موجودہ ہائی برڈ سیاسی بندوبست میں آئین کی حکمرانی، قانون کی عملداری، پارلیمانی بالادستی، اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی، اورعدلیہ کی خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ جمہوری عمل اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے حلقے حکومتی معاملات میں مقتدرہ کی مسلسل پیش قدمی اور سول نمائندہ اداروں کی پسپائی کو زوال پذیرجمہوریت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حمایت پر کھڑی ن لیگی حکومت اور حکومت کے شراکت دار ایم کیو ایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی وغیرہ ، ہائی برڈ نظام کے سیاسی ستون ہیں۔جبکہ صدارت، دو صوبوں کے گورنر اور سینٹ چیئرمین جیسے اہم آئینی عہدوں پر براجمان پیپلز پارٹی اس نظام میں ایک سٹیک ہولڈر ہے۔ دستور پسند حلقے محسوس کرتے ہیں کہ جمہوری پسپائی کے اس دور میں ایک نئی سیاسی جمہوری تحریک کی اشد ضرورت ہے۔ کیا حالیہ اعلان کردہ عمران خان کی تحریک جمہوری پسپائی کو جمہوری پیش رفت کی جانب گامزن کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی اقتدار سے محرومی کے بعد ریاستی جبر کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کےبیسیوں کارکن گذشتہ تقریبا دو سال سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو انگنت مقدموں کا سامنا ہے اور وہ گذشتہ دو سال سے پابند سلاسل ہیں۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف اکثر مقدمات سیاسی نوعیت رکھتے ہیں اور مقدموں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے اپنی قید کے دو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بقول عمران خان وہ جیل سے اس تحریک کی نگرانی بذات خود کریں گے۔ اس تحریک کے سلسلہ میں عمران خان نے پارٹی کے راہنماؤں کی ذمہ داریوں کا تعین بھی کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی اعلان کردہ تحریک کے تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اور سندھ کے عوام، احتجاجی تحریک میں جوق در جوق شامل ہو کر موجودہ ہائی برڈسسٹم کو جڑ سے اٹھا پھینکیں گے۔جس کے نتیجہ میں آئین و قانون کی حکمرانی کادور دورہ ہو گا۔ پارلیمانی سول بالادستی کا بول بالا ہو جائے گا۔ عدلیہ کی خومختاری اور میڈیا کی حقیقی آزادی کے روشن دور کا آغاز ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال کیا احتجاجی تحریک کے دباو کے تحت حکومت عمران خان کو رہا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایک بڑا سوال کہ کیا تحریک کے نتیجہ میں مقتدرہ، عمران خان سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہو جائے گی۔ اس وقت ان سوالات کا ہاں یا نہ میں جواب دینا مشکل ہے۔ مگر ماضی کی جمہوری سیاسی تحریکوں کے جائزہ کی روشنی میں کچھ اہم نتائج اخز کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں چار فوجی ڈیکٹیٹروں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے خلاف سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے طویل جدوجہد کی ہے۔ یاد رہے ڈکٹیٹروں کے خلاف جمہوریت بحالی کی ساری تحریکیں سیاسی جماعتوں کے وسیع تر متحدہ محاذ کے بینر تلے چلائی گئیں تھیں۔ یہاں تحریکوں کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لینا مقصود نہیں ہے۔ محض یہ بیان کرنا ہے کہ سیاسی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایک سیاسی پارٹی اپنی تنظیمی قوت کی بنیاد پر عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف کے خلاف سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ قائم ہونے کے بعد عوام، وکلاء، طلبہ اور معاشرے کے دیگر طبقات نے حکومت مخالف تحریکوں میں پرجوش شرکت اختیار کی۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف نو پارٹیوں کا اتحاد عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوا تھا۔
پی ٹی آئی اور عمران خان کو اقتدار سے محروم ہوئے تین سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ اقتدار سے محروم ہوتے ہی عمران خان کی حکومت مخالف تحریکیں چلانے کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ پی ٹی آئی ابھی تک اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حکومت مخالف سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ناکامیاب تحریکی کوششوں کی وجہ سے ریاستی کریک ڈاؤن کے نتیجہ میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے کئی سرکردہ راہنما اور کارکن جیلوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیادت سے محرومی کے بعد پارٹی بے عملی، انتشار اور بے سمتی کا شکار ہے۔ جیل سے باہر پارٹی کی لیڈرشپ، پارلیمانی قیادت اور خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں کو متحرک کرنے اور پارٹی کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ عمران خان کے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے اور سوشل میڈیا پر بیانات کارکنوں اور عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں کمی بیشی کے بارے کچھ ٹھوس رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ مگر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ صوبہ خیبرپختون خوا کے حکومتی وسائل کے بل بوتے پر پنجاب اور سندھ میں کسی قسم کا سیاسی ابھار پیدا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ عمران خان کی مقبولیت اور ووٹ پاور کو سٹریٹ پاور میں تبدیل کرنے کی صلاحیت اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت میں مفقود ہے۔ پنجاب اور سندھ میں نمایاں سیاسی ابھار پیدا کئے بغیر عمران خان کی رہائی یا مقتدرہ سے تعلقات کی بحالی مشکل نظر آتا ہے۔
پی ٹی آئی بے عملی اورسیاسی بے سمتی کا شکار ہے۔ پابند سلاسل عمران خان سیاسی و زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔ عمران خان نے پنجاب میں پی ٹی آئی کے مقید راہنماؤں کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے مشورے کو رد کر دیا ہے۔ یاد رہےعمران خان مقتدرہ قیادت سے مذکرات کرنے کے علاوہ کسی سے مذاکرات کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ مگر مقتدرہ کے ترجمان عمران خان کے مذاکرات کی پیشکش کو متعد بار مسترد کر چکے ہیں۔
اعلان کردہ تحریک کے نتائج سامنے آنے کے بعد، پی ٹی آئی کی بے عمل اور غیر موثر قیادت کے پیش نظر، پارٹی کے اندر شدید اختلافات اور مسلسل اسیری کے مد نظر عمران خان کو بلآخر صرف مقتدرہ سے مذاکرات کرنے کی سخت گیری پالیسی ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ شائد کچھ عرصہ بعد عمران خان کو باور کرانا آسان ہو جائے گا کہ جمہوری جدوجہد میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے اور پارٹی کو ریاستی جبر سے بچانے کا ذریعہ سیاسی قوتوں کے مابین ڈائیلاگ سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں