• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انڈیا کا حملہ؛پاکستان کا جواب متنازع کشمیر تک محدود کیوں رہا؟-ثقلین امام

انڈیا کا حملہ؛پاکستان کا جواب متنازع کشمیر تک محدود کیوں رہا؟-ثقلین امام

6 اور 7 مئی کی درمیانی شب جنوبی ایشیا نے ایٹمی طاقت ہمسایہ ممالک انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ تاریخ کا سب سے سنگین فوجی تصادم ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے فضائی حملے کیے، ہر ایک نے اپنے اقدامات کو سیلف ڈیفنس اور سٹریٹجک ضرورت کے طور پر ناگزیر کہہ کر پیش کیا۔ تاہم ان کے بیانات نہ صرف نتائج کے دعوؤں بلکہ حملوں کے دائرہ کار، درستگی اور مقاصد کے حوالے سے بھی یکسر مختلف تھے۔
پاکستان کے فوجی ترجمان ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق، انڈین فوج نے پاکستانی سرزمین کے اندر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (PAK) میں بہت اندر اہداف کو نشانہ بنایا۔ بالاکوٹ پر بمباری کا اس نوعیت کا اگرچہ پہلا حملہ تھا لیکن اس مرتبہ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کشمیر سے سینکڑوں میل دور بمباری کی گئی۔
خاص طور پر پاکستان کے اندر چار اہداف جن میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، اور شکرگڑھ کے قریب کے شہر اور قصبات شامل تھے یہ تو متنازعہ کشمیر کی سرزمین کے بجائے پاکستان کی سرزمین تھی، جبکہ اضافی اہداف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقوں مظفرآباد اور کوٹلی میں واقع تھے۔ اس طرح کی پاکستان کی سرزمین پر بیک وقت ایسے حملے 1971 کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کیے گئے ہیں جنھیں پاکستانی حُکام اور میڈیا ڈاؤن پلے کر رہے ہیں۔
بہرحال پاکستان کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور مذہبی مقامات کو تباہ کیا گیا—خاص طور پر چار مساجد۔ بہاولپور کے قریب احمدپور شرقیہ میں، سبحان مسجد پر چار فضائی حملے ہوئے، جس میں ایک تین سالہ بچی سمیت پانچ شہری ہلاک اور اکتیس دیگر زخمی ہوئے۔ اسی طرح کی تباہی مظفرآباد میں بلال مسجد کے انہدام اور کوٹلی میں عبّات مسجد کے نشانہ بننے کے بعد دیکھنے میں آئی، جس میں دو نوجوان ہلاک ہوئے۔
مریدکے کی اُمّ القراء مسجد کو بھی شدید نقصان پہنچا اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ جبکہ سیالکوٹ اور شکرگڑھ کے قریب دو اضافی حملے ہوئے، ان میں کم یا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کم از کم ایک میزائل ناکام ہوا اور دوسرا کھلے میدان میں گر گیا۔
اس کے برعکس انڈین فضائی کارروائی کے جوابی حملوں میں پاکستان زیادہ محدود اور جغرافیائی طور پر محدود و محتاط نظر آیا ہے۔ اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق، پاکستان کے تمام دعویٰ کردہ اہداف بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں واقع تھے، خاص طور پر لائن آف کنٹرول (LoC) کے ساتھ دودھنیال سیکٹر میں۔ ابھی تک پاکستان کسی ایسے شہر یا قصبے کا نام نہیں لیا ہے جو انڈیا کی سرزمین ہو اور اُسے ہدف بنایا گیا ہو۔
پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے اس متنازعہ خطے میں ایک بھارتی فوجی چوکی کو تباہ کیا اور مزید یہ کہ اس نے بھارتی فوج کی ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا، اگرچہ صحیح مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک جاسوسی ڈرون مار گرائے۔ تاہم بھارت نے ان نقصانات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے مگر نجی میڈیا تصدیق کر رہا کہ انڈیا کے لڑاکا طیارے تباہ ہوئے ہیں۔ انڈیا نے اس سے قبل صرف لائن آف کنٹرول کے ساتھ پاکستانی گولہ باری کے نتیجے میں تین شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا تھا۔
اہداف کے انتخاب میں یہ تضاد جوابی کارروائیوں کے پیمانے اور مقصد میں ایک اہم عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ بھارت نے پاکستان کے اندر چار تصدیق شدہ اہداف کو نشانہ بنایا—جو متنازعہ کشمیر سے کہیں آگے تھے—اور دوسری طرف پاکستان نے اپنی جوابی کارروائیوں کو مکمل طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر تک محدود رکھا۔ پاکستان نے امرتسر، چندی گڑھ، گورداسپور یا فیروزپور وغیرہ جیسے شہروں پر حملہ نہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی کارروائی ٹکر کی نہیں تھی۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا جواب، اگرچہ طاقتور کہا جا رہا ہے اور شاید مؤثر بھی ہو، لیکن محتاط تھا—شاید متنازعہ علاقے سے باہر تصادم کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اور ایک “کریڈیبل ڈیٹیرنس” کا اشارہ بھی دیا گیا ہو۔ اگر پاکستان انڈیا کی سرزمین پر بھی حملہ کرتا تو پھر پاکستان کی کارروائی براہ راست انڈیا پر حملہ ہوتا۔ اس طرح اگرچہ انڈیا نے ریڈ لائن کراس کی، لیکن پاکستان نے نہیں کی۔
حملوں کی سرکاری تشریح میں بھی ایک قابل ذکر فرق ہے۔ انڈیا نے واشگاف طور پر کہا ہے کہ اس کے اہداف “دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر” تھے نہ کہ پاکستان کے فوجی یا شہری ادارے، حالانکہ پاکستان انڈیا کے اس بیان کو مساجد اور شہریوں گھروں کو نشانہ بننے کی طرف اشارہ کر کے مسترد کرتا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان نے کھلے عام دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور فضائیہ کے اثاثے شامل تھے—جس میں فوجی، نہ کہ شہری، اہداف پر زور دیا گیا۔ یہ فرق نہ صرف اسٹریٹجک انتخاب بلکہ بین الاقوامی ردعمل کو سنبھالنے کے مختلف طریقوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
6-7 مئی کے واقعات بھارت-پاکستان سرحد پر امن کی خطرناک نزاکت کو واضح کرتے ہیں۔ ہتھیاروں کی لڑائی سے پرے بیانات کی لڑائی ہے—ہر طرف دوسرے کو بدنام کرتے ہوئے اپنی لیجیٹیمیسی کا دعویٰ کرنے کی کوشش۔ حملوں کی نوعیت اور اہداف کے جغرافیہ میں واضح عدم توازن تصادم اور ضبط کی مختلف حدوں کو ظاہر کرتا ہے۔ انڈیا کے پاکستانی علاقے میں اندر، زیادہ اشتعال انگیز حملوں کا جواب پاکستان کی طرف سے فوجی طور پر واضح، لیکن جغرافیائی طور پر محدود رہا۔
ایسے تصادم غلط فہمیوں کو مکمل جنگ میں بدلنے سے روکنے کے لیے تنازعہ کی سنگینی کو کم کرنے کے طریقہ کار اور شفاف کمیونیکیشن چینلز کی فوری ضرورت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے اپنی کارروائی کا فی الحال کوئی نام بیان نہیں کیا، لیکن انڈیا نے اسے “آپریشن سیندور” کا نام دے کر اِسے اُن بیواؤں کے نام کیا ہے جن شوہر اُن کے سامنے پہلگام میں قتل کیے گئے۔ پاکستان کو کم از کم ٹکر کا ایک مظلومانہ بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔

نوٹ؛تحریر کااصل  عنوان طوالت کے باعث مختصر کیا گیا ہے

julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply