قبلہ و کعبہ و چند دیگر مقدس مقامات حضرت عابد نواز صاحب !
آپ سے فون پر بات کر کے مجھے اتنی حیرت و مسرت ہوئی کہ اس کے بعد کافی دیر تک میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی رہی۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ مجھے آپ کی دوستی بہت عزیز ہے کیونکہ اس دوستی میں اخلاص کی شیرینی بھی ہے اور بے تکلفی کی خوشبو بھی۔ بچپن کی بہت سی دوستیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ آپ نے ہی مجھے بتایا کہ سکول کی چھٹی جماعت سے شروع ہونے والی ہماری دوستی کی عمر ساٹھ برس سے بھی زیادہ ہے۔
آپ کا حافظہ کمال کا ہے۔ آپ کو ہمارے بچپن‘ نوجوانی اور جوانی کے نجانے کتنے ایسے واقعات یاد ہیں جومیرے ذہن کے اوراق سے کب کے مٹ چکے ہیں ۔ اسی لیے مجھے آپ سے خطوط کے تبادلے کا خیال آیا کہ آپ کی وساطت سے شاید میرا اپنے ماضی کی بہت سی بھولی بسری یادوں سے دوبارہ تعارف ہو جائے۔
چونکہ ہماری کئی برسوں بلکہ کئی دہائیوں سے بات چیت نہیں ہوئی اس لیے میں نے سوچا کہ میں پہلے خط میں آپ کا اپنی درویشانہ زندگی سے مختصر تعارف کروا دوں۔
میں نے جب 1984میں کینیڈا کے نیوبرنزوک کے صوبے سے اونٹاریو کے صوبے میں ہجرت کی تو ٹورانٹو شہر سے پچاس کلومیٹڑ مشرق کے ایک چھوٹے سے شہر وھٹبی میں کام کرنا اور رہنا شروع کیا۔ پہلے تو میں دس سال وھٹبی کے نفسیاتی ہسپتال میں بطور ماہر نفسیات کام کرتا رہا اور پھر میں نے اپنا کرئیٹیو سائیکوتھیرپی کلینک کھولا جہاں میں پچھلے تیس برس سے اپنے نفسیاتی مریضوں اور ان کے خاندانوں کی خدمت کر رہا ہوں۔
ٹوارنٹو ہجرت کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ کینیڈا میں اردو کے سب سے زیادہ ادیب شاعر اور دانشور یہاں رہتے ہیں اور میں ان کی ادبی تقریبات میں شریک ہونا چاہتا تھا۔
میں نے 2002 میں ایک ادبی اور سماجی گروپ کی داغ بیل ڈالی جس کا نام “فیملی آف دی ہارٹ” ہے۔ ہم باقاعدگی سے ادبی محفلوں کا اہتمام و انتظام کرتے ہیں اور نئے لکھاریوں کا پرانے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے تعارف کرواتے ہیں۔
میرا ادبی سفر جاری ہے
پچھلے سال میری دو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں
انگریزی کی کتاب کا نام
BECOMING FULLY HUMAN
ہے جو میرے مختلف نفسیاتی اور سماجی موضوعات پر مکالموں کا انتخاب ہے
اور اردو کی کتاب کا نام
سالک
ہے جسے لاہور کے سانجھ پبلشر نے چھاپا ہے وہ میری مختصر استعاراتی خود نوشتہ سوانح عمری ہے۔ اگر آپ اسے پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو میں اس کی پی ڈی ایف فائل آپ کو وٹس ایپ پر بھیج سکتا ہوں۔
میں وھٹبی میں ایک تین بیڈ روم کے کونڈومینیم میں رہتا ہوں۔ میں اسے درویش کی کٹیا کہتا ہوں۔ یہ وہ کٹیا ہے جس کے بارے میں لکھا تھا
ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے
یہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں۔
اس درویش کی کٹیا میں کئی دوستوں نے قیام کیا ہے۔
آپ کے لیے بھی میرے دل اور کٹیا کے دروازے کھلے رہیں گے۔
یہاں جو دوست مجھ سے ملنے آئے تھے ان میں سے ایک ہمارے مشترکہ دوست سہیل زبیری بھی ہیں۔ میں نے ان کےساتھ دو کتابیں لکھی ہیں۔ جن کا نام
RELIGION SCIENCE AND PSYCHOLOGY VOL 1/2
ہے۔ ہم نے انہیں امریکہ سے پہلی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر بلایا تھا۔ وہ فیملی آف دی ہارٹ کے دوستوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور ہمارے دوستوں نےبھی سہیل زبیری کے لیکچر اور مکالمے سے سائنس کے بارے میں بہت کچھ سیکھا اور جانا۔
میں نے آج سہیل زبیری کو فون پر بتایا کہ میری آپ سے دلچسپ گفتگو ہوئی ہے تو انہوں نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب وہ اگلے ہفتے پاکستان جائیں تو آپ سے ملاقات کریں۔ وہ بھی آپ کے بارے میں بڑی محبت اور اپنائیت سے باتیں کرتے ہیں۔
میں جس شہر میں رہتا ہوں اس کا نام وھٹبی ہے۔ جب میں چالیس برس پہلے یہاں وارد ہوا تھا تو اس کی آبادی صرف تیس ہزار تھی چالیس برسوں میں اس کی آبادی ایک سو تیس ہزار ہو چکی ہے۔ یوں لگتا ہے ہر دس سال میں آبادی دگنی ہو جاتی ہے۔
اس شہر کے قریب دو جھیلیں ہیں۔۔۔
لیک اونٹاریو اور لیک سکوگا گ
مجھے دونوں جھیلیں بہت پسند ہیں۔ میں اور میری محبوبہ عظمیٰ عزیز گرمیوں میں ان جھیلوں کے کنارے سیر کے لیے جاتے ہیں۔ عظمیٰ عزیز کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ شہر بریمپٹن میں رہتی ہیں جو میرے شہر سے ایک گھنٹے کی ڈٖرائیو کے فاصلے پر ہے۔ وہ مالٹن وومن کونسل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور ایک منفرد اور ہردلعزیز فنکارہ ہیں۔ ان کےوالد عزیز الحق ایک سکالر اور دانشور تھے جو جوانی میں ہی فوت ہو گئے۔ ان کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے
مصطفیٰ زیدی کا شعر یاد آ رہا ہے
اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا
عظمیٰ اور میں نے مل کر ان کے والد کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام
عزیز الحق۔۔۔لاہور کا سقراط
ہے
عظمیٰ اور میں پیر سے جمعہ تک تو اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں مصروف رہتے ہیں لیکن ہم ویک اینڈ اکٹھے گزارتے ہیں اور زندگی کی رعنائیوں رنگینیوں اور شادابیوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔
اب میں کہہ سکتا ہوں کہ میری زندگی پر سکون ہے۔
وہ میری محبوبہ کی طرح مہربان ہے۔
قبلہ و کعبہ !
آپ کی بڑھاپے کی محبت کے بارے میں کیا رائے ہے؟
میں جب ستر برس کی عمر میں ایک دختر خوش گل کی زلف کا اسیر ہوا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے
بڑھاپے میں دبے پاؤں جوانی لوٹ آئی ہے
کہ جیسے اب فسانے میں کہانی لوٹ آئی ہے
حضرت عابد و زاہد !
آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ روایت کی شاہراہ پر چلتے ہیں لیکن میں نے جوانی سے ہی اپنے لیے روایت کی شاہراہ کی بجائے من کی پگڈنڈی کا چناؤ کیا تھا اور اب جبکہ زندگی کی شام آ گئی ہے میں اب بھی اسی پگڈنڈی پر چل رہا ہوں اور خوش ہوں۔
نہ کوئی شکوہ نہ شکایت
نہ کوئی ندامت نہ خجالت
فیض احمد فیض کا شعر یاد آ رہا ہے
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
حضور والا !
آپ جب کینیڈا میں ایک سال میرے ساتھ رہے تھے اور آپ نے شراب و کباب و شباب سے اجتناب کیا تھا تو مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ کی اور میری دوستی
خالد سہیل۔۔۔۔ایک پاپی
اور
عابد نواز۔۔۔ایک پارسا
کی دوستی ہے۔
پاپی نے تو اپنی درویشانہ زندگی کا مختصر تعارف کروا دیا ہے جس کا فلسفہ حیات یہ ہے کہ
مل جائے تو شکر نہ ملے تو صبر
اب اسے پارسا کی زندگی کے تعارف کا انتظار رہے گا۔
آپ ماہر امراض چشم ہیں اور اپنے مریضوں کی SIGHT بصارت کا خیال رکھتے ہیں اور میں ماہر نفسیات ہوں جو اپنے مریضوں کی INSIGHT بصیرت کا خیال رکھتا ہے۔
یہ آپ کی دلچسپ گفتگو کی کرامت ہے کہ میں نے آج شام گھر آتے ہی ایک ہی نشست میں آپ کو اتنا طویل خط لکھ دیا۔
اب آپ کے محبت نامے کا انتظار رہے گا۔
آپ کا بچپن کا دوست
خالد سہیل پانچ دسمبر ۲۰۲۴ رات گیارہ بجے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خط نمبر ۲۔۔۔۔رخصتی کا پیام لائی ہے
ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط
زندگی کی جو شام آئی ہے
(رخصتی کا پیام لائی ہے)
سہیل
“آتا نہیں مجھے قبلہ قبلی”
آپ کے القاب و آداب و تکریمات نے مجھے لاجواب کر کے چھوڑا ہے لہذا ذہن میں اکبر الہ آبادی کا متذکرہ مصرع ہی آ رہا ہے جس کی تفصیل یقیناً آپ کے علم میں ہوگی لیکن دلچسپ ہونے کے باعث اس سے متعلق واقعے کا ذکر نامناسب نہیں لگتا۔
علامہ شبلی نعمانی اور اکبر الہ آبادی کسی دعوت میں اکٹھے ہوئے تو اکبر نے شبلی کو دعوتِ طعام دیتے ہوئے ایک شعر پڑھا۔
بات یہ ہے کہ بھائی شبلی
آتا نہیں مجھے قبلہ قبلی
جواب میں شبلی نے کہا، کیا خوب قافیہ نکالا ہے آپ نے قبلی کے علاوہ شبلی کا اور کوئی قافیہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر اکبر کچھ سوچنے لگے۔ چند لمحوں بعد بولے۔ کیوں نہیں ہو سکتا۔۔
شبلی نے کہا، تو فرمائیے۔ اکبر بولے، ‘‘لِب لی’’ ہو سکتا ہے۔ اس پر شبلی نے تعجب کا اظہار کیا اور ان سے کہا، یہ کیا ہے؟
اکبر خاصے موڈ میں تھے۔ بولے سند پیش کروں؟
شبلی نے کہا ضرور، ضرور۔
تب اکبر الہ آبادی نے یہ شعر پڑھا۔
تم بھی اس راہ پر چلے شبلی
عشق نے آبروئے غالب لی
سہیل ہم تو قبلہ و کعبہ ہونے سے رہے لیکن آپ کے لیے دل چاہتا ہے کہ مرزا غالب کے “قبلہ حاجات” کا نذرانہ پیش کروں جس میں میرے پیشے (آنکھ) کا ذکر بھی آ گیا ہے اور ساتھ ہی خرابات کی چاشنی بھی شامل ہے
یعنی :
مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
بھوں پاس آنکھ قبلہء حاجات چاہیے
آپ کی پسند اور شوخیِ طبع کے پیش نظر قبلہ کے کچھ اور حقائق بھی پیش خدمت ہیں جہاں اعراب کے ردوبدل سے کمال کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں
قبلہ کے ق پر اگر پیش لکھا جائے یعنی قُبْلَةُ تو عربی میں اس کا معنیٰ بوسہ ہوتا ہے
اور اگر ق پر زبر اور ب کے نیچے زیر لکھا جائے یعنی قَبِلَہ تو مطلب ہو جاتا ہے بیوی یا جورو
آپ نے بچپن، نوجوانی اور جوانی کا ذکر کیا ہے تو اس سلسلے میں ذہن میں محفوظ واقعات کا تذکرہ ہوتا رہے گا لیکن پہلے کچھ تاثرات کی بات ہو جائے
فیملی آف دا ہارٹ کی داغ بیل کے حوالے سے آپ واقعی اہل دل کے محسن ہیں اور یقیناً ہارٹ آف دی فیملی ہیں بلکہ یہاں فیملی کی آخری “ی “کو حذف کر دینا چاہیے
درویش کی کٹیا کی زیارت میرے لیے حد درجہ باعث افتخار ہوتی لیکن عملاً اب یہ بہت دشوار ہے
اس کٹیا میں بے گھروں کا کھلنا بھی قابل تحسین ہے کسی زمانے میں اپنی کٹیا کے بارے میں آپ کا یہ کہنا بھی مجھے یاد ہے کہ
ہمارا گھر ہے بے گھروں کی طرح
ہاں یہ گھر ایسا بے رونق بھی نہیں رہتا اور معاملہ یوں بھی ہو جاتا ہے کہ
شام کی چائے پینے آئی تھی
صبح کا ناشتہ وہ کھا کے گئی
آپ کی کتاب “سالک” کو پڑھنے کا شرف ضرور حاصل کرنا چاہتا ہوں
وٹس ایپ پر اس کے پی ڈی ایف فائل کے لیے مشکور رہوں گا
آپ نے ہمارے مشترک دوست سہیل زبیری کا ذکر خیر کیا ہے وہ ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہے ہیں اور اُن کی دوستی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں میری کوشش ہے کہ اگلے ہفتے اُن سے ملاقات کر سکوں
شراب، کباب اور شباب کے لطف و سرور کا انکار کسے ہو سکتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ اس کی توفیق کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے اور پھر فطری رجحان کا ہونا اور نہ ہونا بھی آڑے آجاتا ہے یہاں تک کہ ہمارے ذہن میں تو عبدالحمید عدم کا پیش کردہ جواز بھی نہ آ سکا یعنی
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدم
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
عدم کو بھی کمال کی بات سوجھی ہے
آپ نے مجھے پارسا کا رتبہ دیا ہے پارسائی کا دعویٰ تو یہ “رفیقِ درویش” کبھی نہیں کرے گا ہاں پارسا کے حروف کی ترتیب بدل کر “سراپا” ذہن میں آیا ہے اور دو اشعار کی صورت میں ڈھل گیا ہے
پارسائی کا سراپا پہنا
ہم نے دنیا میں کیا کیا پہنا
کچھ تھا رنگینیِ قبا کا کمال
اور کچھ ہم نے خوش نما پہنا
پارسائی کے ناطے، کینیڈا میں قیام کے دوران ایک دلچسپ واقعہ سن لیں
حسن و شباب کے نقطۂ عروج کی حامل ، لیلیٰ ادا پری وشوں کی محفل آپ کی ادا شناس نظروں کے سامنے، میری غیر موجودگی میں، جمی ہوئی تھی جس کا احوال بعد میں آپ نے سنایا تھا ہوا یوں کہ باتوں باتوں میں موضوع میری “پارسائی” کی طرف چل نکلا اور قیاس آرائی ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک پری پیکر نے اس شک کا اظہار کر ڈالا کہ
Is he sure about his sexual orientation?
یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھ جیسے غفلت شعار کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں
اس واقعے پر مجھے جو بے اختیار ہنسی آئی تھی وہ ابھی تک ذہن پر نقش ہے
یہ بھی بتا دوں کہ خود کو پاپی کہنے والے دوست کی دوستی مجھے از حد عزیز ہے جن کا اخلاص، اپنائیت اور محبت نایاب ہے۔
آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ بزم ہائے لیل و نہار میں باہم شرکت کے بعد ہم کئی دہائیوں تک ایک دوسرے سے مخاطب نہیں ہو سکے یعنی بقول ابتہاج ترابی
تیری بزم لیل و نہار میں جو عیاں ہوا
نہ یہاں ہوا،نہ وہاں ہوا ،تو کہاں ہوا؟
بڑھاپے کے عشق کے بارے میں بھی آپ داد کے مستحق ہیں یہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ایرے غیرے کیا بیچتے ہیں
دل بھی عجب شے ہے جب مچلتا ہے تو ماہرِ نفسیات کے قابو میں بھی نہیں آتا
یہ یقیناً روح پرور شغل ہے یعنی بقول غوث خواہ مخواہ
میں اک انسان ہوں تو عاشقی کب تک نہیں کرتا
مرے سینے میں جو ہے دل کیا دھک دھک نہیں کرتا
مجھے اس عاشقی میں اس لیے بھی لطف آتا ہے
بڑھاپے کی وجہ سے کوئی مجھ پر شک نہیں کرتا
البتہ بڑھاپا ایسا نہ ہو کہ کسی “بوڑھی آپا” کے ہتھے چڑھ جائیں
زندگی کی تگ و دو کے باوجود درویشی آپ کا خاصہ رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مستقل اپنی تلاش بھی ایک قصہ نا تمام کی صورت آپ کی شخصیت کا جوہر رہی ہے
اس بارے میں ذہن میں کچھ یوں آ رہا ہے کہ
درویش کو نبھانی تھی اپنی تلاش بھی
دائم مگر مخل رہی فکرِ معاش بھی
آپ نے روایت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی بات کی ہے اور اسے نبھایا بھی خوب ہے
اس سلسلے میں شکر اور صبر سے آپ کا کام لینا آپ کی فطرت کا انمول تحفہ اور حسن ہے کاش یہ فطرت ہرجائی ہو کر سب کے حصے میں آتی
بقول دلاور فگار
عمر اب تک تو صاف گزری ہے
قاعدے کے خلاف گزری ہے
سہیل یہ خط بہت طول پکڑ رہا ہے لہذا سائٹ اور ان سائٹ کا ذکر، جھیلوں سے آپ کی رغبت، اس رفیقِ درویش (بقول آپ کے پارسا) کی سیدھی سادی مختصر سوانح حیات اور ذہن میں عمر رفتہ کی جو یادیں نقش ہیں ان کا احوال اگلی تحریروں پر اٹھا رکھتا ہوں جن میں آر اے بازار سکول، ایڈورڈز کالج، خیبر میڈیکل کالج، ایران اور کینیڈا کے دلچسپ واقعات شامل ہیں
آپ کا دیرینہ رفیق درویش
عابد نواز

١٠ دسمبر ٢٠٢٤
Facebook Comments

A salute to the teachers, the schools, and the city that can produce two friends who match each other so well in literary style and poetic expression. A tremendous pleasure, reading the exchange. The word play of Dr. Abid Nawaz is impressive and the hope is that it does not get in the way of genuine expression and revelation of the self as well. But he was aware of this in the first letter and promises more of that in the letters to come. And we look forward to the letters to come. Gratitude to you both for sharing the exchange with us. 🙏🙏🙏