سنیما کا سناٹا/حسنین نثار

کبھی پاکستان کی فلمی صنعت برصغیر میں ایک الگ پہچان رکھتی تھی۔ لاہور کی فلمی نگری، جسے “لالی ووڈ” کہا جانے لگا، روشنیوں، رنگوں، کہانیوں اور جذبوں سے جگمگاتی تھی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی کا دور سنہرا تھا، جب سنیما گھروں کے باہر لمبی قطاریں لگتی تھیں، اور فلمی اداکار دیومالائی کرداروں کی طرح عوام کے دلوں میں بستے تھے۔ نور جہاں کی آواز، محمد علی کا وقار، وحید مراد کا جادو، بابرہ شریف کی معصومیت، سب کچھ ایک خواب جیسا لگتا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب فلم صرف تفریح نہیں تھی، بلکہ ایک ثقافتی تجربہ تھی۔ سادہ کہانیاں، دیسی جذبات، اور مقامی خوشبوؤں سے لپٹی ہوئی فلمیں پورے معاشرے کی عکاسی کرتی تھیں۔ محبت، جدوجہد، وفاداری اور قربانی جیسے جذبات کو سنیما اسکرین پر اس خوبصورتی سے اتارا جاتا کہ دیکھنے والے اپنی ذات کو ان کہانیوں میں تلاش کرتے تھے۔

مگر پھر وقت بدلا، مزاج بدلے، اور دھیرے دھیرے وہ چمک ماند پڑنے لگی۔ 1980 کی دہائی کے بعد جیسے فلم انڈسٹری نے لڑکھڑانا شروع کیا۔ مار دھاڑ، غیر معیاری مکالمے، اور سطحی کہانیوں نے فلم کو فن کی بجائے صرف ایک مصنوعی شور بنا دیا۔ کہانی کی جگہ ایکشن نے لے لی، جذبات کی جگہ چیخ و پکار نے، اور فن کی جگہ دھونس اور بدنما تجربات نے۔

سنیما گھر ویران ہونے لگے، فنکار بےرنگ، ہدایتکار بےسمت، اور ناظرین بےزوق ہوتے چلے گئے۔ جن فلموں کا انتظار کبھی پورا شہر کرتا تھا، وہ اب ایک دو دن کے بعد ہی یادداشت سے مٹ جایا کرتی تھیں۔ فلم بینوں نے ٹی وی ڈراموں کا رخ کیا، اور پھر غیر ملکی فلموں نے مقامی سنیما کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

فلم انڈسٹری نے کئی بار سنبھلنے کی کوشش کی۔ نئی نسل نے کیمرہ سنبھالا، ہنر دکھایا، مگر فقدان رہا ایک مشترکہ وژن کا۔ نہ کہانی کے لیے وقت نکالا گیا، نہ ہی تکنیکی معیار پر توجہ دی گئی۔ فنکار تو موجود تھے، جذبہ بھی کہیں نہ کہیں تھا، مگر ایک مکمل نظام جو فلمی صنعت کو چلاتا ہے، وہ بکھرتا رہا۔

پھر ایک بار روشنی کی کرن دکھائی دی۔ چند نوجوان فلم سازوں نے دوبارہ امید جگائی۔ “بول”، “خدا کے لیے”، “میں ہوں شاہد آفریدی”، “وار”، “نامعلوم افراد”، “پرواز ہے جنون” جیسی فلمیں آئیں جنہوں نے ایک نئی راہ ہموار کی۔ سنیما گھر بحال ہوئے، شائقین واپس آئے، اور امید جاگی کہ پاکستانی سنیما پھر سے زندہ ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ بحالی بھی مکمل نہ ہو سکی۔ کہیں موضوعات کا تکرار، کہیں تخلیقی ہچکچاہٹ، اور کہیں مارکیٹ کے تقاضوں کی قربان گاہ پر فن کا قتل ہوتا رہا۔ کوالٹی اور کنسسٹنسی وہ عناصر تھے جو پھر بھی ناپید رہے۔

فلم ایک مکمل آرٹ ہے، اور آرٹ کے لیے آزادی، تحقیق، محنت، اور تسلسل درکار ہوتا ہے۔ جب تک ہم فلم کو محض ایک بزنس سمجھتے رہیں گے، اور اس کی روح کو نظرانداز کرتے رہیں گے، تب تک نہ ہی وہ عروج واپس آئے گا، نہ ہی وہ شان جو کبھی “آئینہ”، “ارمان”، “چراغ جلتا رہا”، “دل لگی” جیسی فلموں میں دیکھی جاتی تھی۔

پاکستانی فلم اب بھی زندہ ہے، مگر وہ سانسیں جو کبھی جذبے میں بدلتی تھیں، اب گنتی کی رہ گئی ہیں۔ ضرورت ہے صرف ایک نئے جذبے کی، ایک اجتماعی کوشش کی، جہاں فلم صرف فلم نہ ہو، بلکہ فن، تہذیب، اور معاشرتی شعور کا مظہر بنے۔ شاید تب جا کے ہم پھر کہہ سکیں گے: “پاکستانی فلم واپس آ گئی ہے۔”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply