اور وہ فرمان کتنے ہیں، جنہیں ہم دانستہ منظرِ عام پر آنے ہی نہیں دیتے۔ اگر ہم اپنے قائد کے فرمانوں پر سنسر شپ ہی ختم دیں تو قوم کسی متفقہ لائحہ فکر عمل تک پہنچ سکتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھیں گے۔ ہماری اشرافیہ بھول چکی ہے کہ اگر کسی قوم کی تاریخ بگاڑ دی جائے تو جغرافیہ بگڑنے میں دیر نہیں لگتی۔ ہمارے قائد ہمیں سمجھا کر گئے تھے کہ تعلیم ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہم نے تعلیم عام کرنے کے لیے اب تک کیا کیا؟ ہم نے تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا۔ قائد یہ بات اچھی طرح سمجھا کر گئے تھے کہ سول سرونٹ اور فوج کا کام پالیسیاں بنانا ہرگز نہیں، داخلہ اور خارجہ پالیسی بنانا عوامی نمائندوں کا ہے۔ ہم خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے پالیساں بندوق کی نوک پر بناتے اور بنواتے رہیں۔ ترک قوم اپنے قائد کو یاد رکھتی ہے۔ یہاں بچے بچے کو اتا ترک کے اقوال حفظ ہیں۔ انہیں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں اتا ترک کے افکار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نظریاتی اختلاف اپنی جگہ درست، لیکن اِس قوم کی ترقی کا راز اپنے قائد سے وفاداری میں پنہاں ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں