شور اٹھا ہے اور بہتی گنگا میں مولوی فضل الرحمان صاحب نے بھی وضو کر لیا، وضو کا لوٹا البتہ ایک ایسے مجرم نے پکڑا ہوا ہے جس پہ قتل، قبضہ گیری اور جانے کس کس قماش کے پرچے درج ہیں، سر پہ البتہ اب اس نے گیروی دستار باندھ لی ہے۔ شور میں مذہبی طبقات نے یہ سوچے سمجھے بنا اپنی آواز شامل کر دی کہ آخر چیخیں بلند کیوں ہوئی ہیں، مدعا کیا تھا، مسلئہ کیا ہے۔؟
سرکاری اداروں کی رپورٹ آئی کہ یہ مسلمانوں کے ملک میں یکدم جو گستاخوں کا جم غفیر دریافت ہوا ہے، اسکے پیچھے کچھ بدنیت مولویوں، ناکام وکیلوں اور کرپٹ سرکاری افسروں کا ایک ناپاک سازشی ٹولہ ہے، فیکٹ فوکس نے بھی یہی رپورٹ کیا۔ کچھ ملزمان کے ورثا نے “رٹ پٹیشن” کی کہ جناب حکومت کو کہا جائے کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو تحقیق کرے کہ سچائی کیا ہے، یوں مقدمہ “نور فاطمہ بنام فیڈریشن” شروع ہوا۔ تیسری چوتھی پیشی پہ ہی عدالت نے کمیشن بنانے کا حکم دے دیا مگر کچھ لوگ عدالت پہنچے کہ جناب اس رپورٹ میں ہمارا بھی نام ہے سو ہمیں سنا جائے۔
اگرچہ ذاتی خیال تو یہ ہے کہ عدالت کہتی دوہری ایکسرسائز کیوں، آپ اپنا موقف کمیشن کو ہی دیجیئے گا مگر قدرت نے نقاب سرعام اتارنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دس بیس نہیں، بیالیس دن عدالت نے طرفین کو موقع دیا، ہلڑبازیوں اور رنگ بازیوں کے باوجود جرات مند جج، چہرے پہ سنت رسول سجائے سردار اسحاق نبوی منہج پہ ڈٹا رہا اور کند ذہن خود کو مزید پھنساتے رہے، قدرت چہروں سے نقاب کھینچتی رہی۔ وہ ناپاک جرات جو کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آتی، آدھی سے زیادہ لائیو سٹریم ہوتی سماعتوں میں دنیا بھر نے دیکھ کر انگلیاں منہ میں داب لیں۔
معلوم ہوا کہ ناکام وکیلوں، دھتکارے مولویوں اور کرپٹ افسروں پہ مشتمل ایک گروہ جعلی مقدمات ہی نہیں شاید قتل تک میں ملوث ہے، مگر کیونکہ سماعت کا دائرہ محدود اور شاید کوئی پریشر تھا کہ جج نے موقع پہ ہی راؤ نامی وکالت پہ دھبے کے خلاف قتل کی تفتیش کا حکم نہ دیا وگرنہ ثبوت تو کافی وہ خود دے گیا تھا۔ جج کو فقط ایک شئے دیکھنی تھی، “کیا بادی نظر میں مدعی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاملہ مشکوک ہے اور ایک تحقیقاتی کمیشن کی تحقیقات ضروری ہیں؟”
کوئی عقل کا اندھا بھی تو دیکھ سکتا ہے کہ یہ بات ثابت ہو چکی کہ معاملہ مشکوک اور قابل تحقیق ہے۔ اب جج کو ریلیف دینا تھا، وہ ریلیف جو مدعیان نے مانگا، کیونکہ یاد رہے کہ یہ رٹ پٹیشن تھی ، دو فریقین کے درمیان مقدمہ نا تھا۔ سو جج نے حکم دیا کہ کمیشن بنایا جائے جو تحقیق کرے اور سچ سامنے لائے۔ حکم نامہ نہ تو توہین رسالت کے قانون کی بات کرتا ہے نہ ہی چلتے ہوئے مقدمات میں کسی قسم کے ریلیف کی۔ کمیشن کا اختیار یا دائرہ کار کیا ہے؟
1- کیا یہ ناپاک گروہ واقعی لوگوں کو زبردستی /سازش سے توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث کرنے کا مجرم ہے؟ کمیشن اگر یہ طے کر لے کہ راؤ، معاویہ اور سرکاری افسران پہ مشتمل ناپاک گروہ نے جعلی مقدمات بنائے اور لوگوں کو پھنسوایا یا عبداللہ کے قتل میں ملوث تھے تو نتائج کیا ہوں گے؟
– راؤ اور اسکے ہمنواؤں کے خلاف قتل کی تفتیش کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
۲- کوئی چار سو مقدمات، کی دوبارہ تفتیش کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ جس کیلئے ضروری نہیں کہ ان ملزمان کی ضمانت بھی دی جائے، بس تین ماہ میں دوبارہ منصفانہ تفتیش کی جا سکتی ہے۔
۳- سرکاری افسران برطرف کیے جا سکتے ہیں۔
۴- قانون میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے جو عصر حاضر (اے آئی دور) کے مطابق تفتیش کو فول پروف بنا سکے۔
اب اس سب میں کیا کہیں بھی کوئی اندیشہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو کچھ ہو گا؟ قطعا نہیں۔ لیکن مجرم مافیا جانتا ہے کہ اگر سچ سامنے آ گیا تو انکی جان کڑکی میں پھنس جائے گی۔ سو ان کے پاس جذباتی استحصال کا ایک نعرہ ہے، ہائے توہین رسالت، پکڑو پکڑو مارو مارو۔ اور دینی طبقات موت سے وضو کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ مولوی فضل کو شاید اندازہ نہیں کہ اس بار تھوکا تو اسکے اپنے چہرے کو آلودہ کر جائے گا۔ اندیشہ اگر ہو سکتا ہے تو فقط ایک، کہ اس کاروائی کے نتیجے میں توہین رسالت کا کوئی ملزم جو ان مقدمات میں ملوث ہے اور واقعی مجرم ہے بچ نکلے گا۔
بھائی، اسلامی تعلیمات ہی کے مطابق اگر تین سو ننانوے واقعی مجرم ہیں تو ایک معصوم کو بچانے کیلئے ان تین سو ننانوے کو بخش بھی دینا پڑے تو عین اسلامی ہے( گو یاد رہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو گا)۔ یارو، توہین رسالت کے قانون کے پیچھے جناب رسول اللہ ص کی محبت کا جذبہ ہے کہ ہم انکی توہین یا گستاخی نہیں ہونے دیں گے، مجرم کو سزا دلائیں گے۔ کیا آپ اپنی محبت کو ناپاک مقاصد کیلئے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں؟ کیا مجرم گروہ اس قانون کو یوں استعمال کریں کہ لوگ اسلام اور محبت سے بددل ہو جائیں؟ نام محمد صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو محبت کی علامت بنائیے، خوف کی نہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں